BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 July, 2006, 08:23 GMT 13:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بے معنی جنسی تعلقات کا المیہ

’دی ایڈونچر‘
قدرے مزاحمت کے بعد کلاڈیا اپنی سہیلی کے بوائے فرینڈ کی پیش رفت کو قبول کرنے لگتی ہے
مائیکل انتونیونی کی یہ فلم ان کی دوسری کئی فلموں کی طرح پیچدہ اور ایسی سنجیدہ فلم تصوّر کی جاتی ہے جو عام طور پر زندگی کے ایسے مسائل کے بارے میں ہے جن کا شکار کم و بیش ہم سب ہوتے ہیں لیکن ہمیں ان کی نوعیت اور اہمیت کا اندازہ ہی نہیں ہو پاتا۔

مختصراً مائیکل انجلو انتونیونی کی یہ فلم خود کو تلاش اور محسوس کرنے کے ایسے مرحلے کی عکاسی کرتی ہے جس میں جنسی تعلقات واحد راستہ بن جاتے ہیں۔ انتونیونی کے کردار نان کمٹڈ یا تعلق و جذبات سے خالی جنسی تعلقات قائم کرتے ہیں اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔

انتونیونی دنیا کے ان اہم ڈائریکٹروں میں سرِ فہرست میں سے ہیں جنہوں نے نہ صرف اٹلی کے سنیما میں نئی حقیقت پسندی یا نیو ریلزم کو درجۂ کمال تک پہنچایا بلکہ اس رحجان کے عروج پر جدید دور کی ابتدا بھی کی اور ’دی ایڈونچر‘ صرف فلموں کےجدید دور ہی کی ایک اہم فلم نہیں ہے بلکہ اب تک بننے والی اہم ترین فلموں میں ایک ہے۔

انتونیونی کی جدیدیت دوستوسکی سے شروع ہو کر سارتر اور کامیو کے اتصال پر ختم ہونے والی جدیدیت ہے۔ ایک طرح سے ہم اسے ضدوں کا اکٹھا ہونا یا اجتماع ضدین بھی کہہ سکتے ہیں۔

اس فلم سے ہمیں یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ وجودیت جسے بہت سے سرکردہ لوگ ایک زمانے تک بے مقصدیت اور بے جا پیچیدگی سے تعبیر کرتے تھے کس طرح اور کس حد تک ہماری زندگیوں کا حصہ ہے اور تھی۔

اگر کوئی فلم اکثر لوگوں کو درپیش مسائل کے بارے میں ہوتی ہے تو پیچیدہ کیسے ہو جاتی ہے؟ انتونیونی اس سوال کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’عام طور پر جو مسائل بڑے سمجھے جاتے ہیں وہ اس لیے بڑے نہیں ہوتے کہ ان کی شکل و صورت کچھ مختلف ہوتی ہے بلکہ اس لیے بڑے ہوتے ہیں کہ ہمیں ہر وقت درپیش رہتے ہیں لیکن ہم انہیں اہم سمجھنے اور تصور کرنے پر تیار نہیں ہوتے‘۔

نقادوں کا کہنا ہے کہ ’انتونیونی مشکل سوال اٹھاتے ہیں اور کہانی کو اس طرح دکھاتے ہیں کہ ہم آسانی سے کوئی نتیجہ نہیں نکال سکتے‘۔ اسی بنا پر کچھ نقاد ان کی فلموں کو مبہم بھی قرار دیتے ہیں۔

انتونیونی
آنا اور ساندرو کے مرکزی کردار ہیں

اب سوال یہ ہے کہ انتونیونی کی فلمیں اگر مبہم، پیچیدہ اور دشوار ہوتی ہیں تو انہیں دنیا بھر میں دیکھا کیوں جاتا ہے اور جہاں تک مجھے علم ہے ان کی کوئی فلم ایسی نہیں جسے ان معنوں میں ناکام قرار دیا جا سکے کہ اسے اتنے دیکھنے والے بھی نہ ملے کہ آئندہ کوئی فلمساز انتونیونی کے کسی فلم پر پیسے لگانے پر ہی تیار نہ ہو۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ انتونیونی کی فلمیں صرف ان لوگوں ہی کے لیے اہم نہیں ہیں جو فلم کو سب سے وسیع اور سنیجیدہ ترین تخلیقی ذریعۂ اظہار سمجھتے ہیں بلکہ ان کے لیے بھی اہم ہیں جو فلم کو ایک بامقصد تفریح سمجھتے ہیں۔

