BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 June, 2004, 06:17 GMT 11:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شہباز کی رٹ: حوالہ بھٹو کا

News image
شریف خاندان کو سن دوہزار میں جنرل مشرف نے سعودی عرب جلاوطن کر دیا تھا
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف کی وطن واپسی کے سلسلہ میں لاہور ہائی کورٹ میں ایک نئی رٹ دائر کی گئی ہے جس میں میکاولی کے اقوال اور پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو دور کے بعض اقدامات کے حوالے بھی دیئے گئے ہیں۔

یہ رٹ درخواست پاکستان لائرز فورم کی جانب سے اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے دائر کی ہے جس میں وفاق اور صدر پاکستان پرویز مشرف کو فریق بنایا گیا ہے اور میکاولی کا حوالہ دیتے ہوۓ کہاگیا ہے کہ حکمرانوں کے لیے اپنے دشمنوں کو دور رکھنے کا یہی ایک محفوظ طریقہ ہے کہ انہیں اقتدار سے ہر ممکن حد تک الگ رکھا جاۓ۔

رٹ درخواست میں کہا گیا ہے کہ میکاولی کے بقول ’حکمران نہ صرف قانون بلکہ اخلاقیات کے دائرے سے بھی باہر ہوتے ہیں اور جبرو تشدد کا راستہ ہی ان کی سیاست کی مضبوطی کی بنیاد ہوتا ہے۔‘

اسں رٹ درخواست میں سپریم کورٹ کے چودھری ظہور الٰہی کیس کا حوالہ دیتے ہوۓ کہاگیا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بارہ نومبر انیس سو بہتر کو جس طرح چودھری ظہوراٰلہی کو گرفتار کرکے جبری طور پر بلوچستان کے علاقہ کوہلو بھجوایا گیا تھا اسی طرح میاں شہباز شریف کو جبراً لاہور ایئر پورٹ سے جدہ بھجوایا گیا ہے جو قانون اور آئین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

رٹ درخواست میں کہاگیا ہے کہ میاں شہباز شریف کو گیارہ مئی کو اپنی دھرتی پر قدم رکھتے ہی زبردستی گھسیٹ کر پی آئی اے کے جہاز میں سوار کرا دیا گیا۔

درخواست کے مطابق یہ اقدام انہیں انصاف سے دور رکھنے کے مترادف اور آئین کے منافی ہے اور اگر کسی شہری کو زبردستی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاۓ تو یہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ تین سو باسٹھ بنتی ہے جبکہ اغوا کی دفعہ تین سو پیسنٹھ بھی لاگو ہوتی ہے۔ ان دونوں دفعات کے تحت اس فعل کی سزا سات سال قید سخت اور جرمانہ بنتی ہے۔

رٹ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’محبوس شہباز شریف کو برآمد کرکےعدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جاۓ اور انہیں آزاد کیا جاۓ تاکہ وہ اپنے خلاف فوجداری مقدمہ میں متعلقہ عدالت کے روبرو اپنا دفاع کر سکیں او ر اپنی ضمانت کرا سکیں۔‘

میاں شہباز شریف کو لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پانچ افراد کے قتل کے مقدمہ میں اشتہاری ملزم قرار دے رکھا ہے۔ان پانچ افراد کو ان کے دور میں مبینہ طور پر جعلی مقابلے میں ہلاک کیا گیا تھا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد