’رفیع کی یاد آتی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لافانی آواز کے مالک محمد رفیع کی آج چھبیسویں برسی ہے۔ اکتیس جولائی انیس سو اسی کی شام دل کا دورہ پڑنے سے ان کی موت واقع ہوئی تھی۔ بھارتی فلم انڈسٹری کی تاریخ محمد رفیع کے نغموں کے بغیر لکھی ہی نہیں جا سکتی کیونکہ سروں کے اس شہنشاہ نے چھبیس ہزار سے زیادہ نغمے گائے اور وہ سارے گیت آج بھی کروڑوں لوگوں کی زبان پر ہیں۔ بلبل ہند کا خطاب حاصل کرنے والی گلوکارہ لتا منگیشکر نے رفیع کی برسی کے موقع پر کہا کہ’مجھے آج بھی ان کی بہت یاد آتی ہے میں ان کی احسان مند ہوں کہ انہوں نے مجھے اردو سکھانے کے لیئے ایک استاد گھر بھیجا جس سے میں نے اردو اور تھوڑی بہت عربی سیکھی۔ رفیع صاحب اچھے گلوکار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نیک دل انسان تھے‘۔ سونو نگم آج کے دور کے گلوکار ہیں جنہوں نے رفیع کے نغموں کی نقل کرتے ہوئے اپنی گائیکی کے دور کی ابتدا کی۔ ان جیسے سینکڑوں ایسے فنکار اس فلم انڈسٹری میں موجود ہیں جنہوں نے رفیع کے گائے نغمےگا کر گائیکی کو سیکھا اور پھر ان کی نقل کی۔ آج ایسے کئی فنکار ترقی کرتے ہوئے بلندیوں پر پہنچ گئے ان میں سونو نگم کا بھی نام لیا جا سکتا ہے۔ سونو نگم کا کہنا تھا چونکہ انہوں نے محمد رفیع کو اپنی زندگی میں نہیں دیکھا تھا اس لیئے ان کے لیئے وہ بھگوان کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان جیسا گلوکار صدیوں میں بھی نہیں پیدا ہو سکتا۔ نغموں کا یہ جادوگر امرتسر کے کوٹلہ سلطان سنگھ گاؤں میں پیدا ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس وقت ان کی گلی میں ایک فقیر آتا تھا جو بلند آواز میں گیت گاتا تھا رفیع کو اسے گنگناتا دیکھ ان کے بڑے بھائی نے استاد وحید خان کی سرپرستی میں انہیں تعلیم دلائی۔ رفیع نے لاہور ریڈیو پر پنجابی نغموں سے اپنے سفر کی ابتدا کی۔ پہلی پنجابی فلم ’گل بلوچ‘ میں انہوں نے اپنا گیت زینت بیگم کے ساتھ ریکارڈ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک روز کندن لال سہگل کا پروگرام تھا۔ وہ اپنے وقت کے مشہور گلوکار تھے اور انہیں سننے کے لیئے سینکڑوں کا مجمع، بجلی فیل ہونے کی وجہ سے سہگل نےگانے سے انکار کر دیا ۔اسی وقت رفیع کے بھائی نے پروگرام کے منتظمین سے کہا کہ ان کا بھائی بھی ایک گلوکار ہے اور اسے موقع دیا جائے۔ مجمے کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے منتظمین نے رفیع کو گانے کا موقع دیا۔ تیرہ سال کی عمر میں انہوں نے سٹیج پر گیت گایا۔ اسی پروگرام میں موسیقار شیام سندر موجود تھے۔ انہوں نے ایک جوہری کی طرح رفیع کو پرکھ لیا اور انہیں بمبئی آنے کی دعوت دی۔ بس یہیں سے رفیع کا یادگار سفر شروع ہوا۔
