پشاور دھماکہ: دو ٹیمیں تشکیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور بم دھماکے کے مبینہ خودکش حملہ آور کے جسم کے ٹکڑوں کو ڈی این اےٹیسٹ کے لیے اسلام آباد بھجوادیا گیا ہے جبکہ دو تحقیقاتی ٹیموں نے واقعہ کی تفتیش شروع کردی ہے۔ ایس ایس پی پشاور افتخار خان نے بدھ کی صبح بی بی سی کو بتایا کہ جائے وقوعہ سے پولیس کو خودکش حملہ آور کی ٹانگیں، آنکھ اور جسم کے دیگر اعضاء ملے ہیں جنہیں ڈی این ٹیسٹ کے لیے اسلام آباد بھیج دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاحال جو شواہد اکھٹے کیے گئے ہیں ان کے مطابق چارسدہ خودکش حملے میں جو مواد استعمال کیا گیا تھا وہ اس دھماکے میں بھی استعمال ہوا ہے۔ ایس ایس پی نے مزید بتایا کہ جائے وقوعہ سے ایک پین اور کچھ دوسری چیزیں بھی ملی ہیں جس میں پولیس کو تفتیش کرنے میں یقینی طورپر مدد ملے گی۔ افتخار خان کا کہنا تھا کہ واقعہ کی تحقیقات کے لیے دو الگ الگ ٹیمیں مقرر کی گئی ہیں جنہوں نےتفتیش کا آغاز کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک تفتیشی ٹیم وفاقی حکومت کی طرف سے بھیجی گئی ہے جو ابھی بھی جائے وقوعہ پر شواہد اکھٹے کرنے میں مصروف ہے۔ ادھر گزشتہ روز کے دھماکے میں ہلاک ہونے والے ایک ہی افغان خاندان کے جان بحق پانچ افراد کی تدفین کردی گئی ہے۔ یہ افغان خاندان کوچی بازار پشاور میں رہائش پذیر تھا۔ ان میں ہوٹل کا مالک، ان کے دو بیٹے، بھائی اور ایک پوتا شامل ہیں۔ افغان ذرائع کا کہنا ہے کہ ہوٹل کے مالک صدر الدین عرف پہلوان کا تعلق افغانستان کے رشید دوستم کی جنبش ملی پارٹی سے تھا۔ وہ پشاور میں افغان کھیل بزکشی کے مقابلے بھی منعقد کرواتے رہے ہیں۔ | اسی بارے میں خودکش حملہ: چوبیس ہلاک، شیرپاؤ زخمی28 April, 2007 | پاکستان شیرپاؤ پر حملہ: مرنے والے 28 ہو گئے29 April, 2007 | پاکستان پشاور ائر پورٹ پر دھماکہ28 April, 2007 | پاکستان کوئٹہ: گیس پائپ لائن پر دھماکہ02 May, 2007 | پاکستان کوہاٹ: پولیس لائن میں دھماکہ06 May, 2007 | پاکستان مردان: لڑکیوں کے سکول میں دھماکہ11 May, 2007 | پاکستان دھماکہ:سابق فراری کمانڈر زخمی12 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||