خود کش حملہ: لواحقین کو معاوضہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان حکومت نے پندرہ مئی کو پشاور میں ہونے والے خودکش حملوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افغانوں کے لواحقین میں چونسٹھ ہزار ڈالر کی امدادی رقم تقسیم کی ہے۔ اس میں سے ایک ہی خاندان کو بیس ہزار ڈالر کا معاوضہ دیا گیا ہے۔ سنیچرکو پشاور میں افغان کونسل جنرل عبدالخالق فراحی نے ایک تقریب کے دوران ہلاک ہونے والے چودہ افغانوں کے لواحقین میں فی کس چار ہزار ڈالر جبکہ آٹھ زخمیوں میں فی کس ایک ہزار ڈالر کی امدادی رقم تقسیم کی۔ خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے افغان ہوٹل کے مالک صدرالدین سمیت ان کے خاندان کے پانچ افراد جان بحق ہوگئے تھے۔ بیس ہزار ڈالر کی امدادی رقم ہوٹل کے مالک کے بیٹے قمرالدین نے وصول کر لی۔ قمرالدین نے بی بی سی کو بتایا کہ ہوٹل پر ہونے والےخودکش حملے کے بعد بھی انہیں نامعلوم افراد کی جانب سے فون پر قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں اور وہ پاکستان اور افغانستان میں خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ پندرہ مئی کو پشاور میں واقع افغان ہوٹل میں ہونے والے خودکش حملے میں تقریباً چھبیس افراد ہلاک اور چھتیس زخمی ہوگئے تھے ۔ہلاک ہونے والوں میں بارہ پاکستانی بھی شامل تھے۔صوبہ سرحد کی حکومت نے حملے میں ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کے لواحقین کو ایک ایک لاکھ روپے اور زخمیوں کو پچاس پچاس ہزار روپے بطور معاوضہ دینے کا اعلان کیا تھا۔پاکستان میں اس سے قبل مرنے والوں کے لواحقین کو تقریباً تین لاکھ روپے بطور معاوضہ دیا جاتا رہا، جو اب کم ہوکر صرف ایک لاکھ روپے رہ گیا ہے۔ | اسی بارے میں لاپتہ افراد، ورثاء کو معاوضہ دیا جائے08 March, 2007 | پاکستان پشاور دھماکے، کوئی گرفتاری نہیں31 May, 2007 | پاکستان پشاور دھماکہ: دو ٹیمیں تشکیل16 May, 2007 | پاکستان پشاور ائر پورٹ پر دھماکہ28 April, 2007 | پاکستان لواحقین کے لیے خصوصی ٹرین19 February, 2007 | پاکستان پشاور میں بم دھماکہ06 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||