پیٹریاٹ بنانے کےخلاف پٹیشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ نے پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کی ایک آئینی درخواست باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرلی ہے جس میں انہوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے تین سال قبل شیرپاؤ اور پیٹریاٹ گروپس کے انضمام کی اجازت دینے اور ان دونوں دھڑوں کو پاکستان پیپلز پارٹی کے نام سے رجسٹر کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا ہے۔ خودساختہ جلاوطن سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی جانب سے یہ درخواست تین سال قبل ہی ان کے اٹارنی فاروق ایچ نائیک نے داخل کی تھی جو کہ اب تک زیر التواء تھی۔ جمعرات کو سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس صبیح الدین احمد اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے درخواست کی سماعت پانچ ستمبر تک ملتوی کردی۔ فاروق نائیک نی بی بی سی کو بتایا کہ درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 اور الیکشن کمیشن آرڈر 2002 کے تحت چیف الیکشن کمشنر کو یہ اختیار ہی نہیں تھا کہ وہ دونوں گروپس کے انضمام کی اجازت دے۔ ان کا کہنا ہے کہ شیرپاؤ گروپ نے تو اپنے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا تھا تاہم پی پی پی پیٹریاٹ نے پی پی پی کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا تھا اور پھر انہوں نے پارٹی سے منحرف ہوکر پیٹریاٹ گروپ بنایا اس زمانے میں صدر جنرل پرویز مشرف نے آئین کو تو بحال کردیا تھا لیکن آرٹیکل 63 اے جس کے تحت سیاسی وفاداری بدلنے کی صورت میں رکن اسمبلی کو نااہل قرار دیا جاتا ہے اسے معطل رکھا۔ ’پیٹریاٹ نے الیکشن کے بعد مسلم لیگ (ق) کے امیدوار میر ظفراللہ جمالی کو ووٹ دیا جس کی وجہ سے وہ وزیر اعظم بن گئے اور پھر انہوں نے حکومت میں شمولیت اختیار کرلی۔‘ درخواست گزار کے مطابق جون 2004ء میں پیٹریاٹ اور شیرپاؤ گروپس کا انضمام ہوا جوکہ قانون و آئین کے خلاف تھا لیکن چیف الیکشن کمشنر نے اس کی توثیق کی اور دونوں گروپس کو پاکستان پیپلز پارٹی کے نام سے رجسٹر کرلیا۔ ’پی پی پی نے الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن کے لئے 2003ء میں درخواست داخل کی تھی لیکن ہمیں رجسٹر نہیں کیا گیا اور نہ ہی پی پی پی کے نام سے دونوں دھڑوں کو رجسٹر کرنے سے پہلے ہمیں کوئی نوٹس دیا گیا۔‘ بے نظیر بھٹو نے اپنی درخواست میں استدعا کی ہے کہ پیٹریاٹ اور شیرپاؤ گروپس کے انضمام کی اجازت دینے اور انہیں پاکستان پیپلز پارٹی کے نام سے رجسٹر کرنے کے چیف الیکشن کمشنر کے احکامات کو غیرقانونی قرار دیا جائے۔ |
اسی بارے میں واپسی کی سماعت 16 تاریخ کو09 August, 2007 | پاکستان انتخابی فہرستیں عدالت میں چیلنج26 June, 2007 | پاکستان ’فاٹا میں سیاست کرنے دیں‘30 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||