’سہگل آج بھی زندہ ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتوار کو بھارت میں مقبول گلوکار کندن لال سہگل کے ایک سویں یوم پیدائش کے موقع پر مختلف شہروں میں تقریبات ہو رہی ہیں۔ اس موقع پر مشہور موسیقار نوشاد علی نے بی بی سی ہندی سروس سے گفتگو میں سہگل کی گائیکی کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا: ’میں مختصراً یہ کہوں گا کہ سہگل مرا نہیں۔ وہ آج بھی زندہ ہے۔ سنگیت کے چاہنے والوں کی زبان پر ان کے دلوں میں آج بھی سہگل کی چھاپ لگی ہوئی ہے۔‘ نوشاد کا کہنا تھا کہ سہگل جیسا گائیک نہ آیا ہے اور نہ آئے گا۔ ان کے انداز کو مکیش اور کشور کمار جیسے گانے والوں نے بھی اپنانا چاہا تھا۔ مگر سہگل اپنے ساتھ اپنی گائیکی بھی لے گئے۔ نوشاد کے بقول اس زمانے میں ہر شاعر کی تمنا ہوتی تھی کہ سہگل اس کی ایک غزل گا کر شہرت دلا دے۔ نوشاد کا کہنا تھا کہ سہگل کا گانے کے لئے کلام کا انتخاب بہت عمدہ تھا۔ سہگل نے غالب، آتش اور میر جیسے اساتذہ کے کلام کو اس انداز سے گایا کہ جو لوگ کلام کو نہ بھی سمجھتے ہوں وہ صرف سہگل کی وجہ سے اس کے ریکارڈ اپنے پاس رکھتے ہیں۔ بقول نوشاد یہ ہی ان کی مقبولیت کا ثبوت ہے۔ نوشاد نے کہا کہ فنکار کبھی نہیں مرتا وہ اپنے فن کے بل پر لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||