BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 September, 2007, 16:27 GMT 21:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نواز واپسی کیخلاف سرگرمیوں کا الزام

جاوید ہاشمی
نواز شریف کے پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں: جاوید ہاشمی
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے حکومت پر نواز شریف کی وطن واپسی کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں نے ایوانِ صدر کو سپریم کورٹ کے نواز شریف کے ملک واپس آنے کے فیصلے کے خلاف سرگرمیوں کا مرکز بنا دیا ہے۔

اس موقع پر چودھری نثار علی خان نے کہا کہ نواز شریف کا ملک سے دس سال باہر رہنے کا وعدہ نہیں تھا بلکہ یہ مدت پانچ سال کی تھی۔

سنیچر کے روز اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹیریٹ میں پریس کانفرنس کے دوران مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ ’ایوانِ صدر ملک کے اندرونی اور بیرونی ذرائع استعمال کر رہا ہے تا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہو سکے ۔‘

انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے تمام تر اقدامات کے باوجود نواز شریف کے وطن واپس لوٹنے کے پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں اور’اُن کا آنا اٹل ہے۔‘

انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ اُن کی جماعت کے پورے ملک میں پندرہ سو زائد کارکن گرفتار کر لیےگئے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے حکومت کے اعلیٰ سرکاری افسران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ نواز شریف کے خلاف حکومت کے غیر قانونی اقدامات کا حصہ نہ بنیں کیونکہ اس طرح وہ اپنی نوکریوں سے جائیں گے۔‘

مخدوم جاوید ہاشمی نے پنجاب کے چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل کو خبردار کیا کہ ’وہ غیرقانونی اور غیرآئنی اقدامات سے گُریز کریں ورنہ اُن کو عدالتوں میں گھسیٹا جائےگا اور اُنہیں نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔‘

یاداشت میں کیا تھا
 ’نواز شریف جس مفاہمت کی یاداشت کے تحت پاکستان سے باہر گئے تھے اُس میں یہ کہیں بھی نہیں لکھا تھا کہ وہ سعودی عرب میں رہیں گے بلکہ اُس میں لکھا تھا کہ سعودی عرب ان کی بیس ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کئی بار معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی ہے
چودھری نثار

انہوں نے دعویٰ کیا کہ صدر جنرل پرویز مشرف سے آج راولپنڈی میں ملاقات کرنے والے سعودی فرمانروا کے خصوصی ایلچی شہزادہ مُکرِن بن عبدلعزیز نے واضح طور پر کہا کہ سعودی عرب کو نواز شریف کے ملک واپس آنے کی صورت میں کوئی تشویش نہیں ہوگی۔

اں موقع پر بات کرتے ہوئے چودھری نثار علی خان نے کہا کہ سعودی عرب سے قریبی تعلقات کی وجہ سے وہ اور اُن کی جماعت کچھ کہنے سے قاصر ہیں، البتہ انہوں نے کہا کہ چونکہ حکومت یکطرفہ بنیادوں پر نواز شریف کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی باتیں کر رہی ہے لہٰذا اب وہ اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ نواز شریف کا ملک سے دس سال باہر رہنے کا وعدہ نہیں تھا بلکہ یہ مدت پانچ سال کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ’نواز شریف جس مفاہمت کی یاداشت کے تحت پاکستان سے باہر گئے تھے اُس میں یہ کہیں بھی نہیں لکھا تھا کہ وہ سعودی عرب میں رہیں گے بلکہ اُس میں لکھا تھا کہ سعودی عرب ان کی بیس ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کئی بار معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی سیاست اس وقت فیصلہ کُن موڑ سےگُزر رہی ہے لہٰذا نوازشریف کے واپس آنے سے ملک کو استحکام پہنچے گا ۔ انہوں نے کہا ’ساری قوم دیکھ رہی ہے کہ مشرف نے ملک کو بین الاقوامی تماشہ بنا دیا ہے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد