پی پی پی پیٹریاٹ کی شکایت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومتی اتحاد میں شامل ’پاکستان پیپلز پارٹی پیٹریاٹ‘ کے رہنماؤں نے اپنی جماعت کے اراکین کو توڑ کر مسلم لیگ میں شامل کرنے پر سخت اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ یہ معاملا صدر جنرل پرویز مشرف اور چودھری شجاعت حسین کے سامنے اٹھائیں گے۔ پیر کو ’پیپلز پارٹی پیٹریاٹ‘ کے مرکزی رہنماؤں کا اجلاس وزیر دفاع راؤ سکندر اقبال کی صدارت میں ہوا جس میں وزیرِ داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ، پارلیمانی وزیر ڈاکٹر شیرافگن نیازی اور فیصل صالح حیات سمیت دیگربھی شریک ہوئے۔ انہوں نے بعد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اپنی جماعت کے اراکین کو توڑ کر حکمران مسلم لیگ میں شامل کیے جانے کا نوٹس لیا اور تشویش کا اظہار بھی کیا۔ راؤ سکندر اقبال، آفتاب شیر پاؤ اور فیصل صالح حیات نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بارے میں صدر جنرل پرویز مشرف اور مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین سے بات چیت کریں گے کہ ایسا نہ کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں انہوں نے ملک کی موجودہ صورتحال اور آئندہ کے عام انتخابات کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس بارے میں وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نے بطور پارٹی کسی اتحادی جماعت کے رکن کو نہیں توڑا لیکن اپنی رضامندی سے بعض ساتھیوں نے شمولیت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ مسلم لیگ اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں لے گی اور چھوٹے موٹے اختلافات ختم ہوجائیں گے۔ واضح رہے کہ بینظیر بھٹو کی سربراہی والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے کے بعد بیس کے قریب اراکین اسمبلی نے صدر مشرف کی حمایت کی اور ’پاکستان پیپلز پارٹی پیٹریاٹ‘ کے نام سے نئی جماعت بناکر حکومتی اتحاد میں شامل ہوگئے۔ اس نئی جماعت کے صوبہ سندھ سے وفاداری تبدیل کرنے والے واحد رکن خالد احمد لُنڈ نے گزشتہ دنوں حکمران مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور اس جماعت کے ایک اور رکن رئیس منیر احمد کے بارے میں مقامی اخبارات میں خبریں شائع ہو رہی ہیں کہ وہ بھی مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کرنے والے ہیں۔ جبکہ ایک اور رکن ظفر اقبال وڑائچ مستعفی ہوکر حکمران لیگ میں شامل ہوکر دوبارہ منتخب ہوئے تھے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بظاہر تو ایسا دکھتا ہے کہ آئندہ عام انتخابات سے قبل حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں میں اختلاف رائے تو بڑھ رہا ہے لیکن اس سے حکومت کو فوری طور پر کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ | اسی بارے میں پاکستانی بنگالیوں کی مسلم لیگ 23 March, 2006 | پاکستان سرحد میں مسلم لیگ (ق) کو برتری07 October, 2005 | پاکستان کراچی متحدہ، لاہور مسلم لیگ (ق)06 October, 2005 | پاکستان مسلم لیگ کے دفتر میں دھماکہ04 October, 2005 | پاکستان بلوچستان مسلم لیگ میں اختلافات17 June, 2005 | پاکستان مسلم لیگ میں اختلافات09 May, 2005 | پاکستان اے آر ڈی: مسلم لیگ غیر حاضر23 April, 2005 | پاکستان قومی اسمبلی: پیٹریاٹ کاواک آؤٹ14 March, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||