احمدرضا بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 | | | اپنے ڈرامے میں طارق علی نے مرحوم بھٹو کو چیتا اور جنرل ضیاء الحق کو لومڑی سے تشبیہ دی |
بائیں بازو کی عالمی تحریک سے وابستہ ترقی پسند ادیب و دانشور طارق علی نے کہا ہے کہ پاکستان میں اب نہ چیتے ہیں اور نہ لومڑیاں، صرف گیدڑ ہیں اور ملک میں جو سیاست چل رہی ہے اسےگیدڑوں کی بارات ہی کہا جاسکتا ہے۔ یہ بات انہوں نے بی بی سی سے خصوصی بات چیت کے دوران پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہی۔ طارق علی برطانیہ میں مقیم ہیں اور ان دنوں پاکستان آئے ہوئے ہیں۔ ملک کے سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی سربراہ ذوالفقارعلی بھٹو کی پھانسی اور اس وقت کے حالات پر ’چیتا اور لومڑی‘ کے عنوان سے تحریر کردہ اپنے ڈرامے میں طارق علی نے مرحوم بھٹو کو چیتا اور جنرل ضیاء الحق کو لومڑی سے تشبیہ دی تھی لیکن بھٹو کی صاحبزادی اور پی پی پی کی موجودہ چئرپرسن بے نظیر بھٹو پر انہوں نے کڑی تنقید کی۔ ’وہ بھی گیدڑوں میں شامل ہوگئی ہیں اور پاکستان کی موجودہ سیاست کا نتیجہ یہی ہوگا کہ حالات تبدیل نہیں ہوں گے پاکستان کا سٹیٹس یہی رہے گا اور اگر الیکشن ہوئے تو یہی جماعتیں پھر دوبارہ آجائیں گی ایک دوسرے کے ساتھ ڈیل کرکے‘۔ بے نظیر بھٹو کی جنرل مشرف کے ساتھ شراکت اقتدار کے لیے رابطوں اور بالواسطہ یا بلاواسطہ بات چیت پر تبصرہ کرتے ہوئے طارق علی نے کہا کہ ’بینظیر کا یہ قدم بہرحال ایک جرم ہے جس کا مطلب ہے کہ انہوں نے کچھ نہیں سیکھا نہ اپنے ماضی سے اور نہ اس ملک کی تاریخ سے۔ انہیں بس ایک ہی لالچ ہے کہ کسی طرح پھرگدی پر بیٹھو بیشک اس گدی کے حصے کرنا پڑیں، اپنے خلاف مقدمات ختم کروالو اور پھر اور پیسے بناؤ‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’سیاست اور پیسہ اب یہاں بالکل ایک ہوگیا ہے دونوں نواز شریف اور بے نظیر پہلے بھی یہی کرتے رہے ہیں اب یہ بدل جائیں گے؟ مشکل ہے‘۔ طارق علی چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کی بحالی کو ملکی تاریخ کا اہم واقعہ سمجھتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس سے نہ تو طاقت کا توازن بدلے گا اور نہ ہی حالات میں کوئی بڑی تبدیلی آئے گی۔ ’آخر طاقت تو فوج ہی کے پاس ہے بے شک اوپر کوئی بھی بیٹھا ہو، ہماری عدلیہ اب کچھ زیادہ دلیر ہوئی ہے لیکن یہ ہمیں بھولنا نہیں چاہیے کہ ججز بھی اسی معاشرے میں پیدا ہوتے ہیں‘۔
 |   بینظیر کا یہ قدم بہرحال ایک جرم ہے جس کا مطلب ہے کہ انہوں نے کچھ نہیں سیکھا نہ اپنے ماضی سے اور نہ اس ملک کی تاریخ سے۔ انہیں بس ایک ہی لالچ ہے کہ کسی طرح پھرگدی پر بیٹھو بیشک اس گدی کے حصے کرنا پڑیں، اپنے خلاف مقدمات ختم کروالو اور پھر اور پیسے بناؤ  طارق علی |
انہوں نے کہا کہ ’پانچ سال پہلے یہ عام بات تھی کہ ججز کو بھی رشوت دی جاسکتی ہے اور وکیل اپنے مؤکلوں سے ججز کی رشوت کی رقم الگ طے کیا کرتے تھے اس بناء پر یہ امید رکھنا کہ سپریم کورٹ کوئی غیرمعمولی کردار ادا کرسکے گی غلط ہوگا‘۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ان مشکلات کا فی الحال کوئی حل نظر نہیں آرہا۔ ’کوئی سیاسی جماعت ایسی نہیں ہے جو عوام کے لیے جدوجہد کرتی ہو سپریم کورٹ سے یہ امید رکھنا کہ وہ اب عوام کے لیے جدوجہد کرے گی یہ تو بات نہیں بنتی۔ وہ تو ایک قانونی ادارہ ہے اور قانونی مقدمات کچھ بہتری لاسکتی ہے لیکن بنیادی ڈھانچہ تو نہیں بدلے گا اور اس ملک کی شدید ضرورت تو بنیادی ڈھانچہ اور اسے بدلناہے‘۔ طارق علی نے ملک میں خودکش حملوں کی لہر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ پہلی بار ہمارے ملک میں ہورہا ہے اور یہ بہت افسوسناک ہے کہ بچوں اور نوعمر لوگوں کو اس طرح قربان کیا جارہا ہے اور اس کے نتائج خراب ہی ہوں گے سب کے لیے‘۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگر فوج چاہے تو ان کارروائیوں کو بند کرواسکتی ہے کیونکہ اسے سب پتہ ہے۔ ’آخر ہماری اتنی انٹیلی جنس ایجنسیاں ہیں ان کو آپ کے خیال میں نہیں پتہ کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور کون کرا رہا ہے؟ تو ان سے پوچھا جانا چاہیے کہ آپ کیوں نہیں بند کروارہے‘۔ |