BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 September, 2007, 12:40 GMT 17:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر بھٹو کی وطن واپسی اٹھارہ اکتوبر کو

بینظیر بھٹو (فائل فوٹو)
پیپلز پارٹی کے قائدین نے بینظیر کے استقبال کی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے
پاکستان پیپلز پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ بینظیر بھٹو اٹھارہ اکتوبر کو وطن واپس آئیں گی۔ پی پی پی کے اعلان کے مطابق وہ کراچی کے انٹر نیشنل ایئر پورٹ پر اتریں گی۔ اپنی وطن واپسی کے فوراً بعد وہ مزارِ قائد پر حاضری دیں گی۔

اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر نائب صدر مخدوم امین فہیم، سیکریٹری اطلاعات شیری رحمان اور پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے بینظیر بھٹو کی وطن واپسی کا اعلان کیا۔ اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی طرف سے آتش بازی کا مظاہرہ بھی کیا۔

اس اعلان کے سلسلے میں جمعہ کو ملک کے وفاقی اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں سمیت مختلف شہروں میں بیک وقت پریس کانفرنسیں کی کی گئیں۔ لندن میں پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکِٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد یکم ستمبر کو بینظیر بھٹو نے کہا تھا کہ وہ چودہ ستمبر کو اپنی وطن واپسی کی حتمی تاریخ کا اعلان کریں گی۔

بینظیر پر قید کی سزائیں
 انیس سو چھیانوے میں اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد سے بینظیر خودساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ پاکستان میں عدالتوں نے ان کی غیر موجودگی میں انہیں قید کی سزا سنا رکھی ہے جبکہ بعض دوسرے ممالک میں بھی ان کے خلاف کرپشن کے ریفرنس زیر سماعت ہیں۔
بینظیر نے دو روز قبل دبئی میں ایک پارٹی میٹنگ میں اپنی واپسی کے بارے میں صلاح و مشورہ کیا تھا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے قائدین نے پاکستان لوٹتے ہی بینظیر کے استقبال کی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا حالیہ ناکام استقبال بھی بینظیر کے حامیوں کے پیش نظر ہوگا اور وہ ایسی کسی صورتحال سے بچنےکی کوشش کریں گے۔

پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات میں کامیابی کے لیے استقبال کے شو کی کامیابی ازحد ضروری ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بینظیر کی واپسی کے شہر کا انتخاب بھی ان کے استقبال کے سلسلے میں اہم ہے۔

بینظیر بھٹو کے سن انیس سو چھیاسی میں ہونے والے استقبال کو پاکستان کی حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی اجتماع قرار دیا جاتا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بینظیر کا استقبال نواز شریف کے استقبال سے مختلف ہوگا کیونکہ ایک تو پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو سیاسی جد و جہد اور سڑکوں کی سیاست کا گہرا تجربہ ہے اور دوسری بات حکومت سے مفاہمت کی افواہوں نے کارکنوں کو تقویت دی ہے۔

ابھی حکومتی حلقوں کی جانب سے ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں کہ بینظیر سے واپسی کی صورت میں کیا سلوک روا رکھا جائے گا۔

انیس سو چھیانوے میں اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد سے بینظیر خودساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ پاکستان میں عدالتوں نے ان کی غیر موجودگی میں انہیں قید کی سزا سنا رکھی ہے جبکہ بعض دوسرے ممالک میں بھی ان کے خلاف کرپشن کے ریفرنس زیر سماعت ہیں۔

شیخ رشید بے نظیر سے ڈیل کھٹائی میں ہے
شیخ رشید نے کہا ہے کہ بینظیر سے ڈیل کھٹائی میں پڑ چکی ہے۔
بینظیرہوئی یا نہیں ہوئی
مشرف بینظیر ڈیل پر متضاد حکومتی بیانات
پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو ’دو،تین ہفتے رہ گئے‘
’صدر مشرف کے ہاتھ سےوقت نکل رہا ہے‘
سابق وزیراعظم میاں نواز شریفنواز فلائٹ
ہیتھرو سے اسلام آباد تک کا سفر
بے نظیر بھٹووطن واپسی اور وردی
بے نظیر کی صدر مشرف کے ساتھ ’خفیہ مفاہمت‘
شرکتِ اقتدار پیکج
’امید ہے کہ پی پی مشرف مذکرات ناکام نہ ہوں گے‘
اخباراتسعودی عرب واپس
نواز شریف کی جلاوطنی پر اخبارات کا ردعمل
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد