اگر ایسا ہو تو کیا ہو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین کا یہ بیان کئی اخباروں میں بڑی خبر کے طور پر چھپا ہے کہ بیگم صہبا مشرف صدارتی امیدوار ہوں گی۔ پاکستان میں اب تک صرف ایک خاتون کا کل وقتی سیاست میں نام آتا تھا جو ہیں بے نظیر بھٹو۔ چند دن قبل میاں نواز شریف کی دوبارہ جلاوطنی کے چند گھنٹوں کے اندر اندر ان کی بیگم کلثوم نواز نے اعلان کیا کہ ’میں آ رہی ہوں‘۔ ویسے تو کلثوم نواز گاہے بگاہے اپنے بیانات یا شخصی حاضری کے ساتھ جز وقتی سیاست میں آتی رہی ہیں لیکن اب ان کا معاملہ شاید کچھ اور رہے۔ لیکن خواتین کی مثلث یا اس کڑی کو پورا کرنے کے لیے اب خاتون اول پاکستان کا طبل چوہدری شجاعت حسین نے بجایا ہے کہ وہ صدارتی امیدوار ہوں گی، یعنی اب وہ بھی سیاست میں ہوں گی۔ یہ وضاحت تو خیر نہیں کی کہ وہ محض ڈمی (خانہ پری والی) امیدوار ہوں گی یا اصلی۔ پتا نہیں چوہدری صاحب کو پتا ہے کہ نہیں کہ دنیا بھر کی خواتین اول مسٹر پریذیڈنٹ کے شانہ بشانہ یا ان کے پیچھے تو ہوتی ہیں لیکن ان کے بدلے خم ٹھونکنے کا کام نہیں کرتیں۔ لیکن چوہدری شجاعت نئی بین الاقوامی ریت ڈالنے کو ہیں، بالکل اسی طرح جس طرح سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی بیوی ہیلری کلنٹن راستہ بنا رہی ہیں۔ بالفرضِ محال اگر ایسا ہوا کہ واقعی صہبا مشرف صدر ہوئیں تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ صدر کو جاندار بنانے کے لیے ان کی مدد مشاورت کون کرے گا۔ ملک کے وزیر اعظم شوکت عزیز اپنے معاملات کے لیے ’گاہے بگاہے‘ راہنمائی صہبا سے لیں گے یا اسی شخص پر زور پڑے گا جو اب تک ہر معاملے میں وزیر اعظم کے سامنے سینہ سپر رہا ہے اور کسی بھی معاملے میں ان پر آنچ نہیں آنے دیتا اور سارے کام’بحسن وخوبی’ انجام پاتے ہیں۔
لیکن اس صورت میں کیا ہوگا کہ اگر صہبا مشرف صدر ہوئیں اور بے نظیر بھٹو وزیر اعظم۔ اصل اقتدار کس کے پاس ہوگا، اب تک کی طرح صدر کے پاس ۔۔۔یا۔۔۔واقعتاً پارلیمانی نظام کے (کی) قائد یعنی وزیر اعظم کے پاس۔ یعنی غیر ملکی دوروں میں پاکستان کی نمائندگی، اقوام متحدہ میں تقریریں، عالمی کانفرنس یا بین الاقوامی اجلاسوں میں شرکت کرنے اور بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کرنے سے لے کر اپنے بچوں اور سیاسی یتیموں کو سنبھالنے تک کا کام کون کرے گا۔ بعض کی رائے یہ ہے کہ ان میں سے (بیگم صہبا مشرف اور بے نظیر ) ایک کی اردو اور دوسری کی انگریزی مضبوط ہے۔ لیکن پوچھا یہ گیا ہے کہ یہ دونوں بات کس زبان میں کیا کریں گی؟ اور اگر دونوں نے فیصلہ کیا کہ وہ مافی الضمیر جس زبان میں ادا کر سکتی ہیں اسی میں بات کریں گی خواہ ترجمہ کرانا پڑے تو ایسی صورت میں کیا ہوگا اگر ترجمے میں غلطی ہوگئی یا کاما (،) غلط لگ گیا۔ مثلاً روکو، مت جانے دو، کے بجائے کاما غلط لگانے پر یہ لکھا گیا کہ روکو مت، جانے دو، اور ایسے محض کامے کی غلطی کے سبب کسی’بڑی چیز‘ کا بٹن دبا دیا گیا تو کیا ہوگا۔ میں بعض مبصرین کی اس رائے سے متفق نہیں ہو پا رہا کہ اب ’مردوں نے عورتوں کی رسوائی کا بیڑہ خود اٹھانے کی بجائے یہ بیڑا عورتوں کو تھما دیا ہے‘ اور اب بقیہ کام وہ خود کریں گے۔ نہ ہی میں ان مبصرین کی رائے سے متفق ہوں جنہوں نے چھوٹتے ہی کہا ہے ’دیکھ لینا اگر یہ تینوں (صہبا ، بے نظیر اور کلثوم) یکجا ہوئیں تو خوب بلیوں کی سی لڑائی ہوگی، ایک دوسرے کو بھمبھوڑیں گی اور جوتیوں میں دال خوب بٹے گی‘۔
اس لیے کہ یہ میرے نزدیک مردوں کی جعلی انا اور خود کو عورتوں سے بہتر سمجھنے والی ذہنیت والے بیانات ہیں۔ کیونکہ خواتین کو خواتین کے ساتھ مل کر کام کرنا خوب آتا ہے۔ مثال کے طور پر بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد اور بیگم خالدہ ضیا کو دیکھ لیجیے۔ آخر کام تو چلانا ہی ہے نا۔۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ مرد حضرات وہاں سڑکوں پر نکلتے ہیں، گھیراؤ جلاؤ کرتے ہیں، ہڑتالیں کرتے ہیں اور کراتے ہیں۔ بلکہ ’عورت مرد کا اور مرد عورت کی ڈھال ہوسکتے ہیں۔ مثلاً بھارتی ریاست بہار میں آخر لالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی (لالو کی بیوی) نے بھی تو کام نبھایا تھا نا۔ جب لالو وزیر اعلیٰ نہیں تو ان کی بیوی وزیراعلیٰ اور لالو گھر گرہستی سنبھالیں اور جب لالو وزیر اعلیٰ تو ان کی بیوی رابڑی نے بقیہ ڈیپارٹمنٹ سنبھالے۔ اسے کہتے ہیں : پاور شیئرنگ‘۔ اگر جنرل مشرف واپس فوج سنبھالیں اور بیگم صدارت سنبھالیں تو کیا مذائقہ ہے، سب کچھ ٹھیک ہی ہے۔ چوہدری شجاعت نے یہ وضاحت نہیں کی کہ انہوں نے صاحب اختیار و اقتدار، صاحب فوج، صاحب معاملہ یعنی جس کی بیوی ہے اس سے پوچھ بھی لیا یا نہیں۔ یا یہ کہ شوشہ چھوڑ کر دیکھا کہ دیکھو اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ |
اسی بارے میں سندھ میں پنجاب کے ردعمل کا انتظار10 September, 2007 | پاکستان نواز کو بینظیر پر برتری ہو گی: کھر 10 September, 2007 | پاکستان بینظیر بھٹو کی وطن واپسی اٹھارہ اکتوبر کو14 September, 2007 | پاکستان ’سپریم کورٹ تک جائیں گے‘05 July, 2005 | پاکستان خواتین کے وفود کے تبادلے پر بات چیت04 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||