سندھ ہائی کورٹ، ابتدائی سماعت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ میں منگل کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معطلی کے خلاف دائر پٹیشن کی سماعت ہوئی۔ سندھ ہائی کورٹ میں پیر کو سول لبرٹی یونین آف پاکستان کی جانب سے نہال ہاشمی ایڈووکیٹ نے یہ درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ صدارتی آفس نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے۔ ’انہیں یہ اختیار نہیں ہے کہ چیف جسٹس کو معطل کریں، یہ اقدام آئین کی خلاف ورزی ہے‘۔ پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس اور ان کے خاندان کو حبس بے جا میں رکھا گیا جس سے عوام میں بے چینی اور بد دلی ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ صدر مشرف کے قدم کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس سرمد جلال عثمانی اور جسٹس علی سائیں ڈنو میتلو کی عدالت میں اس درخواست کی سماعت ہوئی۔ نہال ہاشمی ایڈووکیٹ نے بتایا ہے کہ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ صدر مشرف نے غیر آئینی قدم اٹھایا ہے، ابھی تک چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری حبس بےجا میں ہیں ۔ جسٹس سرمد عثمانی کا کہنا تھا کہ اسی نوعیت کی ایک درخواست سپریم کورٹ میں بھی دائر ہوئی ہے، جس کے بارے میں تفصیلات معلوم کی جائیں۔ اگلی سماعت جمعرات تک ملتوی کردی گئی ہے۔ |
اسی بارے میں معطلی: احتجاج، ہڑتال اور مظاہرے10 March, 2007 | پاکستان پاکستانی حکومتیں، جج اور عدلیہ11 March, 2007 | پاکستان ’وہ نظر بند نہیں‘ عظیم طارق 11 March, 2007 | پاکستان افتخار چوہدری، مسئلہ کس کو تھا؟09 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||