BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 September, 2006, 02:22 GMT 07:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اوم پوری جنرل ضیاء بنیں گے

اوم پوری کریکٹر ایکٹر کی حیثیت سے معروف ہیں
گونا گوں کردار ادا کرنے والے بھارتی کریکٹر ایکٹر اوم پوری کی دستارِ اداکاری میں ایک اور کلغی لگ گئی ہےکیونکہ انھوں نے ہالی وُڈ کی ایک فلم میں سابق پاکستانی صدر ضیاء الحق کا کردار قبول کر لیا ہے۔

فلم کا نام ہے ’چارلی وِلسن کی جنگ‘ جوکہ اسی نام کی ایک سیاسی کتاب پر مبنی ہے۔ کہانی کے مطابق ریاست ٹیکساس کا ایک رکنِ کانگریس چارلی وِلسن، سی آئی اے کی مدد سے افغانستان میں سوویت فوجوں کے خلاف لڑنے والے افغانوں کی خفیہ امداد کا ایک منصوبہ بناتا ہے جوکہ بعد میں اتنا خفیہ بھی نہیں رہتا کیونکہ پاکستان کے صدر ضیاء الحق کو براہِ راست اس منصوبے میں شامل کر لیا جاتا ہے۔

مرکزی نسوانی کردار کےلئے جولیا رابرٹس کا انتخاب کیا گیا ہے
ضیاءالحق کا کردار ادا کرنے کےلئے کئی نام زیرِ غور رہے اور بالآخر قرعہ فال اوم پوری کے نام نکلا جوکہ پہلے بھی انگریزی زبان کی کئی بین الاقوامی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھا چُکے ہیں مثلاً

The King of Bollywood, Foul and Final, Code 46, Miss India - The Mystery, The Sea Captain's Tale, Happy Now, The Zoo Keeper, The Mystic Masseur, Such a Long Journey, East is East, Bollywood Calling, The Ghost & and The Darkness, My Son The Fanatic, The Burning Season, Wolf, Brothers in Trouble, Genesis, Sam & Me, City of Joy, In Custody, Gandhi, The Jewel in The Grown - TV

اوم پوری کا شمار اُن اداکاروں میں ہوتا ہے جو بھارتی سینما میں ابھرنے والی ستّر کے عشرے کی ’نئی لہر‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس گروہ میں دہلی کے کچھ اسٹیج اداکار اور پُونا فلم انسٹی ٹیوٹ کے ایامِ آغاز کی ایکٹنگ کلاسوں سے فارغ التحصیل ہونے والے کچھ طلبہ شامل تھے جنکی صلاحیتوں کو شیام بینگل اور گووِند نہلانی جیسے ہدایتکاروں کی تربیت میں نکھرنے سنورنے کا نادر موقعہ ملا تھا۔

فلم کی کہانی افغانستان کے پس منظر میں لکھی گئی ہے
اپنی گہری سانولی رنگت اور کھردرے نقوش کے با عث اوم پوری شروع ہی سے سخت کوش قسم کے کرداروں میں کاسٹ کئے جاتے تھے۔ فلم ’آکروش‘ میں ایسا ہی ایک سخت جان اور اکھّڑ کردار ادا کرنے کے بعد اُن کی شہرت ہندوستان سے نکل کر یورپ اور اوقیانوس پار تک پھیل گئی لیکن ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں اُن کا اصل مقام فلم ’ایسٹ از ایسٹ‘ کے بعد متعین ہوا۔

ہالی وُڈ کی موجودہ فلم ’چالی وِلسن کی جنگ‘ میں انھیں جو رول دیا گیا ہے وہ جہاں اُن کی صلاحیتوں کا اعتراف ہے وہیں اُن کے لئے ایک چیلنج بھی ہے۔ فلم کا ابتدائی حصّہ اندرونِ امریکہ، اُن سیاست دانوں کی فکر مندی اور بھاگ دوڑ پر مبنی ہے جو افغانستان میں سوویت فوجوں کی موجودگی سے نالاں ہیں اور ہر قیمت پر انھیں پسپا کرانا چاہتے ہیں۔ چنانچہ اسی غرض سے امریکی انٹیلی جینس ایجنسی ’سی آئی اے‘ وہ آپریشن شروع کرتی ہے جِسے انسانی تاریخ کی سب سے بڑی خفیہ کاروائی قرار دیا جاتا ہے۔

چارلی وِلسن کا مرکزی کردار ٹام ہینکس ادا کر رہے ہیں
اوم پوری کا کردار فلم میں اُس وقت نمودار ہوتا ہے جب امریکی حکام اِس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ صدر ضیاء الحق کو اس خفیہ کاروائی میں شامِل کئے بغیر چارہ نہیں۔

اوم پوری کا کہنا ہے کہ ضیاءالحق کا روپ دھارنا اُن کی اداکارانہ صلاحیتوں کےلئے ایک بہت بڑی چنوتی ہے لیکن اب جبکہ وہ اس چیلنج کو قبول کر چُکے ہیں تو پلٹ کر نہیں دیکھیں گے اور اس کام کو بخیرو خوبی پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔

افغانستان میں خفیہ کاروائی کی منصوبہ بندی کرنے والے رکنِ کانگریس چارلی ولسن کا کردار معروف امریکی فنکار ٹام ہینکس ادا کر رہے ہیں اور مرکزی نسوانی کردار کےلئے ہالی وُڈ کی جانی پہچانی اداکارہ جُولیا رابرٹس کا انتخاب کیا گیا ہے۔

اوم پوری اس سے پہلے ’سی کیپٹن‘ اور بین الاقوامی شہرت کی دیگر بہت سی فلموں میں کام کر چُکے ہیں
اوم پوری کے علاوہ دیسی کرداروں میں فاران طاہر، نوید نگہبان، مالک پنچولی، اور رضوان منجی کو کاسٹ کیا گیا ہے۔

سن اُنیس سو اسی کے عشرے کا افغانستان دکھانے کےلئے موجودہ افغانستان میں شوٹنگ خطرے سے خالی نہ تھی چنانچہ کچھ کام تو ہالی وُڈ میں سیٹ لگا کر کیا جائے گا اور جن مناظر کی فلم بندی صرف بیرونِ در ہی ہو سکتی ہے ان کےلئے مراکش میں مناسب مقامات تلاش کر لئے گئے ہیں اور ایک لوکیشن پر شوٹنگ شروع بھی ہو چُکی ہے۔

خیال ہے کہ آئندہ اٹھارہ ماہ میں فلم مکمل ہو کر عالمی سطح پر نمائش کےلئے پیش کردی جائےگی۔

لالی وڈ کی کہانی
سلمان رُشدی پاکستانی فلم میں کیسے در آیا
شوقیہ فلموں کا میلہ
لاہور کے الحمرا ہال میں ’امیچر فلم فیسٹیول‘
دوبئی فلمی میلہعرب سنیما کی زندگی
دوبئی میں فلمی میلہ: عرب فلم سازی کا احیاء
پُکارشعلے کا ری_میک
رام گوپال ورما ’شعلے‘ پھر سے بنائیں گے
لالی وڈ کی کہانی
سلمان رُشدی پاکستانی فلم میں کیسے آئے
ندیم شبنمسپر ہِٹ فلمیں
1979 فلمی صنعت کا تاریخ ساز سال
اسی بارے میں
مجاجن: ایک حوصلہ بخش فلم
27 March, 2006 | فن فنکار
فِلمی صحافت کے گمنام سپاہی
11 March, 2006 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد