سلمان: مہاراشٹر اسمبلی میں ہنگامہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بولی وڈ اداکار سلمان خان کے مبینہ ٹیپ پر جمعرات کو مہاراشٹر اسمبلی میں بھی ہنگامہ آرائی ہوئی۔ پولیس کمشنر کا کہنا ہے کہ ’ہمیں پتہ نہیں کہ یہ ٹیپ کس نے ریکارڈ کیا ہے‘ سلمان خان اور ایشوریہ رائے کی گفتگو کے اس مبینہ ٹیپ کو لگاتار چینل پر دکھائے جانے سے بولی ووڈ میں ہنگامہ آرائی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر گوپی ناتھ منڈے نے اسمبلی میں سوال اٹھایا کہ اگر مذکورہ ٹیپ پولیس کے پاس چار برسوں سے تھا تو پولس نے اس پر کوئی کارروائی کیوں نہیں کی۔ انہوں نے پولیس کی کارکردگی پر شک و شبہ کا اظہار کیا اور اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ منڈے نے حکومت سے اس پر ایوان میں ہی جواب طلب کیا ہے۔ وزیر داخلہ آر آر پاٹل اور وزیر اعلی ولاس راؤ دیشمکھ نے کارروائی کا یقین دلایا ہے۔
فلم انڈسٹری اور انڈرورلڈ تعلقات کے بارے میں تحقیقات فلم ’چوری چوری چپکے چپکے‘ کے فلمساز ناظم رضوی کی گرفتاری سے شروع ہوئی تھیں اور پولیس نے اس دوران کئی فلمی ہستیوں کے فون ٹیپ کیے تھے۔ اس وقت ممبئی میں جوائنٹ پولیس کمشنر (جرائم ) ڈی شیوانندن تھے، پولیس کمشنر رائے نے انہیں آج طلب کیا اور ان کے درمیان کئی گھنٹے گفتگو ہوئی اس کے بعد کمشنر نے اپنے کیبن کے باہر منتظر میڈیا سے کہا کہ وہ اس بات کی تحقیقات کریں گے کہ آیا یہ ٹیپ پولیس کے پاس موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’چار برس پرانی بات اچانک سامنے آئی ہے۔ اگر پولیس کے ریکارڈ میں کچھ ہے تو وہ تفتیش کریں گے کہ اس وقت اس پر کیا کارروائی ہوئی تھی اس لیے ابھی کچھ کہنا مناسب نہیں ہو گا۔ پولس ذرائع کے مطابق اس وقت پولیس نے بولی ووڈ کے کئی اداکاروں اور اداکارؤں کے فون ٹیپ کیے تھے اور اس طرح ان کے پاس تقریبا چالیس ٹیپ موجود ہیں‘۔ انڈین ٹیلی گراف قانون کے مطابق کسی کا فون ٹیپ کرنے کے لیے باقاعدہ اجازت لی جاتی ہے لیکن پولیس نے ایسا نہیں کیا تھا اس لیے اسے سابق جج جے جیت سنگھ کے کیس میں شکست ہوئی تھی اور اسے کافی شرمندگی اٹھانی پڑی تھی۔ فلم انڈسٹری نے ایسے وقت میں سلمان خان کا ساتھ دیا اور کہا کہ سلمان کے خلاف یہ سازش ہے۔جب سلمان خان کی فلم ’میں نے پیار کیوں کیا‘ کا نوکس تھیٹرمیں پریمئیر ہے۔یہ ان کی ہوم پروڈکشن ہے ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||