نواز فلائٹ: منزل ابھی دور۔۔۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میاں نواز شریف کے ساتھ سفر کرنے والے ساٹھ کے لگ بھگ ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندے اس سفر کے دوران قدم قدم پر نئے ڈرامے سے دوچار ہوتے رہے۔ سات سال قبل جب میاں نواز شریف کو پہلی مرتبہ جلا وطن کیا گیا تھا، اس رات راقم جی ٹین میں پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی دفتر میں موجود تھا جہاں بیگم کلثوم نواز اور تہمینہ دولتانہ، میاں صاحب اور ان کے خاندان کے اٹھارہ افراد کی سعودی عرب روانگی کے لیے تیاریوں اور حکام کے ساتھ تفصیلات طے کرنے میں مصروف تھیں۔ اس رات مسلم لیگ (ن) کے چند عہدے داروں کے علاوہ کلثوم نواز کو کوئی الوداع کہنے والا نہیں تھا۔ دو ٹرکوں پر لاہور سے اسلام آباد لائے گئے میاں خاندان کے سامان کے ساتھ کلثوم نواز دس دسمبر کی شب آخری پہر چکلالہ کے ہوائی اڈے سے سعودی عرب کے لیے روانہ ہو گئیں۔ اس وقت بھی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو آخری وقت تک اندھیرے میں رکھا گیا گو کہ یہ چہ میگویاں ہو رہی تھیں کہ بیگم کلثوم نواز سعودی عرب کے سفارت خانے کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں لیکن کوئی اس کی تصدیق کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
اسی طرح لندن سے میاں نواز شریف کی روانگی کی تفصیلات کا بھی ذرائع ابلاغ کو آخری وقت تک علم نہیں ہو سکا۔ اتوار کی شام مقامی وقت کے مطابق سہ پہر تین بجے تک ہیتھرو ایئر پورٹ پر میاں صاحب کے ہمراہ صحافیوں کو صرف یہ بتایا گیا تھا کہ انہیں ٹرمنل نمبر تین سے کسی فلائٹ پر اسلام آباد جانا ہے اور اس سے زیادہ کسی کو کچھ علم نہیں تھا۔ حتیٰ کہ مسلم لیگ (ن) کے عہدے داروں کو بھی کچھ معلوم نہیں تھا۔ ہوائی اڈے پر برطانیہ کے مختلف شہروں سے میاں نواز شریف کے حامی بھی سہ پہر تین بجے سے ہی جمع ہونا شروع ہو گئے تھے اور چھ بجے میاں نواز شریف کے ہوائی اڈے پہنچنے تک مسلم لیگ کے حامیوں کی تعداد کئی درجن تک پہنچ گئی تھی۔ میاں نواز شریف کی گاڑی جب ٹرمنل کے باہر سڑک پر پہنچی تو کئی کارکن ان کی گاڑی پر چڑھ گئے اور زبردست نعرے بازی شروع کر دی۔ یہ صورت حال برطانوی پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کے لیے بالکل غیر متوقع تھی جس سے نہ صرف وہ واضح طور پر پریشان دکھائی دیے بلکہ ہیتھرو پر موجود بے شمار مسافر بھی حیران اور پریشان اس نعرے لگاتے ہوئے بے ہنگم ہجوم کو دیکھ رہے تھے۔ ’گوالمنڈی کی ریت ہے میاں نواز کی جیت ہے‘، ’گو مشرف گو‘ اور ’قدم بڑھاؤ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں‘ کے نعروں میں وہ ہیتھرو ٹرمینل تھری کی عمارت میں داخل ہوئے۔
یہ سوال اب بھی ایک معمہ بنا ہوا تھا کہ نواز شریف اور ان کےبھائی کس جہاز پر بیٹھیں گے۔ یہی سوال ایک دوسرے سے پوچھتے اخبارنویس جہاز پر سوار ہونے کے مختلف مراحلے سے گزرتے ہوئے لاؤنج میں پہنچ گئے۔ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف ان کے ساتھ تھے۔ لاؤنج کے اندر پہنچ کر اخبار نویس اور خاص طور پر کئی ٹی چینلوں کے نمائندوں کو پہلا دھچکا اس خبر سے لگا کہ نواز شریف اور ان کے بھائی پی آئی اے سے سفر کر رہے ہیں۔ اسحاق ڈار اور غلام مصطفی کھر بھی ان کے ساتھ تھے۔ نواز شریف نے اس وقت زیادہ حیران کر دیا جب وہ ہوائی جہاز اندر کے معذور اور عمر رسیدہ افراد کو لیے جانے والی گاڑی میں شہباز شریف، اسحاق ڈار، غلام مصطفی کھر اور دیگر افراد کے ساتھ جہاز پر سوار ہونے سے پہلے آخری لابی میں پہنچے۔ یہاں پہنچ کر انہوں نے قریب کھڑے اخبارنویسوں کو بلا کر شہباز شریف کو گلے لگایا اور کہا کہ وہ اکیلے ہی پاکستان جا رہے ہیں۔ میاں شہباز شریف نے اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ’انہیں میاں نواز شریف نے آخری وقت میں لندن میں قیام کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کے لیے ان کے قائد کا حکم ہے اور وہ بادل نخواستہ اسے قبول کر رہے ہیں‘۔ تاہم اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ فیصلہ سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے اور اس کا مشورہ پارٹی کے رہنماؤں نے اسلام آباد میں ایک اجلاس کے بعد کیا ہے۔ جہاز پر سوار ہونے کے بعد بھی نواز شریف کے ہمراہ کوئی دو درجن سیاسی کارکنوں کی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی خبر لینے کی کوشش میں دھکم پیل اور ہنگامہ جاری رہا۔ جہاز کا عملہ بار بار اپنی نشستوں پر بیٹھنےکی گزراش کرتا رہا لیکن کوئی ان کے اعلانات پر کان دھرنے کے لیے تیار نہ تھا۔ اس اثناء کلب کلاس میں ایک نوجوان کی طبیعت خراب ہو گئی اور اس کے لیے زمینی عملے کو جہاز پر طلب کرنا پڑا۔ ان وجوہات کی بنا پر پرواز کی روانگی میں دو گھنٹے کی تاخیر ہو گئی۔
جہاز روانہ ہونے کے بعد صحافیوں کی جاری کشمکش موبائل فون بند ہونے کے ساتھ ہی کم ہو گئی۔ اب ان کی توجہ سائڈ یا ذیلی خبروں کی طرف مبذول ہو گئی۔ انہوں نے اب مسافروں کا رخ کیا اور ان سے تاثرات لینا شروع کر دیئے۔ مسافروں میں مسلم لیگ کے حامی خاصے پرجوش اور خوش تھے جبکہ بہت سے طیارے کی تاخیر سے روانگی اور اسلام آباد میں کیئے گئے حفاظتی انتظامات کی خبروں سے پریشان تھے۔ مسافروں میں شامل ایک نوجوان ندیم سلیم نے کہا کہ وہ ساری زندگی لندن میں رہے ہیں اور وہ سیاست کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ انہوں نے کہا کہ پرواز کے دوران اخبار نویس نواز شریف کی آمد پر حکومت کے ممکنہ ردعمل پر تبادلہ خیال کرتے رہے۔ کچھ کا خیال تھا کہ جہاز کو کسی اور شہر میں اتارا جائے گا لیکن کچھ صحافیوں نے کہا کہ اس پرواز کے کپتان ہمایوں جمیل ہیں جن کو میبنہ طور پر میاں نواز شریف کے دور میں ترقی ملی تھی اور وہ جہاز کو ہر حال میں اسلام آباد ہی اتاریں گے۔ کچھ کا خیال تھا کہ میاں نواز شریف کو پھر سے جلا وطن کر دیا جائے۔ لیکن اس کا جواب یہ دیا جا رہا تھا کہ حکومت سپریم کورٹ کی حکم عدولی نہیں کرے گی۔ اسی ہی بحث مباحثہ میں دن بھر کے تھکے صحافی آہستہ آہستہ اپنی نشتوں پر جانے لگے پھر بہت سوں کے سر نیند سے ڈھلک گئے اور کئی ایک اپنے لیپ ٹاپس پر جھک گئے۔ سفر ختم ہونے کے قریب آیا تو صحافی حضرات اور مسلم لیگ کے کارکن ایک مرتبہ پھر متحرک ہونے لگے۔ مسلم لیگ کے کارکنوں اس فکر میں تھے کہ لینڈنگ کے بعد کیا حکمت عملی اپنائی جائے۔ کچھ صحافی بھی ان مشوروں میں شامل ہو گئے اور طے یہ پایا کہ جہاز کے اترنے سے پہلے نواز شریف کلب کلاس سے اکانومی میں آ جائیں گے اور صحافی سے پچھلی نشستوں پر مسافروں کے ساتھ بیٹھ جائیں گے۔ پھر جہاز اترنے سے قبل میاں نواز شریف اپنے کارکنوں کے ساتھ جن میں دو بظاہر باکسر یا پہلوان دکھائی دینے والے باڈی گارڈز بھی شامل تھے، اب ان کے نعروں میں نیا جوش اور ولولہ پیدا ہو گیا اور جونہی جہاز نے پاکستان کی سرزمین کو چھوا، ان کارکنوں نے تالیاں بجا کر خوشی کا اظہار کیا۔ جہاز معمول کے مطابق اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر آٹھ بج کر چالیس منٹ پر اترا تو لوگ کھڑکیوں سے لگ گئے تاکہ ہوائی اڈے کے حالات کا جائزہ لیا جا سکے۔
