BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 September, 2007, 17:34 GMT 22:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایک نیا نواز شریف‘

پاکستان کے معروف صحافی سہیل وڑائچ پاکستان مسلم لیگ کے رہنما میاں نواز شریف کے سوانح نگار بھی ہیں۔ یہ مضمون انہوں نے خصوصی طور پر بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لیے تحریر کیا ہے۔

دس ستمبر دو ہزار سات کو پاکستان واپسی کا ارادہ رکھنے والا میاں نواز شریف، سعودی عرب، قطر، لبنان اور امریکہ کی مدد سے جیل سے رہا ہونے والے میاں نواز شریف سے قطعاً مختلف ہے۔ بےشمار ملاقاتوں کے بعد میرا تجزیہ یہ ہے کہ میاں نواز شریف اپنے والد میاں شریف کی ہدایت اور حکم پر سعودی عرب جلاوطنی پر تیار ہو گئے تھے۔ اس ہدایت کو ماننے کی وجہ ان کا اپنے والد سے بے پناہ پیار اور احترام تھا۔

شریف خاندان کے سعودی عرب جانے کی سب سے بڑی وجہ تو یہ تھی کہ انہیں اندازہ تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی طرح انہیں بھی سیاسی راستے سے ہٹانے کے لیے ختم کیا جا سکتا ہے۔ شریف خاندان کا خیال تھا کہ اس صورتحال سے نکل کر دوبارہ ایک وقت آئے گا کہ جب یہ جنگ پھر سے لڑی جا سکتی ہے۔

سعودی عرب جانے کی دوسری وجہ یہ تھی کہ میاں نواز شریف اپنے بیمار والد کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گذارنا چاہتے تھے۔ چنانچہ جونہی میاں محمد شریف کی وفات ہوئی ایک نیا نواز شریف سامنے آیا جو ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی کے لیے تیار تھا۔ میاں شریف کی وفات کے بعد نواز شریف نے سعودی عرب سے نکلنے اور سیاست میں بھرپور سرگرمی کی منصوبہ بندی کی اور لندن پہنچ کر انتہائی عقل مندی سے مسلم لیگ (ن) کی مردہ سیاست کو زندہ کر دیا۔

میاں نواز شریف کی سوانح عمری لکھنے کے حوالے سے انٹرویوز کے دوران مجھے ان کے ساتھ ملاقاتوں اور گفتگو کے بیسیوں مواقع ملے۔ وہ جو نظر آتے ہیں، اصل میں اس سے بالکل مختلف ہیں۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ میاں نواز شریف بھولے بھالے اور سیدھے سادھے انسان ہیں۔

نواز شریف اپنے بیمار والد کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گذارنا چاہتے تھے

میرا تاثر بالکل مختلف ہے۔ وہ بہت گہرے آدمی ہیں۔ ان کی بظاہر سادگی کے پیچھے بے پناہ ذہانت موجود ہے۔ وہ اپنے ہر ملاقاتی سے سادہ سوالات کرکے اس شخص کا تجزیہ کرتے ہیں جبکہ وہ اپنے خیالات کا اظہار بہت سوچ سمجھ کر کرتے ہیں۔ نواز شریف معاملات کو قطعاً سطحی طور پر نہیں دیکھتے بلکہ وہ بہت باریک بینی سے چیزوں کی گہرائی تک جاتے ہیں۔ وہ جذباتی انسان نہیں، بڑے ہی عملیت پسند سیاستدان ہیں۔ نواز شریف کا دس ستمبر کو واپس آنے کا فیصلہ بھی بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا ہوگا اور اس اقدام کے مضمرات کا بھی لازمی جائزہ لیا گیا ہوگا۔

دس ستمبر دو ہزار سات کو واپس آنے والا نیا نواز شریف جہاں پہلے سے بہادر ہونے کا تاثر دے رہا ہے وہاں فوجی اسٹیبلشمنٹ کا بھرپور مقابلہ کرنے کا عندیہ بھی دے رہا ہے۔ کہنے کو تو میاں نواز شریف بہت سے دوسرے سیاستدانوں کی طرح اسٹیبلشمنٹ کے دوست اور معاون کے طور پر سیاست کے منظر پر طلوع ہوئے تھے مگر اب وہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے لیے سب سے بڑا سیاسی چیلنج بن کر سامنے آ رہے ہیں۔

دوسری طرف ثابت شدہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ پارٹی، پیپلز پارٹی کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اس وقت جمہوریت، سیاست اور پارٹی بازی سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے جس کا جمہوری لیڈرشپ اور فوج مل کر ہی مقابلہ کر سکتی ہے۔

دہشتگردی سے نمٹنا
 عالمی قوتیں اس وقت جنرل مشرف اور بے نظیر بھٹو کے اس نظریے سے زیادہ متفق ہیں کہ دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں صرف لڑائی ہونا چاہیے جبکہ یہ اتفاق نہیں کرتیں کہ دایاں بازو ہی دہشت گردی سے مؤثر طور پر نمٹ سکتا ہے

