BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 September, 2007, 13:23 GMT 18:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نواز شریف جیل جانے سے نہ ڈریں‘

اردو اخبار نوائے وقت کے مدیر اعلیٰ مجید نظامی
’پاکستان میں سیاست روایتی راستوں سے ہٹتی جا رہی ہے‘
پاکستان کے ایک بڑے اردو اخبار نوائے وقت کے مدیر اعلیٰ مجید نظامی نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو جیل کے خوف سے وطن واپسی کا پروگرام ترک نہیں کرنا چاہیے اور ہر حال میں اپنے پہلے سے اعلان شدہ شیڈول کے مطابق اسلام آباد پہنچنا چاہیے۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے ایک خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ کوئی سیاستدان بھی جیل یاترا کے بغیر بڑا لیڈر نہیں بن سکتا اور نواز شریف کو بھی جیل جانے سے نہیں ڈرنا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں مسٹر مجید نظامی نے کہا کہ وہ نواز شریف اور ان کے خاندان کے جلاوطنی اختیار کرنے کے فیصلے کو ایک غلط فیصلہ سمجھتے ہیں۔
’میرے خیال میں انہیں جیل میں رہ کر ہی اپنی جدوجہد جاری رکھنی چاہیے تھی‘۔

مسٹر مجید نظامی نے کہا کہ نواز شریف کی وطن واپسی سے ملکی سیاسی منظر نامے پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ ’نواز شریف کی وطن واپسی میں ابھی دو روز باقی ہیں لیکن اسلام آباد اور لاہور میں ایک بھونچال سا آیا ہوا ہے اور حکومتی حلقے ملک کے ہوائی اڈے تک بند کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

 ہمارے ہاں اس طرح سیاست نہیں ہے جس طرح ہمسایہ ملک بھارت میں ہے۔ یہاں تو ذاتی اختلافات سیاسی دشمنیوں میں بدل جاتے ہیں۔ ہرکوئی ڈیل کے ذریعے سے اقتدار میں آنے کی کوشش کر رہا ہے
مجید نظامی

’ آپ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حکمران کتنے بوکھلائے ہوئے ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اقتدار کے ایوانوں میں اتنی بوکھلاہٹ کیوں ہے نواز شریف دو مرتبہ اس ملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں اور ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے قائد ہیں۔‘

مجید نظامی نے کہا کہ نواز شریف کی وطن واپسی سے سب سے بڑا خطرہ حکمران مسلم لیگ قائد اعظم کو ہے جس کا شیرازہ روز بروز بکھرتا جا رہا ہے اور کئی ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی پہلے ہی مسلم لیگ نواز میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔

شریف برادران سے اپنے تعلق کی وضاحت کرتے ہوئے مسٹر مجید نظامی نے کہا کہ انہوں نے کبھی بھی نواز شریف کی مشاورت یا رہنمائی نہیں کی۔ ’میرا تعلق ان کے والد بزرگوار میاں محمد شریف سے تھا اور اسی وجہ سے باہمی احترام کا رشتہ ضرور موجود ہے۔ اگر میں نے ان کی رہنمائی کرنی ہوتی ہے وہ میں اپنے اخبار کے ذریعے کرتا ہوں‘۔

مسٹر مجید نظامی نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں سیاست روایتی راستوں سے ہٹتی جا رہی ہے۔ ’ہمارے ہاں اس طرح سیاست نہیں ہے جس طرح ہمسایہ ملک بھارت میں ہے۔ یہاں تو ذاتی اختلافات سیاسی دشمنیوں میں بدل جاتے ہیں۔ ہرکوئی ڈیل کے ذریعے سے اقتدار میں آنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسی بارے میں
شریف فیملی کیسز، سماعت ملتوی
07 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد