BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 April, 2006, 17:43 GMT 22:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پی پی پی پیٹریاٹ کی شکایت

فیصل صالح حیات
’پیپلز پارٹی پیٹریاٹ‘ کے مرکزی رہنماؤں کا اجلاس وزیر دفاع راؤ سکندر اقبال کی صدارت میں ہوا
حکومتی اتحاد میں شامل ’پاکستان پیپلز پارٹی پیٹریاٹ‘ کے رہنماؤں نے اپنی جماعت کے اراکین کو توڑ کر مسلم لیگ میں شامل کرنے پر سخت اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ یہ معاملا صدر جنرل پرویز مشرف اور چودھری شجاعت حسین کے سامنے اٹھائیں گے۔

پیر کو ’پیپلز پارٹی پیٹریاٹ‘ کے مرکزی رہنماؤں کا اجلاس وزیر دفاع راؤ سکندر اقبال کی صدارت میں ہوا جس میں وزیرِ داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ، پارلیمانی وزیر ڈاکٹر شیرافگن نیازی اور فیصل صالح حیات سمیت دیگربھی شریک ہوئے۔

انہوں نے بعد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اپنی جماعت کے اراکین کو توڑ کر حکمران مسلم لیگ میں شامل کیے جانے کا نوٹس لیا اور تشویش کا اظہار بھی کیا۔

راؤ سکندر اقبال، آفتاب شیر پاؤ اور فیصل صالح حیات نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بارے میں صدر جنرل پرویز مشرف اور مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین سے بات چیت کریں گے کہ ایسا نہ کیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں انہوں نے ملک کی موجودہ صورتحال اور آئندہ کے عام انتخابات کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا۔

اس بارے میں وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نے بطور پارٹی کسی اتحادی جماعت کے رکن کو نہیں توڑا لیکن اپنی رضامندی سے بعض ساتھیوں نے شمولیت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ مسلم لیگ اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں لے گی اور چھوٹے موٹے اختلافات ختم ہوجائیں گے۔

واضح رہے کہ بینظیر بھٹو کی سربراہی والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے کے بعد بیس کے قریب اراکین اسمبلی نے صدر مشرف کی حمایت کی اور ’پاکستان پیپلز پارٹی پیٹریاٹ‘ کے نام سے نئی جماعت بناکر حکومتی اتحاد میں شامل ہوگئے۔

اس نئی جماعت کے صوبہ سندھ سے وفاداری تبدیل کرنے والے واحد رکن خالد احمد لُنڈ نے گزشتہ دنوں حکمران مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور اس جماعت کے ایک اور رکن رئیس منیر احمد کے بارے میں مقامی اخبارات میں خبریں شائع ہو رہی ہیں کہ وہ بھی مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کرنے والے ہیں۔ جبکہ ایک اور رکن ظفر اقبال وڑائچ مستعفی ہوکر حکمران لیگ میں شامل ہوکر دوبارہ منتخب ہوئے تھے۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بظاہر تو ایسا دکھتا ہے کہ آئندہ عام انتخابات سے قبل حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں میں اختلاف رائے تو بڑھ رہا ہے لیکن اس سے حکومت کو فوری طور پر کوئی خطرہ لاحق نہیں۔

اسی بارے میں
مسلم لیگ کے دفتر میں دھماکہ
04 October, 2005 | پاکستان
مسلم لیگ میں اختلافات
09 May, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد