| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھرت شاہ کو ایک سال قید کی سزا
ہندوستان کی ایک عدالت نے فلم ساز بھرت شاہ کو بالی وڈ کےانڈرورلڈ سے رابطے سے متعلق معلومات چھپانے کے الزام میں ایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔ بھارت کے شہر ممبئی میں قائم ایک خصوصی عدالت نے فلم ساز نسیم رضوی اور اس کے اسسٹینٹ عبدالرحیم بخش کو مافیہ کے ساتھ تعلقات کے الزام میں چھ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ بھرت شاہ کو ایک سال کی سزا کے سلسلے میں جیل نہیں جانا پڑے گا کیونکہ وہ پہلے ایک سال کی قید کاٹ چکے ہیں۔ ممبئے پولیس کے جوائینٹ کمشنر کا کہنا ہے کہ بھرت شاہ کے ساتھ بہت نرمی برتی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی جائے گی۔ سرکاری وکیل نے عدالت سے استدعلی کی تھی کہ بھرت شاہ کو سات سال کی سزا سنائی جائے۔ منگل کے روز عدالت نے فلم ساز اور فلموں صنعت کے سرمایہ کار بھرت شاہ انسداد دہشت گردی کے تحت درج کئے جانے والے کیس میں انڈرورلڈ کی کارروائیوں میں براہ راست ملوث ہونے کے الزامات سے بری کر دیا تھا۔ بھرت شاہ کو سن دو ہزار ایک میں ہندوستانی فلمی صنعت کی بعض معروف شخصیات کے خلاف کی جانے والے کارروائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بھرت شاہ کو ہندوستانی فلمی صنعت کا سب سے بڑا سرمایہ کار سمجھا جاتا ہے اور انہوں نے بڑے بجٹ سے تیار ہونے والی کئی فلموں میں سرمایہ کاری کی ہے۔ ان کی گرفتاری مشہور فلم چوری چوری چپکے چپکے سے متعلق ہونے والی تحقیقات کے بعد عمل میں لائی گئی تھی۔ ان تحقیقات میں اس بات کو جانچنے کی کوشش کی گئی تھی کہ آیا اس فلم کے لئے سرمایہ مافیہ گروہوں نے تو نہیں فراہم کیا تھا۔ بھرت شاہ نے فلم کے لئے انڈرورلڈ سے سرمایہ فراہم کئے جانے کے الزامات کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ انہوں نے فلم کے لئے خود اپنے سرمائے سے رقم فراہم کی ہے۔ پولیس نے تحقیقات کے دوران بھرت شاہ اور ممبئی کے معروف بدمعاش چھوٹا شکیل کے مابین ہونے والی ٹیپ شدہ گفتگو کو شہادت کے طور پر استعمال کیا تھا۔ پولیس نے اس سلسلے میں معروف فلمی اداکار سلمان خان سے بھی پوچھ گچھ کی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||