تقسیم ہند سے قبل انہوں نے کئی فلموں میں نغمے گائے۔ فلم انمول گھڑی میں ملکہ ترنم نورجہاں کے ساتھ ان کا گایا یہ گیت ’یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے‘ ان کے ہزارہا یاد گار نغموں میں سے ایک ہے۔ رفیع کی زندگی میں سب سے بڑا موڑ اس وقت آیا جب موسیقار اعظم نوشاد نے انہیں گانے کا موقع دیا۔ اس وقت نوشاد علی اور طلعت محمود کی جوڑی بہت کامیاب تھی نوشاد کا ہر گیت طلعت گاتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک روز نوشاد نے طلعت کو گانے سے قبل سگریٹ پیتے دیکھ لیا۔ اصولوں کے پکے نوشاد بہت برہم ہوئے اور انہوں نے طلعت کے بجائے رفیع کو چن لیا۔ رفیع نے زندگی میں کبھی سگریٹ یا شراب کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔ نوشاد کے ساتھ رفیع کی جوڑی بہت کامیاب رہی۔ بیجوباؤرا کے سارے نغمے ہٹ ہوئے۔ من تڑپت ہری درشن کو آج، جیسا کلاسیکی گیت ہو یا چاہے مجھے کوئی جنگلی کہے کا چنچل نغمہ رفیع کو ہر طرح کے گیت گانے میں مہارت حاصل تھی۔ انہوں نے وہ نغمے بھی گائے جسے اس وقت کے دوسرے گلوکاروں نے گانے سے منع کر دیا تھا۔ کشور کمار نے ’ہاتھی میرے ساتھی کا گیت نفرت کی دنیا کو چھوڑ کر‘گانے سے منع کر دیا تھا کیونکہ اس میں آواز کی لے کافی اونچی تھی لیکن رفیع نے یہ گیت گایا اور بہت مقبول ہوا۔ نغمگی کا یہ سفر بہت کامیاب رہا۔ انہوں نے اردو ہندی مراٹھی، گجراتی، بنگالی بھوجپوری تمل کے علاوہ کئی زبانوں میں گیت گائے۔ رفیع کی خاصیت تھی کہ وہ جس فنکار کے لیئے گاتے اسی کی آواز اور اسی کے انداز کو اپناتے۔ فلم کاغذکے پھول میں جانی واکر کے لیے انہوں نے ’تیل مالش’ کا جو گیت گایا اسے سن کر لگتا ہے کہ سامنے جانی واکر ہی گا رہے ہیں اور اس کا اعتراف خود جانی واکر نے بھی کیا تھا۔ رفیع بہت سیدھے اور صاف دل انسان تھے۔ کئی مرتبہ انہوں نے بغیر ایک پیسہ لئے گیت گایا۔ ایک بڑے موسیقار نے رفیع کی موت کے بعد اعتراف کیا کہ ان کے پاس رفیع کو دینے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ گیت ختم ہونے کے بعد انہوں نے رفیع صاحب سے نظریں نہیں ملائیں اور دنیا کو دکھانے کے لئے ایک خالی لفافہ پکڑا دیا۔ رفیع نے اسے لے لیا لیکن بعد میں ملاقات کے بعد کبھی اس کا تذکرہ بھی نہیں کیا جب بھی ملے مسکرا کر ملے۔ رفیع کو ان کے گیتوں پر چھ فلم فیئر ایوارڈ مل چکے ہیں۔ حکومت نے انہیں پدم شری کے ایوارڈ سے بھی نوازا۔ رفیع ایسے فنکار تھے جنہوں نے درجنوں فنکاروں کی زندگی بنا دی۔ فلم دوستی میں موسیقار شنکر جے کشن کے نغموں کو اپنی آواز دینے کے بعد وہ نغمے بہت مقبول ہوئے اور دنیا نے اس جوڑی کو پہچانا۔ ’تم مجھے یوں بھلا نہ پاؤ گے، جب کبھی بھی سنو گے گیت میرے سنگ سنگ تم بھی گنگناؤ گے’ ہاں واقعی رفیع جیسے لافانی گلوکار کو بھلانا کسی کے بس کی بات نہیں ہے اور برسوں گزرنے کے بعد اب یہ ثابت ہو گیا کہ ان جیسا فنکار بھارتی فلم انڈسٹری کو نہیں مل سکتا۔ |
اسی بارے میں گیارہ ستمبر کے بعد رفیع پیر آرٹس میلہ18 October, 2003 | فن فنکار رفیع پیر یوتھ تھیٹر فیسٹیول22 January, 2004 | فن فنکار رفیع پیر تھیٹر، ایک ثقافتی تحریک15 July, 2005 | فن فنکار محمد رفیع کی چاہت کا جنون 31 July, 2005 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||