BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 March, 2007, 08:52 GMT 13:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ ہائی کورٹ، ابتدائی سماعت

وکلاء کا احتجاج
وکلاء نے منگل کو پاکستان بھر میں جنرل مشرف کے خلاف اور چیف جسٹس کے حق میں احتجاج کیا
سندھ ہائی کورٹ میں منگل کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معطلی کے خلاف دائر پٹیشن کی سماعت ہوئی۔

سندھ ہائی کورٹ میں پیر کو سول لبرٹی یونین آف پاکستان کی جانب سے نہال ہاشمی ایڈووکیٹ نے یہ درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ صدارتی آفس نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے۔

’انہیں یہ اختیار نہیں ہے کہ چیف جسٹس کو معطل کریں، یہ اقدام آئین کی خلاف ورزی ہے‘۔

پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس اور ان کے خاندان کو حبس بے جا میں رکھا گیا جس سے عوام میں بے چینی اور بد دلی ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ صدر مشرف کے قدم کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس سرمد جلال عثمانی اور جسٹس علی سائیں ڈنو میتلو کی عدالت میں اس درخواست کی سماعت ہوئی۔

نہال ہاشمی ایڈووکیٹ نے بتایا ہے کہ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ صدر مشرف نے غیر آئینی قدم اٹھایا ہے، ابھی تک چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری حبس بےجا میں ہیں ۔

جسٹس سرمد عثمانی کا کہنا تھا کہ اسی نوعیت کی ایک درخواست سپریم کورٹ میں بھی دائر ہوئی ہے، جس کے بارے میں تفصیلات معلوم کی جائیں۔

اگلی سماعت جمعرات تک ملتوی کردی گئی ہے۔

’شبہے کا وقت‘
کابینہ وہ گھوڑا جسے جب چاہیں، ہانک دیں
 جسٹس افتخارفیصلے کے محرکات
آخر جنرل مشرف نے ایسا کیوں کیا؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد