BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 September, 2007, 17:32 GMT 22:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نواز شریف روانہ، شہباز پرواز نہیں کر رہے

اتوار کی شب اسلام آباد ایئرپورٹ کے اطراف میں سکیورٹی سخت کردی گئی

لندن میں مسلم لیگ نواز کے اعلان کے مطابق سابق وزیرِ اعظم نواز شریف سات سال کی جلا وطنی کے بعد لندن سے پی آئی اے کی پرواز 786 میں اسلام آباد کے لیے روانہ ہو چکے ہیں جبکہ ان کے بھائی شہباز شریف ان کے ہمراہ پاکستان نہیں جا رہے۔ پروگرام کے مطابق شریف برادران کو اکٹھے سفر کرنا تھا۔

شہباز شریف کو پارٹی قیادت نے لندن رکنے کا مشورہ دیا ہے
شہباز شریف نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ تو پاکستان جانے کے لیے بے چین ہیں لیکن پارٹی رہنمانے انہیں آخری وقت کہا ہے کہ وہ ابھی نہ جائیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس لیے شہباز شریف اور اسحاق ڈار طیارے میں سوار نہیں ہو رہے۔

طیارہ مقررہ وقت سے تقریباً ایک گھنٹہ تاخیر سے روانہ ہوا اور حکام نے اس کا سبب کسی مسافر کی ناساز طبیعت بتایا۔

اس سے قبل یہ اعلان کیا گیا تھا کہ نواز شریف اتوار کی شام گلف ائر کی پرواز سے مسقط کے لیے روانہ ہوں گے لیکن آخری وقت تک یہ بات راز رکھی گئی کہ وہ کس فلائٹ میں پاکستان جائیں گے۔ تاہم شام کو نواز شریف کے ساتھ لندن سے اسلام آباد جانے والے صحافیوں کو کہا گیا تھا کہ وہ پی آئی اے کی پرواز پی کے 786 کے ذریعے پاکستان جا رہے ہیں۔

نواز شریف دسمبر سنہ دو ہزار میں سعودی حکومت کی مداخلت کے نتیجے میں ایک ’معاہدے‘ کے تحت اپنے تمام خاندان سمیت جدہ چلے گئے تھے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت نواز شریف دس سال تک پاکستان میں سیاست کر سکتے ہیں نہ واپس آ سکتے ہیں۔ تاہم نواز شریف کا کہنا ہے کہ یہ مدت دس سال کی نہیں بلکہ پانچ برس کی تھی جو پوری ہو چکی ہے۔

نواز شریف اتوار کو ہیتھرو سے اسلام آباد جانے والے طیارے میں
سپریم کورٹ کی طرف سے نواز شریف اور ان کے بھائی کو پاکستان واپس آنے دینے کے حکم کے بعد سے حکومتِ پاکستان نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس کی حکمتِ عملی کیا ہوگی۔ البتہ مشرف حکومت کے عمائدین یہ اصرار کر رہے ہیں کہ نواز شریف اخلاقی طور پر پابند ہیں کہ وہ اس عہد کا پاس کریں جس کی ضمانت موجودہ سعودی فرمانرواں شاہ عبداللہ نے بھی دی تھی۔

خود سابق وزیرِاعظم نے بھی یہ عندیہ نہیں دیا کہ اگر انہیں وطن واپس جانے دیا جاتا ہے تو انتخابی مہم کے علاوہ ان کی سیاسی حکمتِ عملی کس نوعیت کی ہو گی۔ وزیرِ اطلاعات محمد علی درانی گزشتہ چند دنوں میں یہ کہہ چکے ہیں کہ حکومت اعلانات کی بجائے نواز شریف کے کسی عملی اقدام پر ردِ عمل کا اظہار کرے گی۔

سنیچر کو سابق لبنانی رہنما رفیق حریری کے صاحبزادے سعد حریری نے صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کے بعد اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب میں کہا تھا کہ نواز شریف کو معاہدے کے مطابق واپس نہیں جانا چاہیے۔

سنیچر ہی کو نواز شریف نے بھی ایک پریس کانفرنس میں پہلی مرتبہ یہ اعتراف کیا تھا کہ ان کی جلاوطنی کا معاہدہ ہوا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کی مدت پانچ سال کے لیے تھی دس سال کے لیے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مدت پوری ہو چکی ہے لہذا وہ پاکستان ضرور جائیں گے۔

میاں نواز شریف نے پریس کانفرنس میں ایک تحریری بیان پڑھ کر سنایا تھا اور کہا تھا کہ یہ معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے۔

نواز شریف کا ہیتھرو پر استقبال
نواز شریف کی فلائٹ کو آخری وقت تک راز رکھا گیا
 حکومت اعلانات کی بجائے نواز شریف کے کسی عملی اقدام پر ردِ عمل کا اظہار کرے گی
محمد علی درانی
اسلام آباد میں سنیچر کو سعد حریری اور سعودی شہزادے مقرن بن عبدالعزیز کی جنرل پرویز مشرف سے ملاقات اور اس کے بعد پریس کانفرنس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف اپنی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں کہ نواز شریف واپس نہ آئے۔

انہوں نے سعودی عرب کو اس معاملے میں شامل کرنے پر افسوس کا اظہار کیا تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ سن دو ہزار میں پاکستان سے سعودی عرب ان کی روانگی ایک معاہدے کے تحت عمل میں آئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ جب وہ اٹک کے قلعے میں پابند سلاسل تھے تو سعد حریری ان کے پاس ایک دستاویز لے کر آئے تھے جس پر دس سال تک ملک سے باہر رہنے اور سیاست میں حصہ نہ لینے کا ذکر تھا۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ انہوں نے دس سال کی مدت پر اعتراض کیا اور سعد حریری نے انہوں یقین دلایا کہ یہ مدت دس سال سے کم کرکے پانچ سال کر دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ سعد حریری نے پانچ دن بعد ان سے اٹک جیل ہی میں ملاقات کی اور کہا کہ اس وقت شہزادہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے جو اب سعودی عرب کے فرما روا ہیں اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ دس سال کی مدت بہت طویل ہے اور اسے پانچ سال کر دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بعد ازاں سعد حریری نے ان سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ گیارہ ستمبر کے حملوں اور اپنے والد کی وفات کے بعد وہ اس معاہدے میں ترمیم نہیں کروا سکے۔

نواز شریفایک نیا نواز شریف
’والد کی وفات کے بعد وہ پھر لڑائی کیلیے تیار تھے‘
اردو اخبار نوائے وقت کے مدیر اعلیٰ مجید نظامیمجید نظامی کا مشورہ
’نواز شریف وطن واپس آئیں جیل سے نہ ڈریں ‘
نواز شریف آمد کی تیاریاں اور گرفتاریاںسیاسی ہلچل
نواز شریف کے استقبال کی تیاریاں اور گرفتاریں
صدر مشرف (فائل فوٹو)سیاست کی مشکل
’ایمرجنسی لگانےوالاجنرل ضروری نہیں مشرف ہو‘
بےنظیر اور مشرف’آمروں کے ساتھ رقص‘
مشرف سے ڈیل یا شیر پر سواری، نتیجہ کیا ہوگا؟
مشرف پر سیاسی دباؤ
جنرل مشرف پر (ق) لیگ کے خدشات اور تحفظات
اسی بارے میں
شریف فیملی کیسز، سماعت ملتوی
07 September, 2007 | پاکستان
’پاکستان میں اب صرف گیدڑ‘
05 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد