BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 June, 2007, 14:30 GMT 19:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخابی فہرستیں عدالت میں چیلنج

بےنظیر بھٹو
بےنظیر بھٹو کے آبائی انتخابی حلقے میں بھی 2 لاکھ 51 ہزار ووٹر حذف کر دیےگیے ہیں
پاکستان کی سابق وزیرِاعظم بے نظیر بھٹو نے نئی انتخابی فہرستوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے اور اس بابت عدالت عظمٰی کی لاہور رجسٹری میں ایک آئینی درخواست دائر کی گئی ہے۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر اور قانون سردار لطیف احمد خان کھوسہ کے توسط سے دائر کردہ اس درخواست میں چیف الیکشن کمیشن، وفاقی حکومت اور شاختی کارڈ جاری کرنے والے ادارے نادرا کے ڈائریکٹر جنرل کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کو حتمی انتخابی فہرستوں کے اجراء سے روک دیا جائے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لطیف کھوسہ نے کہا کہ درخواست میں کہا گیا کہ نئی انتخابی فہرستوں میں نادرا کے کمیپوٹرائزڈ شناختی کارڈ نہ ہونے کے وجہ سے دو کروڑ سے زائد اہل ووٹروں کے ناموں کا اندراج نہیں کیا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ درخواست میں یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ ملک کے آئین میں کوئی ایسی شق نہیں ہے جس کے تحت ووٹ ڈالنے کے لیے شاختی کارڈ کی پابندی عائد کی جا سکے۔ آئین کے مطابق کوئی بھی شہری جس کی عمر اٹھارہ برس سے زیادہ ہو وہ ووٹ ڈالنے کا اہل ہے اس لیے اہل ووٹروں کے انتخابی فہرست میں ناموں کے اندراج کے لیے نادرا کے کمیپوٹرائزڈ شاختی کارڈز کی شرط کو ختم کیا جائے۔

 درخواست میں یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ ملک کے آئین میں کوئی ایسی شق نہیں ہے جس کے تحت ووٹ ڈالنے کے لیے شاختی کارڈ کی پابندی عائد کی جا سکے۔ آئین کے مطابق کوئی بھی شہری جس کی عمر اٹھارہ برس سے زیادہ ہو وہ ووٹ ڈالنے کا اہل ہے

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سنہ دو ہزار دو میں ووٹروں کی تعداد سات کروڑ اٹھارہ لاکھ تھی جو اب آٹھ کروڑ بیس لاکھ ہونی چاہیے تھی جبکہ سردار لطیف کھوسہ کا کہنا ہے کہ دو کروڑ ستر لاکھ ووٹر کم کر دیےگئے ہیں۔

پٹیشن میں اس امر کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ بےنظیر بھٹو کے آبائی انتخابی حلقے لاڑکانہ میں دو لاکھ اکیاون ہزار ووٹروں کو حذف کر دیا گیا ہے ۔

درخواست کے مطابق کسی اہل ووٹر کو انتخابی فہرست میں شامل نہ کرنا شہری کا بنیادی حق صلب کرنے بلکہ انتخابات سے قبل دھاندلی کے مترادف ہے۔

درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملک میں اہل ووٹروں کو انتخابی فہرست میں شامل کیا جائے جس کے بعد یہ انتخابی فہرستیں بلامعاوضہ نہ صرف درخواست گزار اور دیگر سیاسی جماعتوں کو فراہم کی جائیں بلکہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر ان فہرستوں کو جاری کیا جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد