علی سلمان بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
 | | | رام گلیاں کے محمد اشتیاق نواز شریف کی واپسی کے منتظر ہیں |
معزول اور جلاوطن وزیراعظم میاں نواز شریف کے لاہور میں آبائی محلے رحمان گلیاں کے رہائشی ان کے بچپن کے دوست اور ساتھی ان کی آمد کے منتظر ہیں۔ان کا خیال ہے کہ گئےدن لوٹ آئیں گے۔ وہ ایک بار پھر نواز شریف کے ساتھ ملکر مختلف تھڑے ہوٹلوں، کھوکھوں اور ریڑھیوں پر کھڑے ہوکر کھابے(خصوصی پکوان) اڑائیں گے۔ حلوہ پوری، سری پائے اور نان بالائی کا ناشتہ ہوگا۔ چکڑ چھولوں، مرغ مسلم کا لنچ اور دیسی گھی کا تڑکا لگا ہریسہ کلچہ کا ڈنر اور ہاضمے کے لیے سوڈے والی بوتلیں چلیں گی اور ہاں سائیڈ آئٹم کے طور پر گول گپے اور دودھ دہی کی لسی اور ٹھنڈی کھیر کا لطف اٹھایا جاسکتا ہے۔ لاہور کے قدیمی علاقوں رحمان گلیاں اور گوالمنڈی کے گلی محلوں میں پھر کر اور ان دکانوں، ڈھابوں اور خوانچہ فروشوں کے پاس جاکر اندازہ ہوا کہ لاہوری لیڈر نواز شریف کھانے پینے کے معاملے میں زیادہ مقدار اوراعلی معیار پر یقین رکھتے ہیں۔ یوں تو نواز شریف رام گلیوں میں پل بڑھ کر جوان ہوئے لیکن وزیراعلی اور وزیر اعظم بن جانے کے بعد بھی وہ گوالمنڈی اور رام گلیوں میں کھانے پینے کے ان ٹھکانوں پر پہنچ جاتے تھے جہاں ان کا بچپن گزرا تھا۔  | لکشمی چوک کے گول گپے  لکشمی چوک میں گول گپے کی ریڑھی لگانے والے نوجوان محمد اکرم کی آنکھوں میں نواز شریف کا ذکر سن کر پانی تیرنے لگا۔ اس نے کہا کہ میں اپنے والد کے ہمراہ ریڑھی پر موجود تھا جب وزیراعلی نواز شریف اچانک آگئے، انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں میرے والد کو مخاطب کر کے کہا کہ پہلوان جی کھٹا اور ٹھنڈا زیادہ۔۔۔  |
رام گلیاں کے دودھ دہی فروش ملک اظہار سلور کے گلاس اور سٹین لیس سٹیل کے پرانے مگ سے دودھ دہی کی لسی کی دھار بنا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف یہیں بینچ پر آکر بیٹھتے تھے اور چینی دہی اور دودھ کی ٹھنڈی لسی پیتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جب بھی پاکستان آئے اس دکان پرضرور آئیں گے۔محمد فیاض نسبت روڈ پر ایک کشمیری ڈش ہریسہ فروخت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کی دکان سے اب بھی شریف خاندان کے لوگ ہریسہ لیکر جاتے ہیں۔ ہریسہ سبزی مائل حلیم کی طرح کا ہوتا ہے جس میں بڑے گوشت کے قیمے کے کباب ڈالے جاتے ہیں اور دیسی گھی کا تڑکا لگایا جاتا ہے۔ محمد فیاض نے کہا کہ اقتدار میں آجانے کے بعد بھی نواز شریف اسی تھڑے پر آتے تھے اور میرے والد کو فرمائش کیا کرتے تھے کہ ’ذرا کوفتے زیادہ ڈالنا۔‘ لکشمی چوک میں گول گپے کی ریڑھی لگانے والے نوجوان محمد اکرم کی آنکھوں میں نواز شریف کا ذکر سن کر پانی تیرنے لگا۔ اس نے کہا کہ میں اپنے والد کے ہمراہ ریڑھی پر موجود تھا جب وزیراعلی نواز شریف اچانک آگئے، انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں میرے والد کو مخاطب کر کے کہا کہ پہلوان جی کھٹا اور ٹھنڈا زیادہ۔۔۔  | | | نواز شریف یہیں بینچ پر آکر بیٹھتے تھے اور چینی دہی اور دودھ کی ٹھنڈی لسی پیتے تھے:ملک اظہار | محمد اکرم نے کہا کہ وہ دو درجن گول گپےکھا جاتے تھے۔ محمد اکرم نے کہا کہ ایک پولیس ٹریفک سارجنٹ انہیں بہت تنگ کیا کرتا تھا اور مفت گول گپے کھا جاتا تھا۔ لیکن جب اس نے نواز شریف اور ان کے اہلخانہ کو اس ریڑھی پر ادائیگی کرتے دیکھا تو تنگ کرنا چھوڑ گیا۔نواز شریف کے محلےدار ریگل چوک کے بابا چراغ کا ذکر کرتے ہیں جس سے نواز شریف بچپن میں چکڑ چھولے کھایا کرتے تھے۔ با با چراغ نے نواز شریف کے وزیر اعظم بن جانے کے بعد انہیں ان کا بچپن کا کھانا یاد دلایا اور بدلےمیں ریگل چوک پر اپنی دکان پکی کروانے کا حکم حاصل کر لیا تاہم نواز شریف کا تختہ الٹے جانے کے بعد بابا چراغ کا چکڑ چھولے کا تختہ بھی الٹ دیا گیا تھا۔ نواز شریف صادق حلوائی کی دکان سے حلوہ پوڑی اور چودھری جاوید کی دکان سے سری پائے کھاتے رہے ہیں۔ چودھری جاوید سے دوبار رابطہ کی کوشش کی گئی لیکن وہ ٹال گئے اور انہوں نے کہا کہ وہ بی بی سی کے دفتر آکر انٹرویو دیں گے لیکن دس ستمبر کے بعد! چودھری جاوید کے علاوہ رام گلیاں میں کوئی دوسرا شخص ایسا نہیں ملا جو حکومت کے خوف سے نواز شریف کے حق میں انٹرویو دینے سے کترا رہا ہو۔ نواز شریف کرکٹ کے کھلاڑی بھی تھے اور ملک جتنے بھی نازک دور سےگزر رہا ہوتا وہ وزیراعظم اتوار کا میچ کھیلنا نہیں بھولتے تھے۔  | | | نواز شریف کے استقبال کی تیاریاں | شجاع بٹ کا دعویٰ ہے کہ وہ گلی محلے میں میاں نوازشریف کے ساتھ کرکٹ کھیلتے اور پتنگ بازی میں پیچ لڑاتے رہے ہیں۔ ان کے بقول میاں نوازشریف کمال کا پیچ ا(پیچ لڑاتے) کرتے تھے۔ انہوں نے کہا وہ نواز شریف کے پرستار ہوگئے ہیں اوران کی خاطر جیل بھی کاٹ آئے ہیں اور اب پھر اپنے بچپن کے یار کو لینے کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں۔خورشید بٹ نےکہا کہ نواز شریف وزیراعظم اور وزیراعلی بننے کے بعد بھی انہیں نہیں بھولے تھے اور اقتدار میں آنے کے بعدانہوں نے اپنے گلی محلوں کے پرانے کرکٹرز کے ساتھ میچ رکھا۔ نواز شریف جمخانہ کلب کے ممبر تھے لیکن جب میچ ہوا تو وہ اپنے پرانےساتھیوں کی ٹیم میں شامل ہوگئے اور اوپنگ کرتے ہوئے سینتیس رنز بنائے۔ شجاع بٹ رام گلیاں کے ایک چھوٹے ریستوران کے مالک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم بن جانے کے بعد وقت کی قلت کے باعث وہ سو دو سو پائے اور کھد زبان مغز وغیرہ پرائم منسٹرہاؤس منگوا لیا کرتے تھے اور اگر انہیں پرانے محلے کی زیادہ ہی یاد ستا رہی ہوتی تو ہمارے دیگچے، بنچ، برتن اپنے گھر کے لان میں لگوا کر تندور لگوا لیا کرتے تھے اور پوری فیملی کھانا کھاتی تھی۔ جلاوطنی سے قبل وہ وزیراعظم تھے توان کے ناشتےکے لئے صادق کی حلوہ پوری اسلام آباد منگوائی جاتی تھی۔ نواز شریف آٹھ برس سے جلاوطنی کی زندگی بسر کرتے رہے ہیں اور اب ناشتہ رام گلیاں سے منگوانے کی سہولت موجود نہیں ہے۔ ان کے محلےدار شجاع بٹ کو یقین ہے کہ نواز شریف کادل اپنے پرانے محلہ داروں سے ملنے اور روایتی کھانوں کے لیے مچل رہا ہوگا اور وہ ہر قیمت پر پاکستان لوٹیں گے۔ |