شہباز کی گرفتاری کا عدالتی حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے مبینہ پولیس مقابلے کے ایک مقدمہ میں اٹھارہ جولائی سنہ دو ہزار تین کو شہباز شریف کی گرفتاری کے دائمی وارنٹ جاری کیے تھے اور انہیں مفرور اشتہاری ملزم قرار دیدیا تھا۔ شہباز شریف سے جب رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف جعلی پولیس مقابلے کا یہ کیس گیارہ مئی 2004 کو ان کی پاکستان آمد سے قبل انہیں ڈرانے دھماکانے کے لیے بنایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے اس وقت کہا تھا کہ میں اس جھوٹے کیس کا سامنا کرنے کے لیے وطن آیا ہوں۔ مجھے گرفتاری کے وارنٹ دیں تو انہوں نےجہاز میں مجھے گرفتاری کے وارنٹ دیے۔ اس کے باوجود بھی حکومت نے لاہور ائر پورٹ سے دھوکے کے ذریعے مجھے جدہ واپس بھیج دیا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’زندگی رہی تو میں پاکستان ضرور جاؤں گا اور کوئی شخص مجھے نہیں روک سکتا۔ یہ کیس جھوٹا ہے اور میں اس کا سامنا کروں گا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وہ دس ستمبر کو پاکستان جا رہے ہیں تو ’وہ جنرل پرویز مشرف، چیف منسٹر پنچاب، آئی جی پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، ہوم سکیرٹری پنجاب، فیڈرل ہوم سیکریٹری اور اس وقت کے وزیراعظم کے خلاف مقدمہ درج کریں گے کہ یہ مجرم ہیں جنہوں نے مل کر انہیں واپس بھجوایا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ٹرائل کورٹ کے جج کو بھی اس میں شامل کریں گے۔ جمعہ کو استغاثہ کے وکیل آفتاب باجوہ نے عدالت میں پیش ہوکر بتایا کہ عدالت کے دوہزار تین کے گرفتاری کےاحکامات کے باوجود شہبازشریف کو گرفتار کرنے کی بجائےسعودی عرب فرار کروا دیا گیا تھا۔ وکیل نے کہا کہ یہ سب وزرات داخلہ، پنجاب پولیس، ایف آئی اے اور امیگریشن کے حکام کی ملی بھگت سے ہوا تھا۔ آفتاب باوجوہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ اب ایک بار پھر ایسا ہی کیا جائے گا۔ اس لیے عدالت ان کی گرفتاری کے احکامات جاری کرے۔ پبلک پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ یہ درست ہے کہ شہباز شریف کے جہاز نے لاہور ائر پورٹ پر لینڈ کیا تھا لیکن پھر وہ سعودی عرب بھجوادیے گئے۔ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج نے کہا کہ شہباز شریف کی گرفتاری کے احکامات پہلے ہی جاری ہوچکے ہیں۔ انہوں نے حکومت کو ہدایت کی کہ وہ ان احکامات پر عمل درآمد کروائیں۔ آفتاب احمد باجوہ ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے عدالت کو شہباز شریف کی جائیداد کے بارے میں کچھ تفصیلات فراہم کیں اور استدعا کی کہ چونکہ وہ اشتہاری ہوچکے ہیں اس لیے ان کی جائیداد ضبط کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔ عدالت نے بارہ ستمبر کو حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔ شہباز شریف پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان کی وزارت اعلیٰ کے دور میں سنہ انیس سو اٹھانوے میں مبینہ طور پر ان کے حکم پر ہونے والا ایک پولیس مقابلہ جعلی تھا۔ سبزہ زار کے علاقے میں ہونے والے اس مقابلے میں پانچ نوعمر لڑکے مارے گئے تھے۔ ان میں سے ایک صلاح الدین کے والد سعید قریشی کی رٹ پر ہائی کورٹ نے شہباز شریف اور متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی تھی اور تھانہ سبزہ زار میں یہ مقدمہ درج ہوگیا تھا۔ یہ تمام کارروائی اس دوران ہوئی جب شہباز شریف اپنے اہلخانہ کے ہمراہ جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ شہباز شریف نے اپنے بڑے بھائی اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے ہمراہ دس ستمبر کو پاکستان لوٹنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں عدالت کی موجودہ کارروائی خاصی اہمیت کی حامل ہے۔ |
اسی بارے میں شہباز کی گرفتاری کی درخواست06 September, 2007 | پاکستان ’نواز، شہباز اب فوراً وطن پہنچیں‘24 August, 2007 | پاکستان ’پہلے شہباز جائیں گے‘23 August, 2007 | پاکستان شہباز شریف نواز لیگ کے صدر 02 August, 2006 | پاکستان شہباز کی رٹ: حوالہ بھٹو کا23 June, 2004 | پاکستان شہباز:11 مئی کو پاکستان واپسی 03 May, 2004 | پاکستان شہباز مسافر طیارے میں آئیں گے: لیگی26 April, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||