وہ موسیقی کی تلاش میں کھو گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زندگی کی اس دوڑ میں ہر روز کئی رنگ نظر آتے ہیں، لیکن دُنیا کی رنگیناں کبھی کم نہیں ہوتیں۔ اسلام آباد میں بھی رنگ تو بہت سے ہیں لیکن عوامی رنگ دیکھنے کو کم ہی ملتا ہے۔ چند سال پہلے لاہور کی ’فوڈ سٹریٹ‘ کی طرز پر اسلام آباد میں بننے والے ’فوڈ پارک‘ نے جہاں اسلام آباد کے باسیوں کو ملک کےروایتی کھانوں سے آشنا کیا۔ وہیں اس کے عقب میں بیٹھنے والے اَسّی سالہ بزرگ سنگیت کار محمد شفیع کو بھی شناخت ملی۔ محمد شفیع نے اپنی باقاعدہ تعلیم تو کلاسیکل موسحقی میں حاصل کی اور اُن کی خواہش بھی تھی کہ اُن کی پہچان کلاسیکل گائیک کے طور پر ہو۔ لیکن ہمارے ملک میں جہاں کلاسیکل موسیقی کی پذیرائی نہ ہونے برابر ہے کی وجہ سے محمد شفیع کو مجبوراً اپنی موسیقی کو عوامی رنگ میں ڈھالنا پڑا۔ اب اسلام آباد کےمیلوڈی فوڈ مارکیٹ کے نسبتاً عوامی ماحول میں بیٹھ کر یہ سنگیت کار ’لوک‘ اور’ کلاسیکل‘ موسیقی کے رنگ بکھیرتا نظر آتا ہے۔ اُن کے پاس سے گزرنے والے ہمارے ملک کی مختلف زبانوں اردو، پنجابی، سرائیکی اور سندھی کے مشہور سنگیتوں سے لمحے بھر کے لئے لطف اندوز تو ضرور ہوتے ہیں۔ لیکن ان میں کسی کے پاس اس بزرگ سنگیت کار کے پاس بیٹھ کر اُس کے اصل فن کو سننے کے لئے چند لمحے بھی نہیں۔ پنجاب کے ضلع خوشاب سے تعلق رکھنے والے محمد شفیع کا کہنا ہے کہ اُنہیں بچپن ہی سے گانے کا شوق تھا اور اَُن کے والد بھی گانے کا شوق رکھتے تھے۔ اور یہی لگن انہیں لاہور لے گئی جہاں انہوں نے موسیقی کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ اور وہ خود کو ’شام چوراسی‘ گھرانے کا شاگرد گردانتے ہیں۔ محمد شفیع کا کہنا کہ جب وہ جوان تھے تو اُس وقت بڑی بڑی نجی محفلوں میں گایا کرتے اور داد پاتے لیکن اب عمر نے اُن کو ایک ایسی جگہ لا کھڑا کیا ہے کہ اُن کے پاس اس سنگیت کے سوا کچھ نہیں۔ بدلتے وقت نے اُن سے سب کچھ چھین لیا ہے اُن کے تین جوان بیٹے اس دارِفانی سے چلے گئے جوانی چلی گئی اور وہ سننے والے بھی ۔ ۔ ۔ لیکن اپنے سینے پر فاتحانہ انداز میں ہاتھ مار کر محمد شفیع نے کہا کہ یہ سنگیت ہے، جو میرا اثاثہ ہے۔
اسی مارکیٹ میں ایک دکاندار لیاقت حسین ہے جس کی دُکان کے سامنے بیٹھ کر محمد شفیع اکثر گانا گاتا ہوا دیاکھا جاتا ہے۔ لیاقت حسین کا کہنا ہے کہ جب وہ (محمد شفیع) نہیں آتا تو ساری مارکیٹ کی فضا اُداس معلوم ہوتی ہے۔ ہمیں ان کے گائے ہوئے اکثر گانے سمجھ تو نہیں آتے لیکن ان کی ہاتھوں کی انگلیوں میں ایسا جادو ہے کہ جب وہ ہارمونیم پر پڑتی ہیں تو ایسے سر پیدا کرتی ہیں جس پر ہم جیسے کلاسیکی موسیقی سے بالکل بے بہرہ بھی جُھومے بغیر نہیں رہ سکتے۔ قریب ہی واقع ایک نجی تعلمیی ادارے میں پڑھنے والے نوجوان محمد ارسلان کا کہنا ہے کہ میں اس آواز سے آشنا تو ہوں کیونکہ میرا گزر روزانہ اسی مارکیٹ سے ہوتا ہے لیکن اب اس طرح کی موسیقی کا زمانہ نہیں، اب تو نئے دور کے نئے انداز اور رنگ ہیں۔ تاہم محمد شفیع کو یقین ہے کہ دور چاہے کوئی بھی ہو، وقت کے دھارے جس طرف بھی چلیں۔ ماضی کی وہ عظیم کلاسیکی موسیقی زندہ رہے گی اور اس فن کو اپنے طور پر زندہ رکھنے والے کچھ نہ کچھ لوگ ضرور رہیں گے جو موسیقی کے عظیم خاندانوں کے ورثے کو زندہ رکھیں گے۔ ایسا ہو گا یا نہیں ابھی تو محمد شفیع ہے جو ایک چراغ سحری کی مانند ہمارے سامنے ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||