اسلم خواجہ حیدرآباد |  |
 | | | نواز شریف کی دس ستمبر کو پاکستان میں آمد متوقع ہے۔ |
نو مارچ کو فوجی وردی کے سامنے انکار سے پیدا ہونے والے سفر کا ایک پڑاؤ دس ستمبر کو راولپنڈی اسلام آباد کے ائرپورٹ پر ہونا ہے جہاں سعودیوں، لبنانیوں اور فوجیوں کی تمام تر مخالفت کے باوجود نواز شریف جہاز سے اتر کر کھلے ٹرک کے ذریعے جی ٹی روڈ سے لاہور جانے کو بضد ہیں۔ معاملہ صرف نواز شریف کی آمد، روانگی، گرفتاری یا اقتدار تک واپسی کے سفر تک محدود نہیں رہتا بلکہ نواز شریف کے استقبال کے لیے پنجاب بھر سے آنے والے افراد کی تعداد اور ان کے خلاف ممکنہ حکومتی کارروائیوں کے خلاف ردعمل کا اثر براہ راست سندھ کی سیاسی صورتحال اور بے نظیر بھٹو کے سیاسی مستقبل پر بھی پڑے گا۔ اکثر سیاسی مبصرین اور کسی حد تک پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سندھ کے عوام بے نظیر اور جنرل مشرف ڈیل پر ناخوش ہیں اور جہاں آئندہ انتخابات میں احتجاج کے طور پر ووٹ نہ دینے کے لیے پر تول رہے ہیں تو دوسری جانب اس مرتبہ سندھ کے لوگ ابتدائی پانچ سات دن سانس روک کے پنجاب کے ردعمل کا انتظار کریں گے اور اگر پنجاب کے عوام نواز شریف کے خلاف کسی بھی ممکنہ حکومتی کارروائی پر ہنگامہ آرائی والا ردعمل ظاہر کرتے ہیں تو ایک ہفتے کے بعد سندھ کے عوام اور پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما بھی اپنی پارٹی پالیسی کو پس پشت ڈال کر فوج مخالف تحریک میں شامل ہو جائیں گے۔  | ردعمل کا انتظار  سندھ کے عوام بے نظیر اور جنرل مشرف ڈیل پر ناخوش ہیں اور جہاں آئندہ انتخابات میں احتجاج کے طور پر ووٹ نہ دینے کے لیے پر تول رہے ہیں تو دوسری جانب اس مرتبہ سندھ کے لوگ ابتدائی پانچ سات دن سانس روک کے پنجاب کے ردعمل کا انتظار کریں گے ۔  مبصرین |
پیپلز پارٹی کے ایک رہنما کا کہنا ہے کہ سندھ کے لوگ فوج کے ہاتھوں بھٹو کے مارے جانے کو ابھی تک فراموش نہیں کر پائے ہیں تاہم 1983ء میں ایک مرتبہ فوج سے ٹکراؤ میں آنے کے بعد اس مرتبہ وہ خود تو اس عمل میں پہل نہیں کرنا چاہتے لیکن سندھی لوک دانش کی بات کے مطابق چونکہ سندھ میں انتقام اور تعزیت پرانے نہیں ہوتے، وہ فوج پر اپنا ایک انتقام ادھار سمجھتے ہیں۔ سندھ میں ان دنوں یہ تاثر جڑ پکڑ چکا ہے کہ اس وقت پنجاب کے عوام کم از کم ماضی کی طرح پاک فوج کے ساتھ نہیں ہیں اور جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کی تحریک کے دوران گھنٹوں بلکہ دنوں پر محیط استقبالوں کے ذریعے وہ اس بات کا ثبوت بھی دے چکے ہیں تاہم سندھ کے باسیوں کو ریاستی جبر سے ٹکرانے پر پنجاب کی آمادگی کا مزید ثبوت حاصل کرنے کے لیے دس ستمبر سے شروع ہونے والے ہفتے کا بے چینی سے انتظار رہے گا۔ دوسری جانب سندھ میں روایتی طور پر ووٹروں کو اپنی جیب میں رکھنے کی دعویدار پیپلز پارٹی انتہائی دباؤ اور لاچارگی کا شکار ہے۔ جہاں ایک طرف تو مقامی، صوبائی اور مرکزی رہنما بھٹو کی جماعت کی فوج سے ڈیل کا دفاع کرنے سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں تو دوسری جانب دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے کے باوجود سندھ میں پیپلز پارٹی کے ووٹروں اور کارکنوں پر اثر و رسوخ رکھنے والوں میں سے ایک مخدوم شاہ محمود قریشی اس مرتبہ خود ملتان سے جاوید ہاشمی گروپ سے سخت مزاحمت ملنے کے امکان کی وجہ سے سندھ میں اپنے مریدوں کو پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے پر مجبور کرنے کے لیے شاید ماضی کی طرح سندھ کے دورے نہ کر سکیں۔
 | | | اعتزاز احسن نے چیف جسٹس کی بحالی کے مقدمے کے دوران عوام اور کارکنوں سے مزید تعظیم حاصل کری |
جبکہ چیف جسٹس کی بحالی کے مقدمے کے دوران عوام اور کارکنوں سے مزید تعظیم حاصل کرنے والے اعتزاز احسن کی جانب سے اس ڈیل کی مخالفت اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ تیسری جانب اطلاعات یہ بھی ہیں کہ اس ڈیل کی وجہ سے بے نظیر بھٹو سے ناراضگی کا دعویٰ کرنے والے غلام مصطفٰی کھر سندھ میں پارٹی کے پرانے اور اہم رہنماؤں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ اس صورتحال میں سندھ میں پیپلز پارٹی کی مشکلات کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ حال ہی میں پنجاب سے پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے سید فخر امام اور بیگم عابدہ حسین کے سندھی سمدھی الہی بخش سومرو نے توقعات کے برعکس پیپلز پارٹی میں شمولیت کی بجائے اپنے نواز شریف کی سربراہی والی مسلم لیگ کا رکن ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نواز شریف کی آمد کے بعد معاملات کے پرامن طور پر نمٹ جانے کی صورت میں بے نظیر بھٹو کے پاکستان کے اقتدار میں آنے کے باوجود وہ اپنی اخلاقی اور سیاسی حمایت سے محروم ہو چکی ہوں گی جبکہ عوامی ردعمل کی صورت میں سندھ کا سیاسی میدان بھی نواز شریف کے ہاتھ میں ہوگا اور سندھی فوج سے بھٹو کے انتقام کے لیے بھٹو کی بیٹی کو تاریخ کے سرد خانے میں دفن کر دیں گے۔ |