نواز شریف، معاہدہ، پاکستانی اخبارات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے تمام اخبارات نے سابق وزیراعظم نوازشریف، سعودی انٹیلی جنس کے سربراہ مقرن عبدالعزیر اور لبنان کے سابق وزیراعظم کے بیٹے سعد حریری کی الگ الگ نیوز کانفرنسوں کی خبریں صفحۂ اول پر شائع کی ہیں۔ ’روزنامہ جنگ‘ کی سرخی ہے: ’معاہدہ دس سال کا تھا نواز شریف پاکستان نہ آئیں، شہزادہ مقرن، سعد حریری‘۔ لندن میں نواز شریف کی پریس کانفرنس کو جنگ نے سُپر لیڈ بنایا ہے: ’پرویز مشرف میرے معاملے میں سعودی عرب کو مزید نہ گھسیٹیں۔ پانچ سال کا معاہدہ تھا، دس برس کی دستاویز پر دستخط کرائے گئے، کل پاکستان پہنچ رہا ہوں نواز شریف‘۔ نوائے وقت کے الفاظ ہیں: ’واپسی پر کوئی تشویش نہیں۔نوازشریف‘، ’معاہدے کی پاسداری کریں: سعد حریری، سعودی ایلچی‘۔ اخبار نے اسی خبر کے برابر میں سرخی لگائی ہے ’ کل وطن واپسی ضرور ہوگی ، نواز شریف‘۔ ’روزنامہ ایکسپریس‘ نے اسی خبر کو یوں شائع کیا ہے: ’واپس نہ آئیں۔ سعدحریری، سعودی ایلچی، معاہدہ پانچ سال کا تھا کل ہر صورت آئیں گے نواز شریف‘ اسی خبر کوانگریزی روزنامہ ’ڈان‘ نے اس انداز میں شائع کیا ہے: ’جلاوطنی کا معاہدہ پانچ برس کے لیے تھا ، نواز شریف‘ ڈیلی ٹائمز نے خبر دی: ’نواز دوبارہ سعودی مہمان بن سکتے ہیں۔ سعودی شہزادہ۔ جب کہ نواز شریف کی پریس کانفرنس کے لیے ان الفاظ کا انتخاب کیا گیا ’میں واپس آرہا ہوں، نواز‘ دی نیشن نے سعودی انٹیلیجنس سربراہ کی پریس کو یوں شائع کیا: ’جلاوطنی میں رہیں‘ جب کہ نواز شریف کے پریس کانفرنس کے الفاظ ہیں ’نا ممکن‘ دی نیوز کے الفاظ ہیں ’سعودی عرب کا اصرار نواز شریف وطن واپسی کو مؤخر کریں‘ جب کہ اسی اخبار نے نواز شریف کی پریس کانفرنس کو ان الفاظ کے ساتھ شائع کیا ہے ’واپس جاکر ہی دم لوں گا، نواز شریف‘
نوائے وقت کی سپرلیڈ ہے ’مشرف ڈیل نہ کریں صدر منتخب کرا دیں گے، بے نظیر کی کرپشن کو قانونی بنانے کے لیے ہمارے کاندھے استعمال نہیں ہونے چاہیں۔ مجلس عاملہ حکمران مسلم لیگ‘ مسلم لیگ کے اجلاس کی خبر کو ایکسپریس نے یوں شائع کیا ہے ’قاف لیگ کے اجلاس میں ڈیل کی پھر مخالفت، نواز شریف کو ڈیپورٹ نہیں کیا جائے گا، شوکت عزیز‘ روزنامہ جنگ کے صفحہ اول پر خبر ہے کہ ’چیف جسٹس نے شہزادہ مقرن اور سعد حریری کے ساتھ ملاقات سے معذرت کرلی‘ اخبار ڈان نے ایک ادارتی نوٹ میں اس رجحان پر افسوس ظاہر کیا ہے کہ پاکستان کو اپنے سلگتے ہوئے سیاسی مسائل کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اپنے غیر ملکی دوستوں کی مدد طلب کرنی پڑتی ہے۔ اخبار کہتا ہے کہ اگر ہمارے ہاں جمہوری نظام ہوتا تو مشکلات پر قابو پانے کے لیے ہمیں کسی بیرونی نجات دہندہ کی ضرورت نہ ہوتی۔ اخبار لکھتا ہے کہ اس رجحان کے سبب ہم دینا کی نظروں میں تماشا بنے ہوئے ہیں ۔ ڈیلی ٹائمز کے اداریہ کا عنوان ہے ’ کیا نائن ٹین کو پاکستان میں نائن الیون ہونے والا ہے‘ اخبار لکھتا ہے کہ بہت سے لوگ پاکستان میں یہ جانتے ہیں کہ دس ستمبر سے حکومت اور حزب مخالف کے درمیان مخاذ آرائی شروع ہوگی۔ اخبار نے اشارہ دیا ہے کے اگرمحاذ آرائی بڑھتی ہے تو حکومت ہنگامی حالت یا مارشل لاء لگا سکتی ہے جس کے بعد کوئی نہیں جانتا کہ ملک کس طرف جائے گا۔ | اسی بارے میں ’فائدہ نواز شریف کا ہی ہوگا‘09 September, 2007 | پاکستان ’نواز شریف جیل جانے سے نہ ڈریں‘08 September, 2007 | پاکستان نواز شریف واپس نہ جائیں: سعودی عرب04 September, 2007 | پاکستان ’بینظیر، نواز شریف نہیں آسکتے‘18 May, 2007 | پاکستان ’نواز شریف کو کارگل کا علم تھا‘13 July, 2006 | پاکستان ’نواز شریف جھوٹ بول رہے ہیں‘27 February, 2006 | پاکستان بے نظیر، نواز شریف ملاقات پیرکو22 April, 2006 | پاکستان نواز شریف کا سخت لہجہ30 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||