گرو دت کا احتجاجی سنیما | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ آر پار‘ کا نوجوان ٹیکسی ڈرائیور ہو یا پھر’مسٹر اینڈ مِسز فِفٹی فائیو‘ کا کمیونِسٹ کارٹونِسٹ، یا پھر ناکامی میں ایک اخلاقی منزل تلاش کرتا ہوا ’پیاسا‘ کا شاعر اور’ کاغذ کے پھول‘ کا فلم ڈائریکٹر۔گُرو دت اور اُن کا نظریہ آج بھی اُن کی فِلموں کے بےمثال کرداروں میں زندہ ہے۔ اگر محبوب خان، بمل رائے اور راج کپور کی فِلموں نے دیوداس کے امیج کی صورت میں اس دور کے ہندوستانی نوجوان کی ایک الگ اور نئی تصویر پیش کی توگُرو دت نے اُس اُداس ہیرو کوایک ذاتی اور سیاسی پہچان دی۔ ایک ایسے وقت میں جب ہندوستانی سنیما ایک نئے دور کی تلاش میں تھا ،گرو دت نے اپنی فلموں میں بہت سے کٹھن سوال اٹھا کر لاکھوں نوجوانوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔ اِن سوالوں کے جواب شاید خود گرو دت کو آخر تک نہ مل سکے لیکن اِن سوالوں سےگرو دت نے ہندوستانی سِنیما کی ایک ایسی الگ تاریخ لکھی جس کا اثر آج بھی ہندوستانی سِنیما پر نظر آتا ہے۔
یہ کہنا شائد مکمل طور پر غلط نہ ہو کہ اِس دور میں ہونے والے تجربات میں گرو دت کی بنائی ہوئی فلموں کا درجہ کئی اعتبار سے ستیہ جیت رے کی اِسی دور میں بنائی ہوئی فلموں سے بھی بڑا ہے۔ مشہور فِلم سکالر لاورا ملوی نے حال ہی میں ’سائٹ اینڈ ساونڈ‘ میگزین میں گرو دت کی فلم’پیاسا‘ کو دُنیا کی دس بہترین فلموں میں شمار کیا- رِتوِک گھٹک کی طرح گُرو دت کے سنیما میں دُنیا کی دلچسپی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ گُرو دت کو اُردو سے محبت تھی لیکن وہ محبت ایک ایسی اُردو کے لئے تھی جسے بمبئی کا پارسی اپنے انداز میں اور مدھیہ پردیش کا ٹیکسی ڈرائیور اپنے انداز میں بولتا تھا۔ اُن کی فِلموں میں ایسی اردو شاعری کی بہت سی مثالیں موجود ہیں جس کا جنم بمبئی کی فلم انڈسٹری میں ہوا اِور جس کا اثر آج بھی فلم انڈسٹری پر صاف نظر آتا ہے۔ ساحر لدھیانوی کی اس اردو سے پیار کی وجہ شائد یہ بھی تھی کہ یہ وہ اردو تھی جو خود گرو دت جذبات اور حالات سے واقف تھی، وہ اُردو جو اُنہیں پہچانتی تھی اور جس میں ہندوستان کے کئی نوجوان اس زمانے میں اپنے آپ کی تلاش کررہے تھے۔ یہ اُردو محض ایک زبان یا سیاسی معرکہ نہیں تھی بلکہ کئی شاعروں کے لئے روحانی اور سیاسی احتجاج کے اظہار کا ہتھیار تھی۔ گرو دت نے اس زبان کو اپنی فلموں کے لئے اپنایا اور شائد اسی لئے گرو دت کے سنیما کو احتجاجی سنیما کہا جا سکتا ہے۔ اُنہوں نے اپنے فِلمی سفر کا آغاز بھی ’باز‘ نامی فلم سے کیا تھا جس میں اُنہوں نے ایک باغی کا کِردار ادا کیا تھا۔ یہ فلم انہوں نے خود ہی لکھی تھی۔
گُرو دت 9 جولائی 1925 کو بنگلور میں پیدا ہوئے اور اُنہوں نے 10 اکتوبر 1964 کو اپنی زندگی خود ختم کرلی۔ گرو دت کا تعلق منگلور کے ایک سرسوت برھمن خاندان سے تھا لیکن اُن کی تعلیم کلکتہ میں ہوئی۔ بنگالی ثقافت کا اُن کے ذہن، شخصیت اور فن پہ گہرا اثر رہا۔گرو دت نے کئی مرتبہ بنگالی زبان میں فلم بنانے کی کوشِش بھی کی۔ اکثر لوگ فلم ’باز‘ کوگرو دت کی پہلی فلم سمجھتے ہیں لیکن گرو دت ’باز‘ سے پہلے تین فلموں سے وابستہ رہے۔ ’لاکھا رانی‘ (1945)،’ ہم ایک ہی‘ (1946) اور’گرلز اسکول‘(1949)۔ گرو دت کے چاہنے والوں میں سے شائد بہت کم ہی اِس امر سے واقف ہوں کہ گرو دت نے اپنے فلمی کیرئر کا آغاز ایک ڈانس ڈائریکٹر کی حیثیت سے مشہور پربھات سٹوڈیو میں فلم لاکھا رانی سے کیا۔ اُنہوں نے 1942 سے 1944 تک اُستاد اُدھے شنکر کی المورا ڈانس اکیڈمی میں تربیت حاصل کی تھی۔ فلموں میں اپنے کیرئر میں اُنہوں نے بطور اداکار کُل 17 فلموں میں کام کیا اور اُن میں سے 8 فلمیں انہوں نےخود ڈائریکٹ کیں اور یہی فلمیں اُن کی سب سے بہترین فِلمیں بھی ثابت ہوئیں۔ ان کی مشہور فلموں میں ’صاحب، بیوی اور غلام‘ اور ’چودہویں کا چاند‘ بھی شامل ہیں جو انہوں نے خود ڈائریکٹ نہیں کیں تھیں۔
اگر گرو دت کی چار فلموں کو بےمثال کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ان میں دو تو کامیڈیز تھیں اور دو ٹریجیڈیز۔ گرو دت کے کام کرنے کا طریقہ ہی کچھ ایسا تھا کہ پہلے ایک کامیڈی بناتے اور اُس کے فورا بعد ایک سنجیدہ فلم بنانا شروع کر دیتے۔ ’ آر پار‘ اور ’مسٹر اینڈ مسز ففٹی فائیو‘ ہندوستانی فِلموں کی یادگار کامیڈیز میں سے ہیں جبکہ’پیاسا‘ اور’ کاغذ کے پھول‘ نہ صرف ہندوستانی بلکہ عالمی سنیما کی دو نہایت ہی اہم فِلمیں مانی جاتی ہیں۔ اِن دو فِلموں میں سے’پیاسا‘ نہ صرف زیادہ مقبول رہی بلکہ ایک وہ بہتر فِلم بھی ہے۔ ’پیاسا‘ کو یوں تو ٹریجیڈی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ فِلم کا ہیرو آخر میں نہ صرف ایک نئی زندگی شروع کرتا ہے بلکہ وہ اپنے آپ کو کلاس، فیملی اور کمیونٹی کے بندھن سے آزاد کر پاتا ہے۔ پیاسا میں گرو دت نے ایک اُداس شاعر کو مسیحا بنا کر پیش کیا۔ ایک ایسا مسیحا جس کی سماجی موت ہی اُس کی حیات کا سبب بنتی ہے۔ گرو دت نے اِپنی زندگی خود ختم کر کے موت اور آزادی کے رشتے کی اُسی کشمکش کا اِظہار کیا جو اُن کی فلم’پیاسا‘ میں نظر آتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||