لگے رہو رام گوپال ورما | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
1990 کی کامیاب فلم شِوا پھر سے بن کر ریلیز ہو چکی ہے اس فلم کے ڈائریکٹر نے ارادہ ظاہر کیا ہے کہ وہ اپنی دیگر فلمیں بھی پھر سے بنائیں گے اور دوسروں کی بنائی ہوئی کچھ فلموں کے حقوق حاصل کر کے انھیں بھی اپنے انداز میں دوبارہ پیش کریں گے۔ فلمی دنیا میں ’ری۔میک‘ کا تصور نیا نہیں ہے۔ شیکسپئر کے ڈرامے اور چارلس ڈِ کنز کے ناول کئی کئی بار فلمائے جا چُکے ہیں اور خود ہندوستان میں دیوداس، چِتر لیکھا، ہیر رانجھا، لیلیٰ مجنوں اور انار کلی کا رومان متعدد بار فلمایا جاچکا ہے۔ یہ امر البتہ ہمیشہ متنازع رہا ہے کہ پُرانی فلموں کو دوبارہ بنانا کہاں تک جائز ہے۔ ہندوستان میں بولتی فلموں کا آغاز ہونے کے بعد پہلی سُپرہٹ فلم تھی ’پکار‘ جوکہ سہراب مودی کی ڈائریکشن میں 1939 میں بنی۔ اس وقت دنیا میں مُتکلم فلموں کو شروع ہوئے فقط دس سال کا عرصہ گزرا تھا اور ہندوستان میں پہلی بولتی فلم صرف آٹھ سال پہلے بنی تھی۔
’پکار‘ کی ریلیز کے کوئی تیس برس بعد سہراب مودی نے اس شاہکار کو پھر سے فِلمانے کا اِرادہ کیا اور ملکہ نورجہاوں کے کردار کےلیئے پری چہرہ نسیم کی بیٹی سائرہ بانو (مسز دلیپ کمار) سے رابطہ کیا۔ سائرہ نے اس شاندار پیشکش کے جواب میں کہا کہ جو فلمیں ماضی میں عوام کو بے انتہا متاثر کر چکی ہوں اور لوگوں کے ذہن پہ نقش ہو چکی ہوں انھیں دوبارہ بنانے کی حماقت کبھی نہیں کرنی چاہیئے۔ سائرہ بانو کا ٹکہ سا جواب سُن کر بزرگ فلم ساز سہراب مودی نے اُن کے شوہر دلیپ کمار سے رابطہ کیا اور انھیں چندر موہن والا کردار (جہانگیر) پیش کیا لیکن دلیپ کا جواب بھی وہی تھا کہ جب کوئی فلم کلاسیک کا درجہ اختیار کر جائے تو اُس سے چھیڑ چھاڑ نہیں کرنی چاہیئے کیونکہ ایسی فلموں میں صرف کہانی اور اداکاری ہی نہیں ہوتی بلکہ رُوحِ عصر بھی ہوتی ہے یعنی جس زمانے میں یہ فلمیں بنتی ہیں وہ زمانہ خود اِن فلموں میں سانس لینے لگتا ہے اور ’ری۔میک‘ میں یہ روحِ عصر کسی طرح بھی دوبارہ نہیں آسکتی۔
آج سے سولہ برس پہلے وہ تلیگو زبان کی فلم ’شِوا‘ بنا کر فلمی دنیا میں داخل ہوئے تھے اور ایک برس بعد اسی فلم کو ہندی میں ڈھال کر انہوں نے بالی وُڈ میں داخلے کا پاسپورٹ بھی حاصل کرلیا تھا۔
ہیرو سمیت سبھی اداکاروں نے بہت خوبی سے اپنے کردار نبھائے ہیں لیکن فلم کو دیکھ کر پہلا تاثر یہی اُبھرتا ہے کہ ہدایتکار تھک چکا ہے۔ کامیاب کمرشل تھِرلّر بنانے کا ایک فارمولا اس کے ہاتھ لگ چکا ہے جِس میں ایک ایماندار پولیس والا اپنے محکمے کی ساری کالی بھیڑوں سے تنِ تنہا مقابلہ کر رہا ہے اور ساتھ ساتھ اسے بد عنوان سیاست دانوں اور رشوت خور سرکاری افسروں سے بھی نِمٹنا ہے۔ اس کارِ خیر میں اسکا ہاتھ بٹانے کےلیئے اگر ایک جوان اور خوبصورت خاتون صحافی مِل جائے تو سونے پہ سہاگہ ہے۔ نئی شِوا کے بارے میں اُن کے دوستوں کا کہنا ہے کہ ناچ اور گانے پر تکیہ کر کے ورما جی پھر سن ستّر کی دہائی میں لوٹ گئے ہیں۔ خود رام گوپال ورما نے بھی اِس بات کو پوشیدہ نہیں رکھا کہ وہ اپنے بچپن اور نوجوانی میں دیکھی ہوئی فلموں پر طبع آزمائی کرنا چاہتے ہیں۔
رام گوپال ورما کے اِس اعلان نے ’ری۔میک‘ کے حق اور مخالفت میں جاری ازلی بحث کو پھر سے تازہ کردیا ہے۔ ری۔میک کے حامی کہتے ہیں کہ فلم سازی کی ٹیکنیک تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور ہر دس برس کے بعد فلم بینوں کی ایک نئی کھیپ مارکیٹ میں آجاتی ہے جِن کے ذوق کی تشفی کے لئے فلم ساز کو جدید ترین تکنیکی کرتب اختیار کرنے پڑتے ہیں۔ 1928 میں خاموش فلم دیوداس کو دیکھنے والے تماشائی مارکیٹ میں موجود تھے لیکن دس برس بعد اس خاموش فلم کے ناظرین ناپید ہوچکے تھے چنانچہ پی سی بروا نے کے۔ ایل سہگل کو کاسٹ کر کے یہی فلم دوبارہ بنائی اور باکس آفس پہ زبردست کامیابی حاصل کی لیکن سہگل والی دیوداس بھی 1950 کے عشرے میں اپنا اثر کھو چُکی تھی کیونکہ آواز کے زیرو بم کی باریکیوں کو ریکارڈ کرنے کےلیئے نئے مائیکرو فون اور بہتر کوٹنگ والے ٹیپ مارکیٹ میں آچُکے تھے نیز موتی لال، سچترا سین اور دلیپ کمار کی شکل میں فطری اداکاری کا نیا مدرسہء فکر بھی نمودار ہو ُچکا تھا۔ سنگیت میں بھی معاملہ استھائی اور انترے کی حدود سے نکل کر آرکیسٹریشن کی نزاکتوں کو چھونے لگا تھا چنانچہ اُس وقت کی نسل نے سہگل پر طلعت محمود کو ترجیح دی۔ آج کی نسل کو دیوداس کی کہانی جِس رنگین، سینما سکوپ صورت میں سٹیریو ساؤنڈ کے ساتھ درکار تھی وہ لیلا بھنسالی نے مہیا کر دی چنانچہ ری۔میک ہر نئی نسل کی ضرورت ہوتی ہے اور اس ضرورت کو پورا کرنے والے ڈائریکٹر کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ لیکن اس نقطہء نظر کے مخالفین دلیپ کمار اور سائرہ بانو کے ہم نوا ہیں اور کلاسیک کے درجے پہ پہنچی ہوئی کسی بھی فلم کو ہاتھ لگانا اُن کے نزدیک ایک مقدس شے کی بے حرمتی کے برابر ہے۔ اِن دونوں انتہاؤں کے بیچ ایک معقول رویّہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ عشق کی لوک داستانوں، تاریخی نوعیت کی تمثیلوں اور کلاسیکی ناولوں پر تو بار بار فلمیں بنتی رہنی چاہیئں کیونکہ ان تحریروں کا ادب کی دنیا میں مقام متعین ہو چکا ہے لیکن ایک ایسی کہانی جو براہِ راست فلم ہی کے ذریعے عوام تک پہنچی ہو اور کلاسیکی درجہ اختیار کر گئی ہو (مثلاً شعلے) اُسے دوبارہ فلمانے سے پہلے دس بار سوچنا چاہیئے۔ رام گوپال ورما نے یقیناً اس مسئلے پر غور کیا ہوگا کہ جو نسل گبّر سنگھ کے | اسی بارے میں پینتالیس سال بعد نئی ’پرینیتا‘17 May, 2005 | فن فنکار بولتی فلموں کی پلاٹینم جوبلی 14 March, 2006 | فن فنکار انڈین فلمی صنعت بھیڑ چال کا شکار22 April, 2006 | فن فنکار کلاسیکی دور کے کلاسیکی ہدایتکار07 August, 2006 | فن فنکار دلیپ کمار اور فنِ اداکاری25 April, 2004 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||