بینظیر درخواست: دو وزراء کو نوٹس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ نے پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کی ایک آئینی درخواست پر وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ اور وفاقی وزیر دفاع راؤ سکندر اقبال کو عدالت میں طلب کرلیا ہے۔ اس درخواست میں انہوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے تین سال قبل شیرپاؤ اور پیٹریاٹ گروپ کے انضمام کی اجازت دینے اور ان دونوں دھڑوں کو پاکستان پیپلز پارٹی کے نام سے رجسٹر کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا ہے۔ خودساختہ جلاوطن سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی جانب سے یہ درخواست تین سال قبل ان کے اٹارنی فاروق ایچ نائیک نے داخل کی تھی اور عدالت نے اسے گزشتہ ماہ کی 9 تاریخ کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کیا تھا۔ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل دو رکنی بینچ اس درخواست کی سماعت کررہی ہے۔ بدھ کو درخواست کی سماعت کے موقع پر فاروق نائیک پیش ہوئے جبکہ اٹارنی جنرل پیش نہیں ہوئے اور ان کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل رضوان صدیقی پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اٹارنی جنرل سپریم کورٹ اسلام آباد میں مصروفیت کی بناء پر پیش نہیں ہوسکے۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی سماعت 18 ستمبر تک ملتوی کرنے کی استدعا بھی کی۔ گزشتہ سماعت پر عدالت نے وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ اور وفاقی وزیر دفاع راؤ سکندر اقبال کو نوٹس جاری کیے تھے تاہم بدھ کو نہ تو وہ خود پیش ہوئے اور نہ ہی ان کی جانب سے کوئی وکیل پیش ہوا جس کا عدالت نے نوٹس لیا اور دونوں وزراء کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیا۔ بے نظیر بھٹو نے اپنی درخواست میں عدالت سے استدعا کی ہے کہ پیٹریاٹ اور شیرپاؤ گروپس کے انضمام کی اجازت دینے اور دونوں گروپس کو پاکستان پیپلز پارٹی کے نام سے رجسٹر کرنے کے چیف الیکشن کمشنر کے احکامات کو غیرقانونی قرار دیا جائے۔ درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 اور الیکشن کمیشن آرڈر 2002 کے تحت چیف الیکشن کمشنر کو یہ اختیار ہی نہیں تھا کہ وہ دونوں گروپس کے انضمام کی اجازت دے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ شیرپاؤ گروپ نے تو اپنے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا تھا تاہم پی پی پی پیٹریاٹ نے پی پی پی کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا تھا اور پھر انہوں نے پارٹی سے منحرف ہوکر پیٹریاٹ گروپ بنایا اس زمانے میں صدر جنرل پرویز مشرف نے آئین کو تو بحال کردیا تھا لیکن آرٹیکل 63 اے جس کے تحت سیاسی وفاداری بدلنے کی صورت میں رکن اسمبلی کو نااہل قرار دیا جاتا ہے اسے معطل رکھا۔ ’پیٹریاٹ نے الیکشن کے بعد مسلم لیگ (ق) کے امیدوار میر ظفراللہ جمالی کو ووٹ دیا جس کی وجہ سے وہ وزیراعظم بن گئے اور پھر انہوں نے حکومت میں شمولیت اختیار کرلی۔‘ درخواست گزار کے مطابق جون 2004ء میں پیٹریاٹ اور شیرپاؤ گروپس کا انضمام ہوا جوکہ قانون و آئین کے خلاف تھا لیکن چیف الیکشن کمشنر نے اس کی توثیق کی اور دونوں گروپس کو پاکستان پیپلز پارٹی کے نام سے رجسٹر کرلیا۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ پی پی پی نے الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن کے لیے 2003ء میں درخواست داخل کی تھی لیکن اسے رجسٹر نہیں کیا گیا اور نہ ہی پی پی پی کے نام سے دونوں دھڑوں کو رجسٹر کرنے سے پہلے اسے کوئی نوٹس دیا گیا۔ |
اسی بارے میں پیٹریاٹ بنانے کےخلاف پٹیشن09 August, 2007 | پاکستان پیپلز پارٹی پیٹریاٹ، مسلم لیگ میں ضم02 March, 2007 | پاکستان سندھ حکومت کو نوٹس جاری03 August, 2007 | پاکستان سندھ حکومت کو جواب کیلیے نو دن22 May, 2007 | پاکستان پی پی پی پیٹریاٹ کی شکایت 17 April, 2006 | پاکستان سندھ: پیپلز پارٹی کا گڑھ کیا ہوا؟26 August, 2005 | پاکستان سندھ ہائی کورٹ، ابتدائی سماعت13 March, 2007 | پاکستان سندھ ہائیکورٹ: جرگوں پر پابندی24 April, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||