پاکستانی فوج مخالفین کی زد میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں عسکری تجزیہ نگاروں کے بقول پاکستانی فوج آج کل مخالفین کے براہ راست حملوں کی زد میں ہے۔ درگئی میں رنگروٹوں پر خودکش حملہ ہو، کھاریاں ہو، راولپنڈی میں خفیہ ادارے کی اہلکاروں سے بھری بس ہو یا تربیلا غازی میں میس، فوج کو ہدف بنانے والے کافی اہم اہداف کو بظاہر بڑی آسانی کے ساتھ نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ قبائلی علاقوں میں بھی سکیورٹی فورسز کے لئے حالات میں کوئی بہتری کے آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ بعض مبصرین کے مطابق پاکستانی فوج ایک دلدل میں پھنستی ہوئی نظر آرہی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی سکیورٹی فورسز پر ایسے حملے نہیں ہوئے جیسے آج کل دیکھے جا رہے ہیں۔ ان حملوں سے پہنچنے والے جانی نقصانات کی تعداد سے معلوم ہوتا ہے کہ اہداف کو بڑی ہوشیاری سے چنا جا رہا ہے۔ سکیورٹی فورسز کا مقابلہ بظاہر کسی آسان دشمن سے نہیں۔
بیت اللہ محسود نے ماضی میں جو حملے کیے ان کی ذمہ داری قبول کی لیکن جو حملے اب فوج پر ہو رہے ہیں اس پر وہ خاموش ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوج کو ہدف صرف قبائلی علاقوں سے نہیں کیا جا رہا، یہ مزاحمت اور کہیں سے بھی سامنے آ رہی ہے۔ ان حملوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پہلے صدر جنرل پرویز مشرف، وزیر اعظم شوکت عزیز اور وزیر داخلہ کو نشانہ بنانے میں ناکامی کے بعد براہ راست فوج کو ایک ادارے کے طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ فوج کے ملک کی سیاست سے لے کر پالیسی سازی تک کردار کو دیکھتے ہوئے یہ حملے کوئی زیادہ تعجب کا باعث نہیں۔ اسی کی دہائی میں مذہب کو جن مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا یہ اب اسی کا ردعمل بھی قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم صورتحال میں لال مسجد کارروائی کے بعد آنے والی ابتری بھی ایک ایسی حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ خودکش حملوں کو روکنا تو شاید ممکن نہ ہو، جس کی وجہ سے اتنا بڑا جانی نقصان ہو رہا ہے لیکن قبائلی علاقوں میں سکیورٹی فورسز ایک قدرے مختلف قسم کی صورتحال سے دوچار ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک دو نہیں، دس بیس نہیں بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں سکیورٹی اہلکاروں کو اغواء کیا جا رہا ہے۔ آیا یہ سب واقعات ایک نئے رجحان کا پتہ دے رہے ہیں، ایک وقتی معمہ ہے یا سکیورٹی فورسز کے گرتے حوصلے کا خطرناک اشارہ؟ وزیرستان میں گزشتہ چھ برسوں کے دوران اتنے بڑے پیمانے پر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کا اغواء پہلے نہیں ہوا۔ یہ اس علاقے کی نہیں پاکستان فوج کی تاریخ میں بھی یقینا پہلا واقع ہے۔ آخر کیسے مٹھی بھر مقامی شدت پسند سینکڑوں کی تعداد میں سپاہیوں پر بغیر گولی چلے قابو پاسکے ہیں؟ کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان فوجیوں کے قافلوں کو ایک منصوبے کے تحت پہلے رکاوٹیں کھڑی کر کے روکا گیا اور پھر ان پر قابو پایا گیا۔
عسکری تجزیہ نگار لیفٹنٹ جنرل طلعت مسعود موجودہ صورتحال کو پریشان کن قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہتھیار ڈالنے کا عمل کئی ممکنہ وجوہات کی نشاندہی کرتا ہے۔ ’ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت میں کمی آئی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے مورال اور موٹیویشن پر بھی سوالیہ نشان لگ رہا ہے۔ لیکن جو بات شاید سب سے زیادہ اہم ہے وہ ان کی خفیہ معلومات اکٹھی کرنے میں ناکامی ہے۔‘ دہشت گردی سے محفوظ رہنے کے لئے سب سے بڑا ہتھیار یقینا یہی خفیہ معلومات ہوتی ہیں۔ لیکن جب بار بار ان حملوں کی جڑ کا قبائلی علاقوں میں ہونے کے سرکاری اعتراف کے باوجود کوئی حل نہ نکالا جاسکے تو یہ کیا ظاہر کرتا ہے، خود حکومت بھی برملا قبائلی علاقوں کی موجود صورتحال پر اپنی تشویش ظاہر کرتی رہتی ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کا اس مسئلہ کے حل کے لئے کوئی منصوبہ ہی نہیں ہے۔ ایسے میں اس مسئلے کا حل آیا فوجی انخلاء ہے یا مزید فوج کی تعیناتی؟ لیفٹنٹ جنرل ریٹایرڈ طلعت مسعود کہتے ہیں کہ اس کا جواب بہت مشکل ہے۔ ’آپ اس علاقے سے فوج نکال بھی نہیں سکتے۔ بنیادی طور پر مسئلہ یہ ہے کہ آپ فوج نکالیں اور یہ تاثر دیں کہ وہاں جو لوگ کرنا چاہیں کرسکیں گے تو اکیسویں صدی میں خاص کر نو گیارہ کے بعد اس کی اجازت کوئی نہیں دے گا۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ جنگ اصل میں دل و دماغ جیتنے کی لڑائی ہے۔ یہ روایتی جنگ نہیں ہے اس کے لئے ہر قسم کا لائحہ عمل اختیار کرنا پڑے گا، سیاسی بھی، اقتصادی بھی اور اس کے ساتھ ساتھ جہاں انتہائی ضرورت ہو فوجی بھی۔‘ دل و دماغ کی یہ جنگ جیتنے کے لئے ضروری ہے کہ یہ ٹکراؤ میدانِ جنگ سے نکل کر سیاسی میدان تک پہنچے۔ موجودہ حالات میں فوج کی ساکھ خودکش حملوں اور اغواء کے واقعات سے متاثر ہو رہی ہے۔ اس کا ایک وقار تھا اور اس کا دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتا تھا۔ اس کے لئے سب سے بڑا چیلنج اس تشویشناک صورتحال سے نکلنا ہے۔ |
اسی بارے میں کئی سکیورٹی اہلکار ہلاک13 September, 2007 | پاکستان دس حملہ آور ہلاک، فوجی زخمی09 September, 2007 | پاکستان باجوڑ میں لیویز کی چوکی پر حملہ08 September, 2007 | پاکستان القاعدہ پاکستان میں موجود: مشرف07 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||