نواز شریف روانہ، شہباز پرواز نہیں کر رہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن میں مسلم لیگ نواز کے اعلان کے مطابق سابق وزیرِ اعظم نواز شریف سات سال کی جلا وطنی کے بعد لندن سے پی آئی اے کی پرواز 786 میں اسلام آباد کے لیے روانہ ہو چکے ہیں جبکہ ان کے بھائی شہباز شریف ان کے ہمراہ پاکستان نہیں جا رہے۔ پروگرام کے مطابق شریف برادران کو اکٹھے سفر کرنا تھا۔
طیارہ مقررہ وقت سے تقریباً ایک گھنٹہ تاخیر سے روانہ ہوا اور حکام نے اس کا سبب کسی مسافر کی ناساز طبیعت بتایا۔ اس سے قبل یہ اعلان کیا گیا تھا کہ نواز شریف اتوار کی شام گلف ائر کی پرواز سے مسقط کے لیے روانہ ہوں گے لیکن آخری وقت تک یہ بات راز رکھی گئی کہ وہ کس فلائٹ میں پاکستان جائیں گے۔ تاہم شام کو نواز شریف کے ساتھ لندن سے اسلام آباد جانے والے صحافیوں کو کہا گیا تھا کہ وہ پی آئی اے کی پرواز پی کے 786 کے ذریعے پاکستان جا رہے ہیں۔ نواز شریف دسمبر سنہ دو ہزار میں سعودی حکومت کی مداخلت کے نتیجے میں ایک ’معاہدے‘ کے تحت اپنے تمام خاندان سمیت جدہ چلے گئے تھے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت نواز شریف دس سال تک پاکستان میں سیاست کر سکتے ہیں نہ واپس آ سکتے ہیں۔ تاہم نواز شریف کا کہنا ہے کہ یہ مدت دس سال کی نہیں بلکہ پانچ برس کی تھی جو پوری ہو چکی ہے۔
خود سابق وزیرِاعظم نے بھی یہ عندیہ نہیں دیا کہ اگر انہیں وطن واپس جانے دیا جاتا ہے تو انتخابی مہم کے علاوہ ان کی سیاسی حکمتِ عملی کس نوعیت کی ہو گی۔ وزیرِ اطلاعات محمد علی درانی گزشتہ چند دنوں میں یہ کہہ چکے ہیں کہ حکومت اعلانات کی بجائے نواز شریف کے کسی عملی اقدام پر ردِ عمل کا اظہار کرے گی۔ سنیچر کو سابق لبنانی رہنما رفیق حریری کے صاحبزادے سعد حریری نے صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کے بعد اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب میں کہا تھا کہ نواز شریف کو معاہدے کے مطابق واپس نہیں جانا چاہیے۔ سنیچر ہی کو نواز شریف نے بھی ایک پریس کانفرنس میں پہلی مرتبہ یہ اعتراف کیا تھا کہ ان کی جلاوطنی کا معاہدہ ہوا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کی مدت پانچ سال کے لیے تھی دس سال کے لیے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مدت پوری ہو چکی ہے لہذا وہ پاکستان ضرور جائیں گے۔ میاں نواز شریف نے پریس کانفرنس میں ایک تحریری بیان پڑھ کر سنایا تھا اور کہا تھا کہ یہ معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے۔
انہوں نے سعودی عرب کو اس معاملے میں شامل کرنے پر افسوس کا اظہار کیا تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ سن دو ہزار میں پاکستان سے سعودی عرب ان کی روانگی ایک معاہدے کے تحت عمل میں آئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ اٹک کے قلعے میں پابند سلاسل تھے تو سعد حریری ان کے پاس ایک دستاویز لے کر آئے تھے جس پر دس سال تک ملک سے باہر رہنے اور سیاست میں حصہ نہ لینے کا ذکر تھا۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ انہوں نے دس سال کی مدت پر اعتراض کیا اور سعد حریری نے انہوں یقین دلایا کہ یہ مدت دس سال سے کم کرکے پانچ سال کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سعد حریری نے پانچ دن بعد ان سے اٹک جیل ہی میں ملاقات کی اور کہا کہ اس وقت شہزادہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے جو اب سعودی عرب کے فرما روا ہیں اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ دس سال کی مدت بہت طویل ہے اور اسے پانچ سال کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بعد ازاں سعد حریری نے ان سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ گیارہ ستمبر کے حملوں اور اپنے والد کی وفات کے بعد وہ اس معاہدے میں ترمیم نہیں کروا سکے۔ |
اسی بارے میں ’نواز کو واپس نہیں آنا چاہیئے‘08 September, 2007 | پاکستان شریف فیملی کیسز، سماعت ملتوی07 September, 2007 | پاکستان ’نواز شریف جیل جانے سے نہ ڈریں‘08 September, 2007 | پاکستان لاہور کے گول گپے، شریف کے منتظر09 September, 2007 | پاکستان تمام ہوائی اڈوں پر ’ریڈ الرٹ‘ 08 September, 2007 | پاکستان ’معاہدہ صرف پانچ سال کے لیے تھا‘08 September, 2007 | پاکستان ’پاکستان میں اب صرف گیدڑ‘ 05 September, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||