نواز شریف کے مذہبی رجحانات کا جائزہ لیا جائے تو ایک طرف وہ اور ان کا سارا خاندان پابند صوم و صلوٰۃ ہے تو دوسری طرف ان کے خیالات میں کافی اعتدال پسندی بھی ہے۔

ایک وقت میں وہ پاکستان کے دائیں بازو کے مقبول ترین لیڈر کے طور پر ابھرے تھے لیکن جہاں اپنی وزارت عظمٰی کے آخری دنوں میں امریکی احکامات کو پس پشت ڈالتے ہوئے ایٹمی دھماکے کیے وہاں وہ صدر کلنٹن اور امریکہ کے کافی قریب آ گئے تھے اور افغانستان میں اسامہ بن لادن کے خلاف ایکشن کے لیے تیاری کر رہے تھے۔

لگتا ہے کہ اے آر ڈی سے علیحدگی کے بعد اب ان کی نظریاتی شناخت میں ایک بار پھر دائیں بازو کا عنصر واضح نظر آ رہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف اپنے خالات کے اظہار کے لیے ایک علیحدہ پریس کانفرنس کی ہے۔

تاہم عالمی قوتیں اس وقت جنرل مشرف اور بے نظیر بھٹو کے اس نظریے سے زیادہ متفق ہیں کہ دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں صرف لڑائی ہونا چاہیے جبکہ یہ عالمی قوتیں مولانا فضل الرحمٰن، چودھری شجاعت حسین اور نواز شریف کے اس نظریے سے اتفاق نہیں کرتیں کہ دایاں بازو ہی دہشت گردی سے مؤثر طور پر نمٹ سکتا ہے۔

بڑی رکاوٹ
 میاں نواز شریف کو پاکستان اترنے دیا جائے یا نہیں، وہ دونوں صورتوں میں جنرل مشرف کی سیاسی حکمت عملی کے راستے میں بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں

ہو سکتا ہے کہ پاکستان کی دائیں بازو کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ میں اب بھی نواز شریف کی حمایت ہو کیونکہ پاکستانی لیڈرشپ میں نواز شریف اور شجاعت حسین ہی صرف وہ لیڈر ہیں جن کے ملٹری لیڈرشپ سے گہرے نظریاتی اور شخصی مراسم رہے ہیں لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اب پاکستان کی ملٹری لیڈرشپ اپنے دائیں بازو کے رجحان کے باوجود دہشت گردی سے لڑنے کے حوالے سے مخلص ہے کیونکہ امریکہ کی مالی اور فوجی امداد مشروط ہی دہشت گردی کے ساتھ جنگ کے حوالے سے ہے۔

مجھے لگتا ہے کہ نواز شریف کو اپنی اعتدال پسندی کے حوالے سے مؤقف کو مزید واضح کرنا پڑے گا تبھی جا کر عالمی قوتیں ان کی حمایت پر مائل ہو سکیں گی، وگرنہ یہ قوتیں گرتے ہوئے جنرل مشرف اور دہشت گردی کے خلاف لڑنے پر تیار بے نظیر بھٹو سے ہی اپنی توقعات برقرار رکھیں گی۔

دس ستمبر کو میاں نواز شریف کو پاکستان اترنے دیا جائے یا نہیں، وہ دونوں صورتوں میں ایک بڑی سیاسی قوت بن کر ابھریں گے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ جنرل مشرف کی سیاسی حکمت عملی کے راستے میں بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔ بے نظیر بھٹو اور جنرل مشرف کے درمیان ڈیل کا معاملہ بھی نواز شریف کی واپسی سے متاثر ہو رہا ہے۔

گو پاکستانی سیاست کے معاملات اس وقت بہت کنفیوژن کا شکار ہیں اور یہ کہنا مشکل ہے کہ کل کیا ہوگا لیکن ایک بات طے ہے کہ آنے والے چند دنوں میں اسٹیبلشمنٹ کے لیے سپریم کورٹ کے ساتھ ساتھ میاں نواز شریف ایک بہت بڑا چیلنج بن کر سامنے آ رہے ہیں۔

نواز، شہباز واپسی: لوگ کیا کہتے ہیں؟نواز، شہباز واپسی
گلی، محلوں اور بازاروں میں لوگ کیا کہتے ہیں؟
نواز شریف آمد کی تیاریاں اور گرفتاریںسیاسی ہلچل
نواز شریف کے استقبال کی تیاریاں اور گرفتاریں
نواز کی واپسی
اخبارات میں واپسی کی خبر کی سرخیاں
شہباز شریفمعاہدہ سے انکار نہیں
’بندوق کے زور پر کروائی گئی چیز کی کیا حیثیت‘
 شیری رحمان’خیر مقدم کرتے ہیں‘
پیپلز پارٹی نے نواز شریف اعلان کا خیرمقدم کیا ہے
پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو ’دو،تین ہفتے رہ گئے‘
’صدر مشرف کے ہاتھ سےوقت نکل رہا ہے‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد