کلاسیکی دور کے کلاسیکی ہدایتکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’اے مالک تیرے بندے ہم‘۔۔۔ وی شانتا رام کی فِلم کا یہ گانا کسے یاد نہیں۔ بارہ قیدی، ایک جیلر اور ایک عزم، اُن کو بدلنے کا، ایک نئی راہ دکھانے کا۔ ’جب ظُلموں کا ہو سامنا، تب تو ہی ہمیں تھامنا‘، ہندی اردو کا یہ گیت آج بھی کیھی آنکھوں کو نم کردیتاہے۔ اور آخرمیں جیت اِنسان کی۔ انسان کی اسی ہار جیت کووی شانتا رام ہمیشہ تاریخ اور فن کے پس منظر میں دیکھتے رہے۔ وہ پہلے تو تھیٹر کی طرف راغب ہوئے۔ پھر آخر کار بابو راؤ پینٹر کی مہاراشٹر فلم کمپنی میں بحیثیت اسسٹنٹ کام شروع کیا۔ یہیں سے وی شانتا رام کی وہ کہانی شروع ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ پوری اِنڈسٹری میں جانے جاتے تھے۔ اُن کی فِلمیں اکثر ایک خاص انداز سے بنائی جاتی تھیں جس پر مراٹھی تھیٹر کا کافی اثر تھا۔1929 میں شانتارام نے اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ کولھاپور میں پربھات فِلم کمپنی شروع کی۔ اِسی کمپنی کے لیئے اُنھوں نے ایودھیا کا راجا فِلم 1931 میں بنائی۔ یہ پربھات کی پہلی ٹالکی فِلم ہونے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی پھلی بائی لنگیول یا دو زبانوں میں فلم تھی جو کہ ہندی اور مراٹھی میں بنائی گئی-
اگر ایک ہفتہ قبل سنت تُکا رام ریلیز نہ ہوئی ہوتی تو یہ مراٹھی میں بننے والی پہلی فِلم بھی کہلاتی۔ پربھات فِلم کمپنی نے اِس دور کی بہترین فِلمیں بنائیں جِن میں ایودھیا کا راجا، اگنی کنگن اور مایا مچھِندرا خاص طور پہ قابل ذکر ہیں۔ وی شانتا رام نے 1933 میں پہلی رنگین فِلم بنائی جو ئجرمنی کے یوفا سٹوڈیو میں پروسیس کی گی تھی- اِس فِلم کا نام سایراندھری تھا پر یہ باکس آفِس پہ نہ چل پائی۔ اب پربھات کولھاپور سے پونے شِفٹ کیا گیا۔ یہاں اِس کمپنی نے امرت منتھن(1936) اورامر جیوتی (1939) جیسی ہِٹ فِلمیں بنائیں۔ وی شانتا رام کی فِلم امرت منتھن پہلی ایسی فلم تھی جس نے سِلور جوبلی منائی۔ امرت منتھن کا ایک کلوز اپ لوگوں کو کافی پسند آیا جس میں پوری سکرین پہ بس ایک آنکھ دیکھی گئی۔ اِس فِلم کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ یہ بودھ دور کی کہانی تھی۔ اِسی دور کی ایک فِلم آدمی ایک پولِیس والے اورایک طوائف کے عشق کی کہانی پر مبنی تھی۔ اِس کے بعد شانتارام نے ایک مراٹھی ناول کو لے کر ایک سنجیدہ فِلم بنائی جِس کا نام تھا د’ُنیا نہ مانے‘۔ دُنیا نہ مانے کے بعد وہ زیادہ تر سماجی مناسبت رکھنے والی فِلمیں بناتے رہے۔ پی سی بروا کی فِلم دیوداس سے وہ کافی ناراض تھے۔ اُنہیں لگتا تھا کہ اِس فِلم نے ملک کے نوجوانوں کو مایوسی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ اِس وجہ سے وہ ترقی پسند فلمیں بناتے رہے۔
دُنیا نہ مانے کے بعد انہوں نے دو ہمسایہ ہندو اور مسلم دوستوں پہ ایک فِلم بنائی جن میں وقت گزرنے کے ساتھ دُشمنی پیدا ہو جاتی ہے۔ پڑوسی نام کی یہ فِلم لوگوں کو کافی پسند آئی۔ اِس فِلم میں ہندو کا کِردار ایک مسلم نے اور مسلم کا ایک ہندو اداَکار نے ادا کیا۔ اِسی دوران وہ اِس فِلم کی ادا کارہ جے شری کے کافی قریب آ گئے تھے۔ یہ بات پربھات کے باقی پارٹنرز کو پسند نہیں آئی۔ یہ رِشتہ اُن اصولوں کے خلاف تھا جن پہ کمپنی بناتے وقت سب رضامند تھے۔ اُنھوں نے جے شری کے ساتھہ شادی کی اور پربھات چھوڑ کے پونہ سے ممبئی آگئے۔ یہاں اِیک نیا سٹوڈیو شروع کیا جس کا نام رکھا راج کمل کلا مندر اور پھر جے شری کے ساتھ کافی عرصے بعد شکُنتلا فلم پہ کام شروع کیا- یہ فِلم ایک بہت بڑی ہٹ ثابت ہوئی۔ اِس کے بعد اُنھوں نے ڈاکٹر کوٹنس کی امر کہانی بنائی جو بہت ہِٹ ہوئی۔ یہ دونوں فِلمیں امریکہ میں بھی مقبول ہوئیں۔ شکُنتلا پر تو لائف میگزین میں ایک آرٹیکل بھی چھپا۔ اِس کے بعد اگر دھیج اور اپنا دیش جیسی فِلمیں کافی چلیں تو اُن کی کئی فِلمیں فلاپ بھی ہوئیں۔
ہم یہاں اُن کی پچاس کی دہائی میں بنائی فِلموں کا ذکر کریں گے کیوں کہ یہ اُن کی بہترین فِلموں میں سے ہیں۔ دھیج اِس دور کی پہلی ہٹ فِلم ہے۔ اِسی بیچ جے شری نے راج کمل کے لیئے فِلم بنانا بند کر دی اور وہ شانتارام سے الگ ہوگئیں۔ تب ہی راج کمل کو ایک نئی ہیروئن مِلی جس کا نام تھا سندھیا۔ سندھیا کی فِلم ’تین بتی چار راستہ‘ 1953 کی بڑی ہٹس میں سے تھی اور اِس فِلم کی کامیابی کے بعدوی شانتارام نے اُنہیں اپنی رنگین فِلم جھنک جھنک پائل باجے کے لیئے چُنا۔ پر وی شانتا رام اِپنی 1958 میں بنی فِلم دو آنکھیں بارہ ہاتھ کے لیئے سب سے زیادہ جانے جاتے ہیں۔ یہ فِلم ایک سچی کہانی پہ مبنی تھی اور ہندوستانی سِینما کا ایک ماسٹر پیس ہے۔ آزادی سے قبل ایک ریاست میں ایک جیلر کو اپنے آزاد جیل چلانے کی اِجازت ملتی ہے اور یہ فلم اِسی جیلر کی اُن کوششوں کو دکھاتی ہے جس سے وہ کئی سخت مجرموں کو بدل کر ذمہ دار اِنسان بناتا ہے۔ اِس فِلم کے لِیئے وی شانتا رام نے کلر کی جگہ بلیک اینڈ وائٹ فِلم بنانے کا اِرادہ کیا۔ حیرت کی بات ہے کہ آج اِس فِلم کو کلر کرکے ریلیز کرنے کی کوشِشیں کی جا رہی ہیں۔ شانتا رام نے خود جیلر کا رول ادا کیا- اِس فِلم کو کافی ایوارڈز سے نوازا گیا جن میں برلن فِلم فیسٹیول میں گولڈن بیر اور ہالی وڈ پریس ایسوسی ایشن کا ایوارڈ شامل ہے۔ اِسی دور کی فِلم نورنگ ایک شاعر دیوَکر کی کہانی ہے۔ نو رنگ ایک نہایت ہی کامیاب فِلم ثابت ہوئی۔ یہ اِسی فِلم کی کامیابی تھی جِس کی وجہ سے اِسی طرح کی کئی رنگین فِلمیں وی شانتا رام نے بنائیں جِن میں ’گیت گا یا پتھروں نے‘ اور ’بوند جو بن گئی موتی‘ خاص طور پر شامل ہیں۔ اِسی دوران اُنھوں نے روی کپور نام کے ایک نوجوان کو اپنی بیٹی راج شری کے ساتھ اپنی فِلم ’گیت گایا پتھروں نے‘ کے لیئے کاسٹ کیا۔ یہ نوجوان جتیندر تھے۔ اُنھوں نے ہی ممتاز کو بھی پہلا بریک دِیا۔ 1964میں ریلیز ہوئی ’گیت گایا پتھروں نے‘ دراصل شانتارام کی پچاس کی دہائی کی ہی فِلموں میں شامل ہے۔ وی شانتارام کی فِلمیں 1950 کی دہائی کے بعد زیادہ کامیاب نہ رہیں جِس کی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ مارکیٹ کے ساتھ اس طرح کے سمجھوتے نہ کر پائے جو کہ اس دور کے بعد سبھی ڈائریکٹروں کوکرنے پڑے۔ گرو دت کی طرح وہ فِلمی دُنیا کے نئے ماحول میں اپنے آپ کو اجنبی سمجھنے لگے۔ پر وہ آخری دم تک اُنہیں اِقداروں کے مطابق فِلمیں بناتے رہے جِس کی وجہ سے آج ہم پچاس کے دور کو فِلم کا کلاسیکل دور سمجھتے ہیں۔ اِن فِلموں میں ا نٹرٹینمنٹ کے ساتھ ساتھ ایک نیا شعور پیدا کرنے کی بھی تڑپ تھی۔ وی شانتا رام 1990 میں اِس دُنیا سے چل بسے۔ اُن کی فلمیں آج بھی اُتنی ہی مقبول ہیں جتنی 1950 کی دہائی میں کبھی تھیں۔ |
اسی بارے میں جھانسی کی رانی، خان کی انا اور ڈیڑھ لاکھ کا فوٹو10 July, 2006 | فن فنکار سلمان، غیر قانونی اسلحہ کا الزام خارج04 May, 2006 | فن فنکار انڈین فلمی صنعت بھیڑ چال کا شکار22 April, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||