’ہمارے دو ہزار کارکن گرفتار‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف کے استقبال کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کے طور پر حکام نے ان کے دو ہزار سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ مسلم لیگ نواز گروپ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ صوبہ پنجاب جو شریف خاندان کی طاقت کا سرچشمہ ہے، وہاں سے پچھلے چار دنوں کے دوران ان کے دو ہزار سے زائد کارکنوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ صوبے کے پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ’فساد پھیلانے والے‘ کئی سو افراد کو حراست میں لیا ہے۔
اسلام آباد میں گرفتار کیے جانے والے افراد کو قریبی مارگلہ تھانے میں رکھا گیا ہے تاہم پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ ان کی گرفتاری اعلیٰ حکام کے حکم پر عمل میں آئی ہے۔ ان پر ابھی تک کوئی دفعہ بھی نہیں لگائی گئی ہے۔ مرکزی دفتر کے چوکیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس چھاپے میں جو بھی وہاں موجود تھا اسے حراست میں لے لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پندرہ میں سے پانچ افراد دفتر کا عملہ تھا جبکہ باقی مہمان تھے۔ تاہم گرفتار کیے جانے والوں میں کوئی مرکزی رہنما نہیں ہیں۔ ادھر راولپنڈی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسے پنجاب حکومت نے گرفتاریوں کے سلسلے میں کوئی ہدف نہیں دیا ہے۔ تاہم اس کا کہنا ہے کہ شہر میں نافذ دفعہ ایک سو چوالیس پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر راولپنڈی عرفان الٰہی نے بتایا کہ میاں نوازشریف و شہباز شریف کی وطن واپسی کے موقع پر کسی بھی ممکنہ گڑبڑ سے نمٹنے کے لیے راولپنڈی انتظامیہ نے رینجرز، ایلیٹ فورس اور پنجاب کانسٹیبلری کی اضافی نفری طلب کر لی ہے تاکہ عوام کے جان و مال اور املاک کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ امن و امان کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے راولپنڈی کے داخلی اور خارجی راستوں پر مسلح اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ شہر میں آنے جانے والی گاڑیوں کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ شہر کے اندر ہر اہم چوک اور چوراہے سمیت حساس تنصیبات پر بھی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں عرفان الٰہی نے کہا کہ ان کی طرف سے نہ تو فوج کو طلب کیا گیا ہے اور نہ ہی ایسی کوئی ضرورت پیش آئے گی تاہم رینجرز اور ایلیٹ فورس سمیت دیگر پیرا ملٹری فورسز کو پولیس کی مدد کے لیے طلب کیا ہے۔ واضح رہے کہ 1999 میں جنرل پرویز مشرف نے اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف کو ہٹا کر خود اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ توقع ہے کہ نواز شریف پیر کی دوپہر اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ حکام کے مطابق ان کا ایئر پورٹ کی قریبی سڑکیں بند کرنے کا منصوبہ ہے اور گرد و نواح میں ریلیاں نکالنے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ نامہ نگاروں کے مطابق کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے حق میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود انہیں ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔ اسلام آباد آمد کے بعد نواز شریف اور ان کے بھائی کا گاڑیوں کے ایک قافلے کے ہمراہ لاہور میں واقع اپنے گھر جانے کا ارادہ ہے۔ |
اسی بارے میں نواز، شہباز ہیتھرو ایئرپورٹ کی طرف روانہ09 September, 2007 | پاکستان لاہور کے گول گپے، شریف کے منتظر09 September, 2007 | پاکستان ’معاہدہ صرف پانچ سال کے لیے تھا‘08 September, 2007 | پاکستان نواز واپسی کیخلاف سرگرمیوں کا الزام08 September, 2007 | پاکستان تمام ہوائی اڈوں پر ’ریڈ الرٹ‘ 08 September, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||