توے، سہگل اور چھوٹوں کا زمانہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میرے لئے کےایل سہگل کی گائیکی ان پرانے تووں کی یاد سے جڑی ہوئی ہے جو ایک کے بعد ایک پر گرتے چلے جاتے اور ان سے ایک کے بعد ایک گیت ابھرتا رہتا۔ کبھی کبھی ان پر ’سوئی اٹک جاتی‘ اور وہ بالم آن، بالم آن، بالم آن، کی گردان کرتے رہتے جب تک کہ سوئی والے ہاتھ کو اٹھا کر دوبارہ ریکارڈ پر نہ رکھ دیا جاتا۔ یوں اس زمانے میں ایک ہی بات کی مستقل تکرار کرنے والے بچے کے بارے میں اصطلاح وضع ہوئی کہ ’اس کی سوئی اٹک گئی ہے‘۔ یہ ریکارڈز عرفِ توے ہم بچوں کے لئے خاصے وزنی ہوتے تھے۔ ان کے گر کر ٹوٹ جانے کا تصور ہمیں ویسے ہی سہما دیا کرتا جیسے بعد میں سہگل کے کسی گانے کو گانے کی کوشش سے ڈرنا۔ سہگل کا یہ زمانہ میرے تایا کا زمانہ ہے جو ان کے اپنے چالیس برس قبل کی دنیا سے رینگتا رینگتا ستر اور اسی کی دہائی تک ہمارے زمانے میں گھس آیا تھا۔ ہم نے نورجہاں، رفیع اور لتا کو چھوٹے تووں، ریڈیو، ٹیپ ریکارڈر اور بعد میں ٹی وی پر ضرور دیکھا اور سنا لیکن پرانے، بڑے اور وزنی ریکارڈ صرف سہگل ہی کے سنے۔ اس سال جب کے ایل سہگل کی پیدائش کی سو سالہ تقریبات منائی جا رہی ہیں، یہ توے تقریباً ناپید ہوتے جارہے ہیں، کم از کم میرے گھر سے تو ہوچکے ہیں۔
آج ہندوستانی فلمی سنگیت کی جو شکل ہے اس میں سب سے زیادہ حصہ کے ایل سہگل کا ہی ہے۔ وہ مقبول فلمی ستاروں اور گلوکاروں کے باوا آدم تھے۔ ہر جگہ یہ لکھا جاتا ہے کہ انہوں نے ہندوستانی فلمی موسیقی کی گرامر ترتیب دی لیکن یہ کم پڑھنے میں آتا ہے کہ یہی وہ گرامر ہے جس کی حدوں کے اندر چلنا یا انہیں توڑنا ان کے بعد آنے والے ہر فلمی گلوکار اور موسیقار کا مقدر بنا۔ سہگل کے فلمی کیریئر کا آغاز انیس سو بتیس میں ہوا جب انہیں نیو تھئیٹر میں سٹیج پر اور فلموں میں اداکاری اور گائیکی کے لئے دو سو روپے ماہانہ تنخواہ پر ملازم کیا گیا اور پھر انیس سو پینتیس تک دیوداس نے انہیں شہرت کے اس آسمان پر پہنچا دیا جس سے بعد میں کئی ستارے چڑھ کر اترتے رہے۔ پندرہ برس میں سہگل نے چھتیس فلموں میں کام کیا اور دو سو سے زیادہ گیت اور کئی غزلیں گائیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ریڈیو اور ریکارڈز کی بدولت پہلی مرتبہ ہندوستانی موسیقی شرفاء کے گھروں میں آدھمکی جو اس سے پہلے صرف رئیسوں کے گھروں پر گائیکوں کو ملازم رکھ کر موقعہ پر سنی جاتی تھی۔ مجھے ان کے کئی گانوں نے بعد میں بہت حیران کیا کیوں کہ اس زمانے میں سنتے ہوئے کبھی اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ اتنا مشکل گانا گاتے ہوں گے۔ ان گانوں میں زبان کا رچاؤ بھی ایسا ہوتا کہ میرے لئے ہندی اور اردو کی تقسیم بہت سادہ سی تھی جو آج کے حالات میں بالکل بدل گئی ہے۔ جیسے ایک طرف تو ’بابل مورا نیئر چھوٹی او جائے‘ یا بالم آئے بسو مورے من میں‘ تھے اور دوسری طرف اردو کی وہ پکی غزلیں جیسے غالب کی ’وہ آکے خواب میں تسکینِ استعجاب تو دے‘ اور ’لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے‘۔ دونوں زبانیں اپنے اپنے رس سے بھری ہوتیں اور ان میں ایک پرانی ’ہز ماسٹرز وائس‘ کسی ایسے وقت کی یاد دلاتی جو ہمارے زمانے سے بہت دور تھا جب لوگوں کے قدوقامت اور دل بہت بڑے ہوتے تھے۔ ہمارے لئے اس زمانے کا نقشہ بڑا حیرت انگیز تھا۔ یہ بڑوں کا زمانہ تھا۔ گھر میں تایا جی اور دادا جی کا زمانہ، کلاسیکی موسیقی میں بڑے غلام علی خاں، فیاض علی خان اور خاں صاحب عبدالکریم خاں کا زمانہ اور فلموں میں کے ایل سہگل کا زمانہ۔ حتیٰ کہ چھوٹے ریکارڈ بھی صرف رفیع لتا اور نورجہاں کے لئے مخصوص ہوتے تھے۔ ہمیں اپنے چھٹ پن میں یہی احساس دامن گیر رہتا کہ ہم بڑوں کے زمانے میں کیوں پیدا نہ ہوئے۔ شاید یہی احساسِ کمتری تھا جس کی بدولت میں نے چھپ چھپ کر بڑوں کی نقلیں اتارنا شروع کیں اور اس بات پر میرا پختہ ایمان رہا کہ ان ’بڑوں‘ کا گانا گائے اور محسوس کئے بغیر وہ بےنیازی زندگی میں آنا ممکن ہی نہیں جو ان میں دکھائی دیتی ہے۔
حیرت انگیز بات ہے کہ سہگل جو فلموں کے ابتدائی دنوں کی علامت کے طور پر ہندوستان کی اجتماعی یاداشت پر نقش ہیں صرف بیالیس سال جئے اور ہندوستان کی تقسیم اور اسکے نتیجے میں ہونے والے فسادات کو دیکھنے سے بچ گئے۔ سعادت حسن منٹو نے اپنی کتاب نور جہاں سرورِ جاں میں کہیں لکھا کہ اگرچہ شراب اور اچار آواز کے لئے برے ہوتے ہیں لیکن سہگل جتنی شراب پیتے تھے، نورجہاں اتنا ہی اچار کھاتی تھیں اور جو چار چاند ان دونوں چیزوں نے ان کی آوازوں کو لگائے وہ کہیں اور لگتے نہیں دیکھے۔ اس ذکر میں منٹو سہگل کے اتنے گرویدہ نظر آتے ہیں کہ اگر زندگی موقعہ دیتی تو شاید ان کے بارے میں بھی ایک کتاب لکھ ڈالتے۔ منٹو کی بات اپنی جگہ مگر سہگل اور نورجہاں کی زندگیوں سے ایک بات تو واضح ہوئی کہ شراب سے زندگی کم ہوتی ہے اور اچار سے زندگی بڑھ جاتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||