BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 June, 2007, 08:10 GMT 13:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور دھماکے، ازبک کنیکشن؟

پشاور دھماکہ
پشاور کے افغان ہوٹل میں خودکش حملے میں چھبیس افراد ہلاک ہو گئے تھے (فائل فوٹو)
پشاور کے ایک افغان ہوٹل میں گزشتہ دنوں خودکش حملے میں چھبیس افراد کی ہلاکت کے واقعے کے تانے بانے تحقیقات کے مطابق قبائلی علاقے وزیرستان میں موجود ازبک جنگجوؤں سے ملتے ہیں۔

کابل اور پشاور میں افغان ذرائع کے مطابق اس واردات میں ازبکستان سے تعلق رکھنے والے فراری ازبک جنگجوؤں کا مبینہ ہاتھ تھا۔

پاکستان میں افغان ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے کا نشانہ بننے والے مرحبا ہوٹل کے مالک صدرالدین افغان ازبک جنرل عبدالرشید دوستم کے قریبی ساتھی تھے اور انہوں نے مبینہ طور پر جنرل دوستم سے جنوبی وزیرستان میں ازبک جنگجوؤں کے صفائے کے لیے خطیر رقم حاصل کی تھی۔

پاکستان کی وزارت داخلہ سے جب پشاور دھماکے کے ازبک کنکشن کے بارے میں پوچھا گیا تو ترجمان برگیڈئر (ریٹائرڈ) جاوید اقبال چیمہ نے اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے واقعات کے کہیں نہ کہیں ڈانڈے ضرور ملتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ ہوٹل کے مالک اور جنوبی وزیرستان میں بعض قبائلی عمائدین کی مبینہ ملی بھگت سے مقامی طالبان اور قبائلی لشکر نے ازبک جنگجوؤں کے خلاف ہتھیار اٹھا لئے اور ازبکوں کو جو طالبان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد سے وہاں مقیم تھے، بیدخل کر دیا۔

جنرل رشید دوستم
مرحبا ہوٹل کے مالک صدرالدین افغان جنگجو سردار جنرل عبدالرشید دوستم کے قریبی ساتھی بتائے جاتے ہیں
انتہائی قریبی ذرائع کے مطابق طے شدہ پروگرام کے مطابق پندرہ افراد کو طالبان کے بھیس میں جنوبی وزیرستان میں ازبک جنگجوؤں کے ایک گروہ کے سربراہ قاری طاہر یولدیش کی ملیشیا میں بھرتی ہونے کی غرض سے بھیجا گیا جہاں پر قاری طاہر نے انہیں قید کر لیا۔ بعد میں پندرہ میں سے سات افراد قاری طاہر کی جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

قاری طاہر یولدیش کی قید میں چار ماہ گزارنے والے بتیس سالہ محمد قربان نے، جو خود بھی افغان ازبک ہیں اور قندوز صوبہ کے چھار درہ ڈسٹرکٹ کے رہائشی ہیں، بتایا کہ وہ جہاد کی غرض سے ازبک مجاہدین کے پاس گیا تھا لیکن ایک ہفتہ کے بعد قاری طاہر کے ڈپٹی محمد نغمگانی نے گرفتار کر لیا اور ایک زیرزمین غار میں قید کر دیا۔

’’ازبک جنگجو نے ہمیں بہت مارا پیٹا اور ہمیں بہت کم کھانا دیا جاتا اور کبھی کبھی ہم سے مشقت بھی لیا کرتے تھے۔،،

محمد قربان نے مزید کہا کہ اس دوران جب قبائلیوں نے ازبکوں کے خلاف لڑائی شروع کر دی تو ان کے سات ساتھی مارے گئے اور باقی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

چھوٹی داڑھی، سیاہ شلوار قمیض میں ملبوس پشاوری چپل پہنے محمد قربان نے مزید بتایا کہ قاری طاہر نے ایک روز دورانِ تفتیش خود مرحبا ہوٹل کا ذکر کیا اور کہا کہ آپ لوگ وہاں پر کتنی مدت کے لیے ٹھہرے تھے۔

پشاور
گزشتہ دنوں افغان حکومت کی طرف سے پشاور بن دھماکے کے متاثرین میں چیک تقسیم کیے گئے
محمد قربان نے بتایا کہ قیدیوں کے رشتہ داروں نے قاری طاہر یولدیش سے ہماری رہائی کی درخواست بھی کی جو کارآمد ثابت نہیں ہوئی۔

محمد قربان نے ڈبڈبائی آنکھوں سے بڑی دھیمے انداز میں کہا کہ وہ نیک جذبہ سے وانا گیا تھا ’’ہو سکتا ہے کہ ہمارے کچھ ساتھی مشکوک تھے لیکن بیشتر بے گناہ تھے۔،،

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ ہوٹل کا مالک اس سے پہلے بھی افغانستان کی جیلوں میں قید افراد کے رشتہ داروں سے رقوم لے کر جنرل عبدالرشید دوستم کی ذاتی جیلوں سے قیدیوں کو رہا کراتے رہے تھے۔

پاکستان میں موجود ایک سینئر افغان سفارتکار نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی کہ ہوٹل کا مالک اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔

ہم نے جنرل دوستم س اس بارے میں رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان کے دفتر سے کوئی جواب نہیں مل سکا۔

ازبکستان کی حکومت نے کئی مرتبہ پاکستان کی حکومت سے درخواست کی تھی کہ وہ ازبک جنگجوؤں کو اپنی سرزمین سے نکال دیں لیکن پاکستان نے کبھی ازبکستان کو تسلی بخش جواب نہیں دیا اور یہی وجہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں ازبک جنگجو کی موجودگی کی وجہ سے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔

دھماکوں کی کڑیاں
سرحد دھماکوں پر پولیس تحقیقات کے نتائج
ایک زخمی’قیامت کا سماں تھا‘
اپنے بچ جانے پر یقین نہیں آ رہا: عینی شاہد
ہلاک صدرالدین کے والد چار بیواؤں کا گھر
’اس گھر کاسب کچھ دھماکے میں ختم ہوگیا‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد