انڈین فلمی صنعت بھیڑ چال کا شکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی وڈ اور ممبئی کی زبان میں اگر کہا جائے کہ’یہاں جو بِکتا ہے وہی چلتا ہے اور جو چلتا ہے وہی بِکتا ہے‘ تو غلط نہیں ہوگا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ فلم ’بلیک‘میں رانی مکھرجی کے نابینا کردار کی مقبولیت کے بعد سے تقریباً ہر دوسری فلم میں فلمساز اپنے کرداروں کو نابینا بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ سنجے لیلا بھنسالی کی فلم ’بلیک‘ ایک کامیاب فلم تھی جسے کئی انعام و اعزاز سے نوازا گیا ہے اور اس میں رانی مکھرجی کی اداکاری کو بھی کافی سراہا گیا تھا۔ پھر کیا تھا فلمساز اپنی فلم میں ایک ایسا کردار ضرور پیش کر نا چاہتے ہیں جو یا تو نابینا ہے یا پھر جسمانی طور پر معذور اور اس میں کامیڈی فلمیں بھی پیچھے نہیں ہیں۔ بلیک کے فورا بعد امیشا پٹیل کو فلم’تیسری آنکھ‘میں ایک نابینا لڑکی کا کردار ملا اور اس کے بعد کنال کوہلی کی فلم’فنا‘ میں کاجول ایک نابینا کشمیری لڑکی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ وہ اس فلم میں عامر خان کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔
شادی کے بعد کاجول بالی وڈ سے غائب تھیں اور فلموں میں واپسی کے بعد یہ ان کی پہلی فلم ہے۔ عامر نے اس فلم میں کاجول کی اداکاری کی تعریف بھی کی ہے۔ یاد رہے کہ رانی مکھرجی کاجول کی چچازاد بہن بھی ہیں اور فلم انڈسٹری میں اب کاجول کا مقابلہ رانی سے کیا جا رہا ہے۔ ان دونوں فلموں میں ہیروئینوں کا کردار سنجیدہ ہے لیکن کامیڈی فلم’چھپ چھپ کے‘ میں کرینہ کپورگونگی بہری لڑکی بنی ہیں۔ اس کے علاوہ فلم ’پیارے موہن‘ میں وویک اوبیرائے بہرے اور فردین خان اندھے کا کردار نبھا رہے ہیں۔ یہ بھی ایک کامیڈی فلم ہے۔ دیپک تجوری نے فلم’ٹام، ڈک اینڈ ہیری‘ بنائی ہے جس میں ایک کردار اندھا، ایک گونگا اور ایک بہرا ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی اور ابھی مزید فلمیں قطار میں ہیں۔ جسمانی طور پر معذور کرداروں والی فلموں کے علاوہ فلموں کے سیکوئیل کا دور بھی چل نکلا ہے۔ فلم ’ہیرا پھیری‘ ایک کامیاب کامیڈی فلم تھی جس میں پریش راول، اکشے کمار اور سنیل شیٹی نے کام کیا تھا۔ اب اس کا سیکوئیل’پھر ہیرا پھیری‘ بن رہی ہے۔ ’منا بھائی ایم بی بی ایس‘ کی کامیابی کے بعد ودھو ونود چوپڑہ ’منا بھائی مِیٹس مہاتما گاندھی‘ بنا رہے ہیں۔
رتیک روشن کی فلم ’ کوئی مل گیا‘ کا سیکوئیل’ کرش‘ بن کر تیار ہے اور اسے ہالی وڈ کے سپر مین کا جواب مانا جا رہا ہے۔ فلم ’دھوم‘ میں ابھیشک بچن ، جان ابراہم اور ایشا دیول نے دھوم مچائی تھی اور اب اس کا بھی سیکوئیل ’دھوم پارٹ ٹو‘ بن رہا ہے۔ ماردھاڑ اور سنسنی خیز فلمیں بنانے کے ماہر رام گوپال ورما بھی اپنی فلم’شیوا‘ کا سیکوئیل بنانے کی تیاری میں ہیں۔ سیکوئیل کے بعد ری میک بھی زور شور سے جاری ہیں۔ فلم ’دیوداس‘ اور ’پرینیتا‘ کی کامیابی کے بعد ڈان ، شعلے ، امراؤ جان ادا بن رہی ہیں۔ کیا بالی وڈ کے پاس نئی کہانیوں اور خیالات کا فقدان ہے؟ اس کے جواب میں امیتابھ بچن کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے اور پھر ری میک کا چلن تو بہت پرانا ہے۔ کے ایل سہگل کی فلم دیوداس کے دلیپ کمار کی فلم بنی اور اس کے بعد شاہ رخ دیوداس بنے۔ سب فلمیں کامیاب ہوئیں۔ دراصل پرانی فلم کو نئے انداز میں نئی نسل کے لئے ان کے دور کے مطابق بنانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں 2006 کے آئیفا ایوارڈز دبئی میں19 April, 2006 | فن فنکار گیارہ ایوارڈ بلیک کے نام25 February, 2006 | فن فنکار ’ کیٹ واک‘ سے ’پورنوگرافی‘ تک04 January, 2006 | فن فنکار ’بلیک‘2005 کی بہترین فلموں میں31 December, 2005 | فن فنکار اقبال: ایک بامقصد اور منفرد فلم23 August, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||