BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 September, 2007, 15:01 GMT 20:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شہباز کی گرفتاری کی درخواست

شہباز شریف
عدالت نے شہباز شریف کو اس مقدمہ میں اشتہاری ملزم قرار دے رکھا ہے
مسلم لیگ نون کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خلاف لاہور میں درج مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مقدمہ کے مدعی نے مقامی عدالت سے استدعا کی ہے کہ انہیں یعنی شہباز شریف کو پاکستان پہنچتے ہیں گرفتار کر لیا جائے۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے درخواست کوسماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔

پانچ افراد کی ہلاکت کے مذکورہ مقدمے میں ایک عدالت سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو اشتہاری ملزم قرار دے رکھا ہے۔

مقدمہ کے مدعی لاہور کے رہائشی سعید الدین قریشی نے اپنی تازہ درخواست میں کہا ہے کہ تین سال پہلے بھی شہباز شریف کو لاہور ائر پورٹ پر گرفتار کرنے کی بجائے حکومت کی ملی بھگت سے سعودی عرب بھجوادیاگیا تھا۔

مدعی نے کہا کہ اب حکومت کو ایسا کرنے سے روکا جائے اور شہباز شریف کو گرفتار کرکے عدالت پیش کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

نوے برس کے سعید الدین کے نوعمر بیٹے صلاح الدین کو بھی پولیس نے مبینہ مقابلے میں ہلاک کیا تھا۔

شہباز شریف پر الزام ہے کہ سنہ انیس سو اٹھانوے میں سبزہ زار کے علاقے میں ہونے والا یہ مقابلہ ان کے حکم پر ہوا تھا۔

سنہ انیس سو ننانوےمیں حکومت کا تختہ الٹ جانے پر شہباز شریف اپنے اہلخانہ کے ہمراہ جلاوطن ہوگئے تھے اور سنہ دوہزار ایک میں پنجاب پولیس نے ہائی کورٹ کے حکم پر شہباز شریف کے خلاف پانچ افراد کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا تھا۔

مدعی کے وکیل آفتاب احمد باوجوہ کے مطابق اس مقدمہ میں شہباز شریف کے پرائیوٹ سیکرٹری طارق اصغر،ایس ایچ او انسپکٹر بابر اشرف،اور پانچ دیگر پولیس اہلکار نامزد ہیں۔

استغاثہ کے مطابق شہباز شریف کے پرائیویٹ سیکرٹری کے والد کرنل (ر) اصغر سے ہلاک ہونے والے نوجوانوں کا جھگڑا ہوا تھا جس کے بعد پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا اور تین دن تک مختلف تھانوں میں رکھا۔

وکیل کے مطابق ان لڑکوں کے لواحقین نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ملاقات کرکے ان کی رہائی کی درخواست کی تو ان کے بقول اس وقت کے وزیراعلیٰ نے کہا تھا کہ ڈاکوؤں کو معافی نہیں دی جاسکتی اور اگلی صبح چار بجے یہ پانچوں لڑکے ایک مبینہ مقابلے میں ہلاک ہوچکے تھے۔

اسی بارے میں
شہباز شریف نواز لیگ کے صدر
02 August, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد