ہارون رشید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | مشرف ٹی وی پر ہفتہ وار پروگرام میں مختلف امور پر بات کرتے ہیں |
صدر جنرل پرویز مشرف نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان میں آج بھی القاعدہ اور شدت پسند طالبان موجود ہیں جن میں اکثریت عرب اور ازبک باشندوں کی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ملک کو ایک سافٹ سٹیٹ نہیں بننے دیا جائے گا۔ یہ بات انہوں نے سرکاری ٹی وی چینل پر ہفتہ وار پروگرام ’ایوان صدر سے‘ میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایسی ریاست نہیں بننے دیا جائے گا جہاں امن و امان قائم نہ ہو اور دیگر ممالک میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث عناصر بھاگ کر آئیں اور یہاں پناہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی ایک سنگین قومی مسئلہ ہے۔’ ہم سب کو اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے مل کر اٹھ کھڑے ہونا چاہئے۔ اگر انتہا پسندی پر قابو نہ پایا گیا تو پاکستان کا مستقبل خطرے سے دوچار ہو گا۔‘ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اختیار کردہ حکمت عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر نے کہا کہ انہوں نے چار نکاتی پالیسی وضع کی ہے۔ ’اس کیلئے ہم عسکری کارروائی، سیاسی و انتظامی ترقیاتی عمل پر محیط حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ ہماری سمت ٹھیک ہے۔‘ انہوں نے ملک میں خودکش حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے بھٹکے ہوئے مسلمان بھائی ہیں۔ ’ان کی ہمدردیاں یا تو غیرملکیوں، القاعدہ عناصر اور مسلح طالبان کے ساتھ ہیں جو پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔‘ صدر نے کہا کہ انتہا پسندی کی روک تھام کیلئے ’چھ نکاتی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے تاکہ لوگوں کے ذہنوں کو تبدیل کرتے ہوئے معاشرے میں امن و ہم آہنگی قائم ہو۔‘ ’اس چھ نکاتی حکمت عملی کے تحت مساجد اور لاؤڈ اسپیکر کے غلط استعمال کی روک تھام، منافرت پر مبنی لٹریچر کے پھیلاؤ کی روک تھام، انتہا پسند تنظیموں پر پابندی، اسلام کی حقیقی روح کے مطابق نصاب پر نظرثانی، مدرسہ حکمت عملی پر عملدرآمد اور ایک ایسے ادارے کا قیام شامل ہے جو اسلام کی حقیقی تعلیمات اور اس کی حقیقی روح کو بیدار کرے اور اسلام کا صحیح تشخص اجاگر ہو۔‘ |