BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 March, 2007, 14:39 GMT 19:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پیپلز پارٹی پیٹریاٹ، مسلم لیگ میں ضم

شوکت، شجاعت
پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کے مرکزی رہنماؤں راؤ سکندر اقبال اور فیصل صالح حیات نے کہا ہے کہ وہ غیر مشروط طور پر مسلم لیگ میں شامل ہوئے ہیں
پاکستان کے حکومتی اتحاد میں شامل جماعت پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کے تیرہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے اپنی جماعت تحلیل کرتے ہوئے حکمران مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان انہوں نے مسلم لیگ ہاؤس میں وزیراعظم شوکت عزیز اور مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس میں کیا۔

پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کے مرکزی رہنماؤں راؤ سکندر اقبال اور فیصل صالح حیات نے کہا ہے کہ وہ غیر مشروط طور پر مسلم لیگ میں شامل ہوئے ہیں۔

وزیراعظم شوکت عزیز اور چودھری شجاعت حسین نے ان کے اعلان کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ وہ مل کر مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لیں گے۔

مسلم لیگ میں شمولیت کرنے والوں میں وزیر دفاع راؤ سکندر اقبال، وزیر ماحولیات فیصل صالح حیات، وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی نوریز شکور، پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن نیازی، اراکین قومی اسمبلی رضا حیات ہراج، اظہر احمد خان یوسف زئی، اسد مرتضیٰ گیلانی ( پیپلز پارٹی کے سینئیر نائب صدر یوسف رضا گیلانی کے بھانجے) ظفر عباس کھوکھر، سردار فیض ٹمن اور عامر یار شامل ہیں۔

مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرنے والے تین اراکین صوبائی اسمبلی کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے۔ جن میں صوبائی وزیر سردار منظور احمد پنہور، عبدالرزاق اور منظور شاہ شامل ہیں۔

قیام سے اختتام تک
 دو ہزار دو میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی منتخب ہونے کے بعد اٹھارہ اراکین نے پیپلز پارٹی پیٹریاٹ نامی نئی جماعت بنا کر صدر جنرل پرویز مشرف کی حمایت کرتے ہوئے حکومت کا ساتھ دیا تھا

قبل ازیں وزیراعظم شوکت عزیز اور چودھری شجاعت حسین فیصل صالح حیات کے گھر گئے تو ڈاکٹر شیرافگن نیازی نے کہا کہ چودھری شجاعت اعلان کریں کہ جو اراکین جس حلقے سے منتخب ہوئے ہیں انہیں آئندہ انتخاب کے موقع پر ان حلقوں کے لیے ٹکٹ ملے گا۔

چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ وہ انہیں مایوس نہیں کریں گے لیکن ان کے مطابق انتخابی ٹکٹ کے فیصلے پارلیمانی بورڈ کرے گا۔ جس پر شیر افگن نیازی نے راؤ سکندر اقبال سے کہا کہ وہ اس بارے میں وضاحت کروائیں لیکن راؤ سکندر اقبال نے کہا کہ جو وعدہ کیا ہے اس پر عمل ہوگا۔

واضح رہے کہ سن دو ہزار دو میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی منتخب ہونے کے بعد اٹھارہ اراکین نے پیپلز پارٹی پیٹریاٹ نامی نئی جماعت بنا کر صدر جنرل پرویز مشرف کی حمایت کرتے ہوئے حکومت کا ساتھ دیا تھا۔

حکومت نے وفاداری تبدیل کرنے کی صورت میں رکنیت منسوخ کیے جانے کے بارے میں قانون کو معطل کرکے پیٹریاٹ کے قیام میں مدد فراہم کی تھی۔ حکومت نے اس نومولود جماعت کے بیشتر اراکین کو وزیر بنایا تھا۔ پیٹریاٹ کے آٹھ اراکین پہلے ہی حکمران مسلم لیگ میں شامل ہوچکے ہیں۔

حکمران مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے پیپلز پارٹی شیر پاؤ کے سربراہ وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ سے بھی مسلم لیگ میں ضم ہونے پر بات کی تھی لیکن انہوں نے معذرت کرلی۔

اسی بارے میں
پشاور میں پی پی پی کا مظاہرہ
06 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد