اقبال: ایک بامقصد اور منفرد فلم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلمیں بنتی رہتی ہیں لیکن ایسی فلمیں کم ہیں جن سےسماج کو حوصلہ افزا پیغام ملتا ہو لیکن بالی ووڈ کی آنے نئی فلم اقبال ایک ایسی فلم ہے جسکا پیغام ہے کہ اگر لگن اور جستجو ہو تو مشکل ترین منزلیں بھی آسان ہوجاتی ہیں ۔ اس فلم کا ہیرو ایک ایساگونگا بہرہ لڑکا ہے جسکی دنیا اور زندگی صرف کرکٹ ہے۔ غربت کے سبب وہ اچھے اسکول میں داخلہ نہیں لے پاتا ہے اور باپ کی بھینسیں چراتا ہے۔ لیکن قومی کرکٹ ٹیم میں شامل ہونے کی اسکی تمنا ہر خواہش پر حاوی رہتی ہے۔ دشواریاں کم نہیں۔جسمانی طور معذور اقبال کی ماں اور چھوٹی بہن خدیجہ اس کی حامی ہیں تو والد کو کرکٹ سے سخت نفرت ہے۔ وہ اسے وقت ضیاع سمجھتے ہیں۔ ماں اور بہن کی چاہت ہے کہ اقبال کو کوئی اچھا کرکٹ کوچ مل جائے۔ بڑی مشکل سے ایک کرکٹ اکیڈمی میں اسے موقع ملتا ہے لیکن رئیس زادوں کے درمیان اس کی غربت وہاں بھی رخنہ انداز ہوتی ہے اور کوچ کی تلاش مایوسی میں بدل جاتی ہے۔ اقبال تو مایوس ہوجاتا ہے لیکن اس کی والدہ حوصلہ افزائی سے دستبردار نہیں ہوتی۔ وہ اپنے قصبے کے ایک سابق کھلاڑی موہت سے کوچنگ کی گزارش کرتا ہے۔ کسی زمانے میں موہت ایک زبردست گیند باز تھا لیکن حالات نے اسے شرابی بنا دیا ہے۔ یہ کردار نصیرالدین شاہ نے ادا کیا ہے۔ بڑی مشکلوں کے بعد اقبال موہت کو منانے میں کامیاب ہوتا ہے اور وہ چھپ کر اقبال کوگیند بازی سکھاتا ہے۔ نصیرالدین شاہ کا اس فلم میں تقریبا وہی کردار ہے جو فلم ’بلیک‘ میں امتیابھ بچن کا تھا۔ تمام پُرخار راستوں سے گزرتے ہوئے آخر اقبال کا خواب پورا ہوتا ہے۔ یعنی فلم کا پیغام ہے کہ: کانٹوں میں جو کھلتا ہے شعلوں میں جو پلتا ہے
یہ فلم سبھاش گھئی نے پروڈیوس کی ہے۔ اس کے متعلق سبھاش گھئی کا کہنا تھا ’میں اپنے دوستوں سے کہتا ہوں کہ فلم چلے یا نہ چلے ایک بار دیکھنا ضرور۔ فلم کی دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ایک ایسے معذور کہانی ہے جو تمام مشکلات سے لڑتا ہوا کامیاب ہوتا ہے‘۔ فلم کے ہدایات کار ناگیش ککنور ہیں۔ انوکھی طرز کے مالک ککنور کی اس فلم میں نا توکوئی ہیروئین ہے اور نا ہی گانے۔ اسکا ہیرو گونگا بہرہ ہے لیکن فلم اپنے آپ میں مکمل اور دلچسپ ہے۔ اقبال بنانے کے پیچھے ان کی کیا سوچ تھی اس کے بارے میں انھوں نے بتایا ’ہم سب خواب دیکھتے ہیں لیکن مجبوریوں کے سبب انہیں شرمندہ تعبیر نہیں کر پاتے لیکن ہمارا کہنا ہے کہ اگر اعتماد ہو اور عمل پیہم ہو تو بازی آپ کی ہے‘۔ ’یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم‘ ناگیش کا کہنا تھا کہ ایسی فلمیں بھی دلچسپ ہو سکتی ہیں جس میں آٹھ گانے نا ہوں اور نیم عریاں لباسوں میں اداکارایں اپنے جسم کی نمائش نہ کر رہی ہوں۔ فلم میں کرکٹ کے کھیل کو آرزؤں، امنگوں، امیدوں اور خوابوں کی تکمیل کے لیے بطور استعار استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی اگر جستجو اور سچی لگن ہو تو مشکل کچھ بھی حاصل کرنا ناممکن نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||