BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 May, 2007, 16:43 GMT 21:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ اپنے بچ جانے پر یقین نہیں آ رہا ‘

ایک زخمی شخص
زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچایا گیا
پشاور مرحبا ہوٹل کے مبینہ خودکش حملے کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکہ اتنا زوردار اور شدید تھا کہ اس سے انسانی اعضاء اور لاشیں ریسٹورنٹ سے باہر سڑک پر آگریں۔

ایک عینی شاہد عبد القیوم بخاری نے بی بی سی کو بتایا کہ پچیس افراد کی لاشیں انہوں نے خود اٹھائی ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد زیادہ تھی۔

انہوں نے کہا کہ ’دھماکے کی وجہ سے کچھ لاشیں ہوٹل سے باہر آ گریں جبکہ انسانی اعضاء اور خون بھی سڑک پر جگہ جگہ بکھرا ہوا تھا۔ حملے کی شدت کے باعث سڑک پر جانے والا ایک آٹو رکشہ موٹر سائیکل سے ٹکرایا جس سے موٹر سائیکل سوار بھی ہلاک ہوا‘۔

دھماکے میں زخمی ہونے والے مرحبا ہوٹل کے ایک ملازم اختر محمد نے بتایا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ جیسے ہوٹل کی تین منزلہ عمارت زمین بوس ہو گئی ہو۔

انہوں نے کہا کہ ’مجھے خود بھی یقین نہیں آرہا ہے کہ اللہ تعالی نے مجھے کیسا بچایا ہے کیونکہ اس واقعہ میں میرے کئی دوست جاں بحق ہوئے ہیں۔دھماکے کے بعد ہوٹل میں اچانک ایک اندھیرا سا چھاگیا اور پھر میں بے ہوش ہوگیا۔آنکھ کھلی تو میں ہسپتال میں پڑا ہوا تھا‘۔

زندہ بچنے پر بے یقینی
 ’مجھے خود بھی یقین نہیں آرہا ہے کہ اللہ تعالی نے مجھے کیسا بچایا ہے کیونکہ اس واقعہ میں میرے کئی دوست جاں بحق ہوئے ہیں۔دھماکے کے بعد ہوٹل میں اچانک ایک اندھیرا سا چھاگیا اور پھر میں بے ہوش ہوگیا۔آنکھ کھلی تو میں ہسپتال میں پڑا ہوا تھا
ملازم اختر محمد

انہوں نے بتایا کہ اس ہوٹل پر اکثر اوقات افغان مہاجرین زیادہ آتے تھے کیونکہ اس کا کابلی پلاؤ اور تکہ کباب افغانستان سے آنے والے لوگوں کی مشہور ڈش تھی۔

ایک اور عینی شاہد افتخار نے بتایا کہ ’جب دھماکہ ہوا تو میں اس وقت مسجد مہابت خان میں وضو کر رہا تھا، دوڑ کر باہر آیا تو ہر طرف چیخ وپکار اور لوگوں کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے قیامت ٹوٹ پڑی ہو‘۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ ہوٹل لیڈی ریڈنگ ہپستال کے قریب واقع ہے اس لیے یہاں پر اکثر اوقات کھانا کھانے والوں کا زیادہ رش رہتا تھا۔

ہپستال ذرائع نے حملے میں ہلاک ہونے والے چوبیس افراد کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔ ان میں صدرالدین، قائم الدین، کریم الدین، کریم شاہ، عمران، شوکت، حسن، فضل سبحان، نصیراحمد، عظمت، شریف اللہ، نذیر، محمد، بشیر، شیراز پروینہ، خان محمد، حاجی خیام، جعفر، صلاح الدین، محمد اللہ اور سید اظہر اور ایک خاتون مرجانہ شامل ہیں۔

اسی بارے میں
’حکومت کی بڑی ناکامی‘
15 May, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد