شہباز شریف کو ڈی پورٹ کردیا گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ شہبازشریف کو ملک بدر کرکے سعودی عرب روانہ کردیا گیا ہے۔ شہباز شریف خلیجی ایئر لائن کے طیارے کے ذریعے ابوظہبی سے لاہور پہنچے تھے۔ انہیں آمد کے ڈیڑھ گھنٹے بعد ہی پی آئی اے کے ایک خصوصی طیارے پی کے تین سو پانچ کے ذریعے سعودی عرب کے شہر جدہ بھیج دیا گیا ہے۔ یہ طیارہ پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق شام ساڑھے سات بجے لاہور ائیر پورٹ سے جدہ کے لئے روانہ ہوا۔ اس خصوصی طیارے میں میاں شہباز شریف اور جہاز کے عملے کے علاوہ ایک نرس، ایک ڈاکٹر اور ایک ائیر گارڈ موجود تھے۔ وہ پیر کی شام لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ کے روانہ ہوئے تھے۔ ابوظہبی سے شہباز شریف کے ساتھ سفر کرنے والے بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس کا کہنا ہے کہ جونہی طیارہ لاہور ایئرپورٹ پر اترا اسے پولیس کمانڈوز نے گھیرے میں لے لیا اور شہباز شریف کو گرفتار کر لیا گیا۔ ’اس کے علاوہ طیارے سے باہر آنے والے ہر شخص کو حراست میں لے لیا گیا۔ جب میں طیارے سے باہر آیا تو میرا ٹیپ ریکارڈر، لیپ ٹاپ اور میرے فوٹوگرافر سے ان کا کیمرہ چھین لیا گیا۔‘
’لیپ ٹاپ اب بھی خفیہ ایجنسیوں کے قبضے میں ہے۔‘ نامہ نگار کے مطابق اس دوران ایئر پورٹ کے علاقے میں موبائل فون کی سروس کو جام کر دیا گیا۔ مسلم لیگ (نواز) کے رہنما پیر بنیامین رضوی نے کہا ہے کہ حکومت کا یہ فعل ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلے کی توہین ہے جس نے اپنے فیصلے میں واضح طور لکھا کہ ملک کے کسی شہری کو ملک میں آنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ شہباز شریف کی آمد سے چند گھنٹے پہلے پولیس اور مسلم لیگ (نواز) کے کارکنوں کے مابین جھڑپیں ہوئی ہیں اور متعد لیگی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں مسلم لیگ کے کئی مرکزی رہنما بھی شامل ہیں جنہیں پولیس کے مطابق مسلم لیگ کے جلسہ گاہ پہنچنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے تجزیہ نگاروں کے حوالے سے کہا ہے کہ شہباز شریف کی وطن واپسی صدر پرویز مشرف کے لئے حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||