دنیا کا پہلا ’سوپ اوپرا‘ ڈرامہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
21 فروری 1947 کو یعنی آج سے پورے 59 برس پہلے ٹیلی وژن کا پہلا ’سوپ اوپرا‘ منظرِ عام پر آیا، نام تھا: A woman to remember اس سے پہلےسن 30 کے عشرے میں امریکی ریڈیو سٹیشنوں سے سلسلہ وار ڈرامے شروع ہو چکے تھے جنھیں دِن کے وقت گھریلو خواتین سنتی تھیں چنانچہ اشتہاری وقفوں میں زیادہ تر صابن کی تشہیر کی جاتی تھی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جب ٹیلی وژن پر روزانہ قِسط والے اِن ڈرامائی سلسلوں کا آغاز ہوا تو اولّین ڈرامہ جس موضوع پر تحریر کیا گیا وہ بذاتِ خود ’ریڈیو سوپ‘ ہی تھا یعنی ڈرامے کی کہانی ایک ایسی عورت کے گرد گھومتی تھی جو ریڈیو کی صدا کار ہے اور ایک مشہور ریڈیو سوپ میں کام کر رہی ہے۔ اسی سوپ میں کام کرنے والا ایک اور کردار اسکی جان کا دشمن بنا ہوا ہے۔ وہ ریڈیو ڈرامے کی ریہرسلوں میں اسے پریشان کرتا ہے، ڈرامہ نشر ہونے کے دوران بھی اسے ستاتا ہے اور ریڈیو سے باہر کی زندگی میں بھی ہاتھ دھو کے اُس کے پیچھے پڑا رہتا ہے۔ آخر ریڈیو سٹیشن میں کام کرنے والے ایک اور کردار کو خاتون سے ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے جو آہستہ آہستہ محبت میں بدل جاتی ہے۔ ٹیلی وژن کا یہ اوّلین سوپ صرف ڈھائی سال تک چلا لیکن اس میں کام کرنے والے فنکاروں کو اتنی شہرت ملی کہ بعد میں اُن کے ڈرامے سال ہا سال چلتے رہے۔
1956 میں شروع ہونے والا امریکی سوپ: As the World Turns آج تک چل رہا ہے اور خاصا مقبول ہے۔ روزانہ چلنے والے دو اور سوپ ڈرامے بھی یہاں قابلِ ذکر ہیں کیونکہ انھیں چلتے ہوئے چالیس برس سے زیادہ ہوگئے ہیں لیکن اُن کی مقبولیت میں کوئی فرق نہیں آیا اور یہ ڈرامے ہیں: برطانیہ میں آئی ۔ ٹی ۔ وی نے 9 دسمبر 1960 کو اپنے سلسلہ وار کھیل ’کارونیشن سٹریٹ‘ کا آغاز کیا تھا اور آج چھیالیس برس بعد بھی یہ سلسلہ کامیابی سے جاری ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کے علاوہ آسٹریلیا کے ٹیلی وژن نے بھی سوپ اوپراز یعنی صابن ڈراموں کو خوب مقبولیت بخشی ہے اور دو آسٹریلوی سلسلے تقریباً ساری دُنیا میں دکھائے جا چُکے ہیں۔ مغربی ملکوں کے بعد مشرق میں بھی صابن ڈراموں کا چلن ہو گیا ہے اور آج کل جاپان، چین، تھائی لینڈ، روس اور مشرقِ وسطیٰ میں روزانہ چلنے والے کئی کھیل کسی نشے کی طرح ناظرین سے چمٹ چکے ہیں۔ عربی زبان میں سب سے زیادہ سوپ مصر میں تیار ہوتے ہیں اور ساری عرب دنیا میں دکھائے جاتے ہیں۔
1965 کی پاک بھارت جھڑپوں میں پاکستانی ٹیلی وژن نے پروپیگینڈا کے محاذ پر جو کامیابیاں حاصل کیں اُن کے باعث ٹی وی کی مقبولیت میں فوری طور پر اضافہ ہو گیا، اور سلسلہ وار کھیل کی مانگ بھی بڑھنے لگی۔ اس موقعے پر ریڈیو پاکستان میں بطور سٹاف آرٹسٹ کام کرنے والے اشفاق احمد خم ٹھونک کر میدان میں آئے اور انھوں نے ٹاہلی تھلّے اور اُچّے برج لاہور دے جیسے سلسلے تحریر کئے جن میں اُردو پنجابی کے ملے جلے کردار تھے۔ لاہور میں منو بھائی، انور سجاد، بانو قدسیہ، امجد اسلام امجد اور بعد میں اصغر ندیم سیّد نے اس کام کو آگے بڑھایا جبکہ کراچی میں حسینہ معین، فاطمہ ثریا بجیا اور حمید کاشمیری اس طرح کے کھیل لکھتے رہے۔ سلسلے وار ڈرامے کی مقبولیت کے باوجود ہمارے یہاں روزانہ قسطوں والا صابن ڈرامہ عرصہ دراز تک رواج نہ پا سکا، البتہ بھارت میں ساس بہو کی گھریلو کہانیوں پر مبنی سلسلے جو شروع میں محض ہفتہ وار تھے بعد میں مسلسل چار دِن تک دکھائے جانے لگے۔ روزانہ سوپ کا تصوّر ہمارے لئے آج بھی کسی حد تک نیا ہے لیکن ٹی۔ وی چینلز کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اُن کا باہمی مقابلہ اب اس موڑ پر آن پہنچا ہے جہاں زیادہ اشتہار حاصل کرنے کے لئے ہر چینل زیادہ سے زیادہ قسطوں والے ڈراموں کی تلاش میں ہے۔ | اسی بارے میں چاکلیٹی ہیرو کے زوال کی کہانی10 February, 2006 | فن فنکار 1965 فلمی دنیا کا فیصلہ کُن سال23 January, 2006 | فن فنکار جنگجو ہیرو بمقابلہ رومانوی ہیرو26 December, 2005 | فن فنکار ۔۔۔مگر حکومت نہیں مانتی05 October, 2005 | فن فنکار جب پہلی بامقصد فلم بنی30 September, 2005 | فن فنکار منٹو: مزید خراجِ عقیدت14 September, 2005 | فن فنکار واٹر کلر کی طرف واپسی06 September, 2005 | فن فنکار کرشمہ کا ’متنازعہ‘ ڈرامہ12.05.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||