جڑواں شہروں میں گہما گہمی نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق وزیر اعظم نواز شریف کی متوقع آمد سے محض بارہ گھنٹے قبل تک اسلام آباد اور راولپنڈی میں کوئی خاص گہما گہمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ دن بھر سکیورٹی کی صورت حال بھی معمول کے مطابق رہی تاہم خدشہ ہے کہ رات گئے سکیورٹی کی صورت حال میں یکسر تبدیلی آ سکتی ہے۔ جڑواں شہر راولپنڈی اور اسلام آباد میں شام کے وقت پولیس کی ہلکی پھلکی نقل و حرکت دیکھنے میں آئی ۔ امکان ہے کہ اتوار کی رات کو مقامی وقت کے مطابق ساڑھے آٹھ بجے آخری پرواز کی روانگی کے بعد ائر پورٹ پر سکیورٹی سخت کردی جائے گی اور اس کو عام لوگوں کے لئے بند کردیا جائے گا۔ ادھر وزارت داخلہ نے ائرپورٹ اور اس کے قرب وجوار میں رینجرز کے اہلکاروں کو بھی تعینات کردیا ہے۔ اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر تعینات امیگریشن کے حکام نے کہا ہے کہ پیر کو سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی آمد کے موقع پر صرف اُن افراد کو ائرپورٹ کی حدود میں داخل ہونے دیا جائے گا جن کے پاس اُسی دن کے بیرون ملک سفر کے ٹکٹ ہوں گے۔ ایف آئی اے کے امیگریشن حکام اور ائرپورٹ کے سکیورٹی کے عملے کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ہوائی اڈے کے مرکزی دروازے پر مسافروں کو چیک کیا جائے اور ان مسافروں کی سفری دستاویز کی اچھی طرح جانچ پڑتال کرکے انہیں ائرپورٹ کی حدود میں داخل ہونے دیا جائے۔
سول ایوی ایشن کے ترجمان مبارک شاہ نے بتایا کہ شریف برادران گلف ائرلائنز کی جس پرواز سے آ رہے ہیں ابھی تک کے شیڈول کے مطابق وہ ائرپورٹ پر اترے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ائرپورٹ کے رن وے کی مرمت کا کام جاری ہے اس لیے ہوائی اڈہ رات نو سے صبح پانچ بجے تک بند کر دیا جاتا ہے اور مرمت کا یہ کام آئندہ سال جنوری میں مکمل ہوگا۔ اس سے قبل اتوار کو دن میں راولپنڈی میں مسلم لیگ (ن ) کے چند درجن حامیوں نے گاڑیوں اور کاروں پر مشتمل ایک ریلی نکالی۔ انہوں نے نواز شریف اور شہباز شریف کے پوسڑز اور اپنی پارٹی کی جھنڈیاں اٹھا رکھی تھیں۔ وہ نواز شریف کے حق میں نعرہ لگا رہے تھے۔ راولپنڈی اور اسلام باد میں صرف چند ایک مقامات پر خیر مقدمی بینرز نظر آئے اور کچھ عمارتوں پر سابق وزیر اعظم اور ان کے بھائی کی بڑی بڑی تصویری آویزاں تھیں۔ راولپنڈی کے ضلع ناظم راجہ جاوید اخلاص نے پہلے ہی شہر میں دفعہ 144 کے تحت راولپنڈی کی ضلعی حدودو میں ٹائر جلانے، قابل اعتراض مواد پر مبنی بیرز آویزاں کرنے، عوامی اجتماعات اور ہر قسم کے جلسے جلوسوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ تاہم مذہبی اجتماعات اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔ اس پابندی پر پانچ اکتوبر تک عمل در آمد جاری رہے گا۔ ضلع ناظم اور نائب ناظم سے اس پابندی کی وجہ جاننے کے لئے رابط کرنے کی کئی بار کوشش کی گئی لیکن ان سے رابط نہیں ہوسکا۔ دیگر اعلی سرکاری اہلکار اور وزراء سے بھی رابطے کی کوششوں کے باوجود کامیابی نہیں ہوئی۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نےالزام عائد کیا کہ کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے اہلکار بینرز اور پوسڑز اتارتے رہے۔ بعض عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار بھی نوجوانوں کو سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بھائی کے لئے خیر مقدمی بیرز اور پوسڑ آویزاں کرنے سے باز رکھتے رہے۔ اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس میں مسلم لیگ کے رہنما احسن اقبال نے الزام لگایا کہ صوبہ پنجاب میں ان کے ڈھائی ہزار سے زائد کارکن حراست میں لیے گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے کارکنوں کو صبح نو بجے ہوائی اڈے پر پہنچنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے حکومت کو کسی دوسرے ملک کو اس مسئلے میں گھسیٹنے سے باز رہنے کے لئے بھی کہا ہے۔ |
اسی بارے میں نواز واپسی کیخلاف سرگرمیوں کا الزام08 September, 2007 | پاکستان نواز، شہباز پاکستان روانگی آج شام کو09 September, 2007 | پاکستان لاہور کے گول گپے، شریف کے منتظر09 September, 2007 | پاکستان ’معاہدہ صرف پانچ سال کے لیے تھا‘08 September, 2007 | پاکستان ’نواز کو واپس نہیں آنا چاہیئے‘08 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||