نواز شریف، جی ٹی روڈ پر پراسرار خاموشی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اعلان شدہ پروگرام کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف سوموار کے روز اسلام آباد ایئرپورٹ پر اترنے کے بعد گرینڈ ٹرنک (جی ٹی) روڈ کے ذریعے لاہور روانہ ہوں گے۔ اپنی وزارت عظمی کے دور میں بڑے چاؤ سے تعمیرکردہ موٹر وے پر پانچ سو سال پرانی گزر گاہ کو فوقیت دینے میں نواز شریف کی یہ توقع پنہاں نظر آتی ہے کہ اسلام آباد سے لاہور تک ان کا عوامی استقبال کیا جائے گا۔ پنجاب کے چھوٹے بڑے قصبوں اور شہروں سے گزرتی اس شاہراہ پر نواز شریف کے ممکنہ سفر سے ایک روز قبل جی ٹی روڈ کے کنارے ان آبادیوں میں نواز شریف کے حامیوں اور پولیس کے درمیان جاری آنکھ مچولی اس بات کی مظہر ہے کہ کم از کم انتظامیہ تو سمجھتی ہے کہ ایسا عین ممکن ہے۔ لیکن اگر استقبالی تیاریوں کی بات کی جائے، تو دو سو کلومیٹر سے زائد اس سفر میں جی ٹی روڈ کے ساتھ نہ تو بڑی مقدار میں بینرز اور پوسٹرز نظر آتے ہیں اور نہ ہی روایتی خیر مقدمی نعروں سے دیواریں رنگی ہیں۔ گوجر خان، دینہ، جہلم، سرائے عالمگیر، گوجرانوالہ سمیت جی ٹی روڈ پر واقع اکثر بڑے شہروں میں مسلم لیگ (ن) کی تنظیم خاصی مضبوط سمجھی جاتی ہے۔ تو پھر آٹھ سالہ جلاوطنی ترک کے واپس آنے والے رہنما کے استقبال سے صرف ایک روز پہلے یہ منظر اتنا پھیکا کیوں؟ جی ٹی روڈ کنارے بسے شہروں میں مسلم لیگ (ن) کے دفاتر کے مناظر اسکی کچھ وضاحت کرتے ہیں۔ جہلم مسلم لیگ کے دفتر پر تالہ پڑا ہے۔ قریب ہی مقامی رہنما راجہ افضل کی رہائش گاہ ہے۔ اس پر بھی تالہ نظر آیا لیکن موبائل فون پر رابطوں کے بعد اس گھر کا تالہ کھلا تو معلوم ہوا کہ اہل خانہ تو اندر ہی موجود ہیں۔
استفسار پر راجہ افضل کے قریبی عزیز اور شہر کی ایک کونسل کے نائب ناظم شاہ نواز نے بتایا کہ گزشتہ شب سے انکے شہر میں مسلم لیگی کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گھروں اور دفتروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور گلی محلوں میں پولیس اور انٹیلیجنس کے ارکان نواز شریف کے حامیوں کی بو سو نگھتے پھر رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ راجہ افضل اور دیگر اہم رہنما عملاً روپوش ہیں لیکن سوموار کے روز تک۔ اس روز وہ باہر بھی نکلیں گے اور جلوس کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد ایئرپورٹ بھی جائیں گے۔ جھنڈوں اور بینرز کی عدم موجودگی کی وجہ گوجر خان میں مسلم لیگی رہنما راجہ خورشید زمان کی رہائش گاہ جا کر معلوم ہوا کہ ایک کمرے میں سینکڑوں خیرمقدمی بینرز اور پوسٹرز ڈھیر کی صورت پڑے ہیں۔ راجہ خورشید زمان کے سیکرٹری محمد صابر کا کہنا ہے کہ تین روز سے ان بینرز کو جی ٹی روڈ کنارے آویزاں کرنے کی کوشش جاری ہے لیکن جب بھی کوئی کارکن بینر لگانے جاتا ہے تو واپس نہیں آتا بلکہ اسکی خبر مقامی تھانے سے آتی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ بینرز اور خیرمقدمی نعرے آویزاں ہونے کے لئے لائے گئے ہیں، اور یہ نواز شریف کے جی ٹی روڈ سے گزرنے کے وقت ان کا استقبال کریں گے، چاہے مزید کارکنوں کو جیل جانا پڑے۔ عبدالرؤف شیخ لاڑکانہ سے آئے ہیں اور اب براستہ جی ٹی روڈ اسلام آباد ایئرپورٹ کی جانب گامزن ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انکے ساتھ ایک سو سے زائد لوگ ہیں جو سندھ کے مختلف علاقوں سے نواز شریف کا استقبال کرنے آئے ہیں۔ راستے میں جگہ جگہ پولیس نے روکا، رکاوٹیں کھڑی کیں لیکن یہ پولیس کو جل دیتے گوجر خان تک پہنچنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ اب سفر بھی تھوڑا رہ گیا ہے۔ گجرات مسلم لیگ (ق) کے چوہدری برادران (شجاعت حسین اور پرویز الہی) کا گڑھ ہے۔ علاقے میں ترقیاتی کاموں کے باعث لوگ ان کے حامی ہیں۔ لیکن چند لوگوں سے گفتگو کے بعد اندازا ہوا کہ مخالف وہ نواز شریف کی واپسی کے بھی نہیں ہیں۔ فدا گجرات میں ایک نجی ادارے کے ملازم ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ وہ چوہدریوں کے حامی ہیں اور رہیں گے لیکن نواز شریف کی واپسی کے مخالف نہیں۔ ’نواز شریف ضرور واپس آئیں۔ لیکن بدامنی کی وجہ نہ بنیں۔ پرامن طریقے سے آئیں اور قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے انتخاب میں حصہ لیں۔‘ |
اسی بارے میں اسلام آباد ایئرپورٹ کا علاقہ ممنوعہ09 September, 2007 | پاکستان نواز شریف روانہ، شہباز پرواز نہیں کر رہے09 September, 2007 | پاکستان نواز، شہباز ہیتھرو ایئرپورٹ کی طرف روانہ09 September, 2007 | پاکستان ’فائدہ نواز شریف کا ہی ہوگا‘09 September, 2007 | پاکستان جڑواں شہروں میں گہما گہمی نہیں 09 September, 2007 | پاکستان نواز شریف، معاہدہ، پاکستانی اخبارات 09 September, 2007 | پاکستان ’ہمارے دو ہزار کارکن گرفتار‘09 September, 2007 | پاکستان ’ہمارے دو ہزار کارکن گرفتار‘09 September, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||