جہاز کے اندر سے ہوائی اڈے پر بظاہر کوئی غیر معمولی حفاظتی اقدامات دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ البتہ ایک طرف پولیس کمانڈوز کا ایک دستہ جن میں خواتین بھی نظر آ رہی تھیں جہاز کا منتظر تھا۔ جہاز کے پچھلے حصے میں سیڑھی لگائی گئی اور عام مسافروں نے اترنا شروع کر دیا لیکن مسلم لیگ کے کارکن نعرے لگاتے رہے اور بھانت بھانت کے مشورے دیے جانے لگے۔ اس اثناء امیگریشن کے چند اہلکار اور ایس ایس پی طاہر جہاز پر آئے اور میاں صاحب سے ان کا پاسپورٹ طلب کیا۔ یہ اہلکار نہایت مہذب انداز میں بات کر رہے تھے اور ایس ایس پی نے تو سابق وزیراعظم کو سلوٹ تک کیا لیکن نواز شریف کے گرد ان کو مشورہ دینے والوں کا ایک ہجوم تھا جن میں لارڈ نذیر بھی شامل تھے اور وہ اپنی شستہ انگریزی میں امیگریشن اہلکاروں سے بات کر تے رہے۔ اس کے بعد دو گھنٹے تک یہ سلسلہ جاری رہا کہ کبھی کوئی اہلکار آتا اور کبھی کوئی۔ لارڈ نذیر اور میاں صاحب کے دیگر ساتھیوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ تمام پولیس اہلکاروں کو ہٹا لیا جائے اور ان سب کو میاں صاحب کے ساتھ لاؤنج میں جانے کی اجازت دی جائے۔ حکام نے ان کی تقریباً تمام شرائط مان لیں اور پھر میاں صاحب نے جہاز سے اتر کر لاؤنج میں جانے کا فیصلہ کیا۔ نواز شریف بڑے جذباتی دکھائی دے رہے تھے۔’اللہ کا شکر ہے کہ میں نے اپنے ملک میں قدم رکھا ہے، میں اپنے جذبات کو بیان کرنے سے قاصر ہوں‘، یہ الفاظ میاں نواز شریف نے جہاز سے اتر کر ایک ہجوم کے ہمراہ بس کی طرف بڑھتے ہوئے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے کہے۔ انہیں جب تک پاکستان کے عوام کو پیغام دینے کو کہا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’میرا پیغام ملک کی سلامتی کا ہے، جمہوریت کا ہے اور افہام وتفہیم کا ہے‘۔ میاں صاحب اور ان کے ساتھیوں کو اسلام آباد ہوائی اڈے کے وی آئی پی راول لاؤنج میں لیے جایا گیا۔ لاؤنج میں سکیورٹی اہلکار بڑی تعداد میں موجود تھے۔ لاؤنج میں پہلے نواز شریف کے ساتھ آنے والے اخبار نویسوں اور ان کے حامیوں کی امیگریشن کی گئی اور نیب کے حکام نے ان کی گرفتاری کے احکامات پڑھ کر سنائے اس مرحلے پر میاں نواز شریف اور سکیورٹی اہلکارو ں کے درمیان دھکم پیل بھی ہوئی۔ لیکن سکیورٹی اہلکار میاں نواز شریف کو ایک کمرے میں لے گئے جہاں سے انہیں ہوائی اڈے پر موجود ہیلی کاپٹر کے ذریعے کسی نامعلوم مقام کی طرف لے جانے کی خبر آئی بعد میں پتہ چلا کہ انہیں سعودی عرب جلا وطن کر دیا گیا ہے۔ یہاں ہمارا سفر تو ختم ہو گیا لیکن میاں صاحب کی منزل ابھی دور تھی۔ |
اسی بارے میں جلا وطن نواز شریف جدہ پہنچ گئے: اپوزیشن کی مذمت، ہڑتال کی کال10 September, 2007 | پاکستان نواز شریف روانہ، شہباز پرواز نہیں کر رہے09 September, 2007 | پاکستان ’ہمارے دو ہزار کارکن گرفتار‘09 September, 2007 | پاکستان نواز کو بینظیر پر برتری ہو گی: کھر 10 September, 2007 | پاکستان جاوید ہاشمی، اہم رہنما گرفتار 10 September, 2007 | پاکستان سندھ میں پنجاب کے ردعمل کا انتظار10 September, 2007 | پاکستان اسلام آباد ایئرپورٹ کا علاقہ ممنوعہ09 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||