BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 September, 2007, 14:49 GMT 19:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہمارے دو ہزار کارکن گرفتار‘
فائل فوٹو
حکومت کا کہنا ہے کہ نواز شریف مزید تین سال تک واپس نہیں آ سکتے
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف کے استقبال کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کے طور پر حکام نے ان کے دو ہزار سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

واضح رہے کہ 1999 میں جنرل پرویز مشرف نے اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف کو ہٹا کر خود اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ توقع ہے کہ نواز شریف پیر کی دوپہر اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔


حکام کا ائر پورٹ کی قریبی سڑکیں بند کرنے کا منصوبہ ہے اور گرد و نواح میں ریلیاں نکالنے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

مسلم لیگ نواز گروپ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ صوبہ پنجاب جو شریف خاندان کی طاقت کا سرچشمہ ہے، وہاں سے پچھلے چار دنوں کے دوران ان کے دو ہزار سے زائد کارکنوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

صوبے کے پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ’فساد پھیلانے والے‘ کئی سو افراد کو حراست میں لیا ہے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا ہے کہ انتخابات سے قبل مشرف کے خلاف مہم کی قیادت کے لیے وہ وطن واپس ضرور جائیں گے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ یہ فیصلہ دیا تھا کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف وطن واپس آسکتے ہیں تاہم حکومت نے نواز شریف سے کہا تھا کہ وہ ملک سے جاتے وقت کیے گئے اپنے جلاوطنی کے معاہدے کی شرائط کی پاسداری کریں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مزید تین سال تک وطن واپس نہیں آ سکتے۔ نواز شریف کا کہنا ہے کہ معاہدہ صرف پانچ سال کے لیے تھا۔

فائل فوٹو
 میں اپنے بھائی کے ہمراہ دس ستمبر کو پاکستان ضرور جاؤں گا کیونکہ میرے وطن کو میری ضرورت ہے
نواز شریف
سنیچر کو لندن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’میں اپنے بھائی کے ہمراہ دس ستمبر کو پاکستان ضرور جاؤں گا کیونکہ میرے وطن کو میری ضرورت ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں ڈکٹیٹرشپ کے خلاف پاکستان کے عوام کی قیادت کرنے جا رہا ہوں اور اسلام آباد میں بیٹھے ڈکٹیٹر کو انہیں روکنے کی بیکار کوششیں چھوڑ دینی چاہیں۔‘

حکومت کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران ہونے والے عام انتخابات سے قبل نواز شریف کی واپسی سے سیاسی عدم استحکام پیدا ہو جائے گا۔

اسلام آباد میں بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی واپسی جنرل مشرف کے لیے ایک چیلنج ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی معطلی کی ناکام کوشش کی وجہ سے صدر جنرل پرویز مشرف کی مقبول حمایت میں انتہائی کمی آ چکی ہے۔

حکومت نے ابھی یہ نہیں بتایا ہے کہ وہ نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کی پاکستان آمد کے موقع پر کیا قدم اٹھائے گی تاہم دونوں اشخاص کی اپنے خلاف مختلف الزامات کے تحت گرفتاری عمل میں آ سکتی ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے حق میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود انہیں ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔

اسلام آباد آمد کے بعد نواز شریف اور ان کے بھائی کا گاڑیوں کے ایک قافلے کے ہمراہ لاہور میں واقع اپنے گھر جانے کا ارادہ ہے۔

نواز، شہباز واپسی: لوگ کیا کہتے ہیں؟نواز، شہباز واپسی
گلی، محلوں اور بازاروں میں لوگ کیا کہتے ہیں؟
مشرف پر سیاسی دباؤ
جنرل مشرف پر (ق) لیگ کے خدشات اور تحفظات
نواز کی واپسی
اخبارات میں واپسی کی خبر کی سرخیاں
نواز شریفواپسی کا اعلان
لندن میں نواز شریف کی پریس کانفرنس
میاں نواز شریف’قبولیت کی شرط‘
مشرف کو چھوڑنے والے قبول ہونگے: نواز شریف
اخبارات کا ردعمل
شریف برادران ممکنہ قید سے نہ ڈریں: نوائے وقت
 مسلم لیگی خوشیاں مسلم لیگی جشن
عدالتی فیصلہ: خوشیاں، جشن، مٹھائیاں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد