پشاور دھماکے، ازبک کنیکشن؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور کے ایک افغان ہوٹل میں گزشتہ دنوں خودکش حملے میں چھبیس افراد کی ہلاکت کے واقعے کے تانے بانے تحقیقات کے مطابق قبائلی علاقے وزیرستان میں موجود ازبک جنگجوؤں سے ملتے ہیں۔ کابل اور پشاور میں افغان ذرائع کے مطابق اس واردات میں ازبکستان سے تعلق رکھنے والے فراری ازبک جنگجوؤں کا مبینہ ہاتھ تھا۔ پاکستان میں افغان ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے کا نشانہ بننے والے مرحبا ہوٹل کے مالک صدرالدین افغان ازبک جنرل عبدالرشید دوستم کے قریبی ساتھی تھے اور انہوں نے مبینہ طور پر جنرل دوستم سے جنوبی وزیرستان میں ازبک جنگجوؤں کے صفائے کے لیے خطیر رقم حاصل کی تھی۔ پاکستان کی وزارت داخلہ سے جب پشاور دھماکے کے ازبک کنکشن کے بارے میں پوچھا گیا تو ترجمان برگیڈئر (ریٹائرڈ) جاوید اقبال چیمہ نے اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے واقعات کے کہیں نہ کہیں ڈانڈے ضرور ملتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ ہوٹل کے مالک اور جنوبی وزیرستان میں بعض قبائلی عمائدین کی مبینہ ملی بھگت سے مقامی طالبان اور قبائلی لشکر نے ازبک جنگجوؤں کے خلاف ہتھیار اٹھا لئے اور ازبکوں کو جو طالبان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد سے وہاں مقیم تھے، بیدخل کر دیا۔
قاری طاہر یولدیش کی قید میں چار ماہ گزارنے والے بتیس سالہ محمد قربان نے، جو خود بھی افغان ازبک ہیں اور قندوز صوبہ کے چھار درہ ڈسٹرکٹ کے رہائشی ہیں، بتایا کہ وہ جہاد کی غرض سے ازبک مجاہدین کے پاس گیا تھا لیکن ایک ہفتہ کے بعد قاری طاہر کے ڈپٹی محمد نغمگانی نے گرفتار کر لیا اور ایک زیرزمین غار میں قید کر دیا۔ ’’ازبک جنگجو نے ہمیں بہت مارا پیٹا اور ہمیں بہت کم کھانا دیا جاتا اور کبھی کبھی ہم سے مشقت بھی لیا کرتے تھے۔،، محمد قربان نے مزید کہا کہ اس دوران جب قبائلیوں نے ازبکوں کے خلاف لڑائی شروع کر دی تو ان کے سات ساتھی مارے گئے اور باقی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ چھوٹی داڑھی، سیاہ شلوار قمیض میں ملبوس پشاوری چپل پہنے محمد قربان نے مزید بتایا کہ قاری طاہر نے ایک روز دورانِ تفتیش خود مرحبا ہوٹل کا ذکر کیا اور کہا کہ آپ لوگ وہاں پر کتنی مدت کے لیے ٹھہرے تھے۔
محمد قربان نے ڈبڈبائی آنکھوں سے بڑی دھیمے انداز میں کہا کہ وہ نیک جذبہ سے وانا گیا تھا ’’ہو سکتا ہے کہ ہمارے کچھ ساتھی مشکوک تھے لیکن بیشتر بے گناہ تھے۔،، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ ہوٹل کا مالک اس سے پہلے بھی افغانستان کی جیلوں میں قید افراد کے رشتہ داروں سے رقوم لے کر جنرل عبدالرشید دوستم کی ذاتی جیلوں سے قیدیوں کو رہا کراتے رہے تھے۔ پاکستان میں موجود ایک سینئر افغان سفارتکار نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی کہ ہوٹل کا مالک اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ ہم نے جنرل دوستم س اس بارے میں رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان کے دفتر سے کوئی جواب نہیں مل سکا۔ ازبکستان کی حکومت نے کئی مرتبہ پاکستان کی حکومت سے درخواست کی تھی کہ وہ ازبک جنگجوؤں کو اپنی سرزمین سے نکال دیں لیکن پاکستان نے کبھی ازبکستان کو تسلی بخش جواب نہیں دیا اور یہی وجہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں ازبک جنگجو کی موجودگی کی وجہ سے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں پشاور:خودکش دھماکہ، 25 ہلاک15 May, 2007 | پاکستان ’اس گھر کاسب کچھ ختم ہوگیا‘16 May, 2007 | پاکستان خود کش حملہ: لواحقین کو معاوضہ09 June, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||