ملکہ پکھراج نہیں رہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈوگری کے لوک انداز میں گانے والی معروف گلوکارہ ملکہ پکھراج بدھ کو لاہور میں نوے برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد انتقال کرگئیں۔ ان کا جنازہ آج شام سات بجے لاہور میں ان کے داماد قانون دان ایس ایم ظفر کے گھر سے اٹھایا جاۓ گا۔ ملکہ پکھراج کا تعلق جموں سے تھا اور وہ جموں و کشمیر ریاست کے راجہ ہری سنگھ کے دربار سے وابستہ رہیں۔ شیخ عبداللہ کی کتاب آتش چنار میں اس کا ذکر ہے کہ وہ مہاراجہ سے کتنا قریب تھیں۔ انہیں راجہ ہری سنگھ کا دربار ہنگامی طور پر اس لیے چھوڑنا پڑا کہ ان پر راجہ کو زہر دے کر مارنے کا الزام لگا دیا گیا تھا۔ وہ جموں سے پہلے دہلی گئیں اور پھر پاکستان بننے کے بعد وہ لاہور آگئیں جہاں انہیں پکھراج جموں والی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ موسیقی کے ماہر سعید ملک نے کہا کہ ملکہ پکھراج بنیادی طور پر پہاڑی اور ڈوگری زبانوں کی لوک موسیقی کی ماہر تھیں اور چالیس کی دہائی میں ان کا شمار برصغیر کے صف اول کے گانے والوں میں ہوتا تھا۔ وہ ٹھمری کے انگ میں غزل گاتی تھیں۔ لاہور میں ان کی شادی شبیر حسین شاہ سے ہوئی جنہوں نے پاکستان ٹی وی کا مشہور اردو ڈرامہ سیریل جھوک سیال بنایا تھا۔ ملکہ پکھراج نے حفیظ جالندھری کی بہت سی غزلیں اور نظمیں گائیں جن میں سے کچھ بہت مشہور ہوئیں، خاص طور پر: ’ابھی تو میں جوان ہوں‘۔ ریڈیو پاکستان کے موسیقی کے پروڈیوسر کالے خان نے زیادہ تر ان کے لیے دھنیں بنائیں۔ ملکہ پکھراج کو گلوکاری کے علاوہ کھانا پکانے، باغبانی ، کشیدہ کاری اور جانور پالنے کا بہت شوق تھا اور بہت مہمان نواز سمجھی جاتی تھیں۔ انہوں نے اپنے پیچھے دو بیٹیاں چھوڑی ہیں جن میں چھوٹی بیٹی مشہور گلوکارہ طاہرہ سید ہیں جو اپنی والدہ کی طرح ڈوگری اور پہاڑی انداز کی گائیکی میں مہارت رکھتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||