مظہر زیدی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن |  |
 | کتاب میں نئے انکشاف  |
ستمبر انیس سو پچاسی کی ایک شام جب طارق علی کو بی بی سی ڈرامہ ڈیپارٹمنٹ سے ایک فون آیا اور انہیں پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے اور ان کو پھانسی دئیے جانے کے موضوع پر ڈرامہ لکھنے کو کہا گیا تو یقینًا اس وقت کے جواں سال اور ریڈیکل طارق علی نے یہ پیشکش بہت خوشی سے قبول کر لی۔ بھٹو اور ضیا کی یہ کہانی جس نے پچھلے تین عشروں سے کم سے کم ایک پوری نسل کے اجتماعی شعور کو محصور کر رکھا ہے، بہت جلد ہی طارق علی کے قلم سے تکمیل کو پہنچ گئی۔ ڈرامے کی تیاریاں بھی شروع ہوگئیں لیکن پھر بقول طارق علی بی بی سی کی انتظامیہ اس پروجیکٹ کو آگے بڑھانے سے ہچکچانے لگی۔ ظارق علی کا کہنا ہے کہ بی بی سی نے ایسا اس لئے کیا کیونکہ اس پر برطانوی وزارت خارجہ نے دباؤ ڈالا کہ سویت یونین کے خلاف سرد جنگ میں اتحادیوں کے ساتھی جنرل ضیا پر ہاتھ ہلکا رکھا جائے۔  | چیتا کون اور لومڑی کیا؟   چیتا تو بھٹو ہے، اس میں تو کوئی شک ہی نہیں۔ لومری کی ایک خصوصیت ہوتی ہے ، چالاکی۔ ضیا چالاک نکلا اور بھٹو دلیر۔  طارق علی |
اس کے برعکس بی بی سی نے اس وقت یہ کہہ کر اس ڈرامہ پروجیکٹ کو ختم کردیا کہ ایسا ڈرامہ کئے جانے میں قانونی رکاوٹیں ہیں اور بہت سے لوگ بی بی سی پر ہرجانہ کرسکتے ہیں۔ طارق علی اور بی بی سی کی اس ’انفرادی سرد جنگ’ کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ سکرپٹ طارق علی کی سٹڈی میں قید ہوکر رہ گیا۔ لیکن اب اس واقعے کے تقریباً اکیس سال کے بعد اس ڈرامے کا سکرپٹ ایک کتاب کے شکل میں چھاپا گیا ہے۔ انگریزی زبان میں شائع ہونے والی اس کتاب’دی لیپرڈ اینڈ دی فوکس’ میں بی بی سی کے وکلا کا تجزیہ بھی شامل کیا گیا ہے۔
بی بی سی اردو نے اس سلسلے میں طارق علی سے ایک خصوصی انٹرویو کیا ہے اور ان کی کتاب اور اس زمانے کے واقعات کے بارے میں ان سے تفصیلی بات چیت کی۔ اس انٹرویو میں انیس سو ستر کی دہائی کی کچھ خصوصی آرکائیو ویڈیوز بھی شامل کی گئی ہیں۔
|