محمد رفیع کی چاہت کا جنون | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
محمد رفیع ایک ایسا نام ہے جِسے شاید ہی کوئی نہ جانتا ہو۔ کئی دہائیوں تک انہوں نے ہندوستان کے عوام کے لیے فلمی اور غیر فلمی گانے گائے اور اپنی مدھر آواز سے انہیں لطف اندوز کرتے رہے۔ ویسے تو ان کے چاہنے والوں کی کمی نہیں ہے لیکن کچھ لوگ انہیں بھگوان کا درجہ دیتے ہیں اور انہیں پوجتے ہیں۔ ایسے ہی ایک شخص ہیں احمد آباد کے اُمیش مکھیجا صاحب۔ کپڑے کا کاروبار کرنے والے محمد رفیع کو دیوانگی کی حد تک چاہتے ہیں۔ ان کی دیوانگی کی حد یہ ہے کہ انہوں نے اپنے مکان کا ایک کمرہ محمد رفیع کے نام کر رکھا ہے۔ اس کمرے کا دروازہ مندر کا ہے اور یہاں پر ہر چیز پر محمد رفیع کا نام ہے۔اس کمرے گھڑی اس وقت پر ہے جب محمد رفیع نے آخری سانس لی تھی (دس بجکر انتیس منٹ اکتیس جولائی سن انیس سو اسی)۔ کمرے میں ہر جگہ محمد رفیع کی تصویر ہے، چاہے وہ سپیکر ہو، لیمپ ہو یا پھر کچھ اور۔ اس کمرے کے بستر پر بچھائی چادر پر رفیع کے گائے گانوں کے بول پرنٹ کیے ہوئے ہیں اور دو تکیوں پر ان کے پیدائش اور وفات کی تاریخیں لِکھی ہوئیں ہیں۔ان تکیوں پر رفیع کے گائے ہوئے پہلے اور آخری گانے کے بول بھی درج ہیں۔ ایک کونے میں رفیع کے مزار کی مٹی بھی پڑی ہوئی ہے۔
’میں چاہتا ہوں کہ میرا یہ کمرا ایسا ہو کہ جس طرح لوگ احمد آباد میں مہاتما گاندھی کے سبرمتی آشرم کو دیکھنے جاتے ہیں ویسے ہی وہ رفیع صاحب کے درشن کے لیے آئیں۔‘ امیش کے پاس محمد رفیع کے گائے ہوئے چار ہزار سے زائد گیتوں کے ذخیرہ ہے۔ ان میں کچھ ایسے گیت ہیں جن کا ملنا بہت مشکل ہے۔ یہ گانے ہندی، پنجابی، سندھی، گجراتی اور دیگر زبانوں میں ہیں۔ یہاں تک کہ دو گیت انگریزی میں بھی گائے گئے ہیں۔ امیش روی وار(اتوار) کو رفیع وار کے طور پر مناتے ہیں۔ اُس دن دوپہر دو سے پانچ تک کوئی بھی ان کے گھر جا کر رفیع پر بات کر سکتا ہے اور رفیع کے گیت سن سکتا ہے۔ امیش کہتے ہیں: ’میں جیتے جی رفیع صاحب کو تو اپنے گھر نہیں لا سکا پر ہر وقت انہیں اپنے قریب چاہتا ہو۔‘ امیش کے اس جنون میں انے خاندان کا بھی پورا ساتھ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے تعاون کے بغیر تو میں کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ میری بیوی پونم رفیع صاحب کے کمرے کی صفائی سب سے پہلے کرتی ہے اور میرے بچے بھی اس کمرے کو ایک مندر کی طرح رکھنے میں میرے مدد کرتے ہیں۔ امیش کا دعویٰ ہے کہ ہندوستان میں پلے بیک سنگر تو بہت آئے لیکن محمد رفیع کے سوا پلے بیک ایکٹر کوئی نہیں آیا جو ہر ایکٹر کے لیے الگ انداز سے گیت ریکارڈ کراتے تھے۔ محمد رفیع کے اس دیوانے نے ان کے نام سے جاری کیے گئے ٹکٹ سے لے کر ان پر چھپے مضامین تک ہر چیز اکٹھی کر رکھی ہے۔ آج امیش کے پاس محمد رفیع کی زندگی اور فن پر بے شمار مواد ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||