’دی ایڈونچر‘ یا ’مہم‘ کی کہانی میں دولت مندوں کا ایک گروہ جو چار عورتوں چار مردوں پر مشتمل ہے سسلی کے ایک قریبی جزیرے پر تفریح کے لیئے جاتا ہے۔ جزیرے پر جا کر ایک لڑکی آنا (لی ماسیری) اچانک لاپتہ ہو جاتی ہے۔ پہلے تو اسے وہیں اور پھر آس پاس کے جزیروں پر تلاش کیا جاتا ہے لیکن اس کا کوئی پتہ نہیں چلتا۔ اس تلاش کے دوران لوگ کس کس رویّے کا اظہار کرتے ہیں اور اپنی ایک ساتھی کے گم ہونے کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ فلم کی کہانی اسی بارے میں ہے اور انتونیونی نے اس تلاش کو اس طرح پیش کیا ہے کہ تمام کردار آہستہ آہستہ خود اپنے آپ کو تلاش کرتے ہوئے محسوس ہونے لگتے ہیں۔

ہم آخر تک یہی سمجھتے ہیں کہ فلم آنا اور اس کی گمشدگی کے بارے میں ہے۔ کسی بھی وقت کوئی انکشاف ہوگا اور کہانی کوئی ڈرامائی موڑ لے گی جس کے بعد آخر یہ اسرار کھل جائے گا کہ آنا کے ساتھ کیا بیتی؟

اکثر فلموں میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ کہانی کار اور ڈائریکٹر جیسے جیسے فلم آگے بڑھتی ہے کچھ ایسے اشارے بھی چھوڑتے جاتے ہیں جنہیں فلم بین اپنے ذہن میں محفوظ کرتے جاتے ہیں اور ایک متوقع نتیجہ بھی ترتیب دیتے جاتے ہیں اور جب فلم ختم ہوتی ہے تو نہ صرف ان کا وقت اچھا گزر چکا ہوتا ہے بلکہ انہیں یہ احساس بھی ملتا ہے کہ وہ کس حد تک فلم کو سمجھنے کے قابل ہیں۔

لیکن دی ایڈونچر میں ایسا نہیں ہوتا۔ فلم کسی سنسنی خیزی کے بغیر ختم ہو جاتی ہے۔ جب فلم ختم ہوتی ہے تو فلم کے دو مرکزی کردار کلاڈیا (مونیکا وٹی) اور ساندرو (گیبرئل فرزیٹی) اس حد تک ایک دوسرے کو جان جاتے ہیں کہ ان میں حقیقی قربت کی موجودگی محسوس ہونے لگتی ہے اگرچہ اس میں بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ کلاڈیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ ساندرو قابلِ اعتبار نہیں ہے بالآخر اسے قبول کیوں کر لیتی ہے؟

لا پتہ ہونے سے پہلے آنا ساندرو کو بتاتی ہے کہ اسے ساندرو سے کوئی دلچسپی نہیں ہے

انتونیونی کی فلم میں کوئی بھی کردار نام نہاد ’بااصول زندگی‘ کا نمائندہ نہیں ہے۔ آنا بظاہر ساندرو سے تعلق رکھتی ہے لیکن یہ تعلق جنسی قربت تک میں جذبات اور یکسوئی سے خالی ہے۔ جب آنا پکنک پر جانے کے لیئے کلاڈیا کے ساتھ ساندرو کو لینے کے لیئے آتی ہے تو اس کے گھر پر پہنچ کر اس ارادہ تبدیل ہو جاتا ہے اور وہ پکنک پر نہ جانے کا فیصلہ کر لیتی ہے لیکن جب ساندرو اوپر سے انہیں آواز دے کر بتاتا ہے کہ وہ نیچے آ رہا ہے تو اس کا ارداہ پھر تبدیل ہو جاتا ہے اور وہ نیچے اس انتظار کرنے کی بجائے اوپر چلی جاتی ہے لیکن جب وہ ساندرو کے فلیٹ میں داخل ہوتی ہے تو اس سے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ ساندرو کچھ کپڑے چھپا رہا ہے اور جب ساندرو آنا کا بوسہ لیتا ہے تو آنا کی سرد مہری عود آتی ہے۔ اس سے پہلے منظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ آنا اپنے والد کو تفریح پر جانے کےبارے میں بتا رہی ہے۔ یہاں چند مکالموں کے ذریعے آنا کا سارا پس منظر بتایا گیا۔

جب آنا اپنے والد کو یہ بتاتی ہے کہ وہ پکنک پر جارہی ہے تو اس کے والد اسے کہتے ہیں کہ اب وہ ریٹائر ہونا چاہتے ہیں۔ اپنی سفارتی ذمہ داریوں سے بھی اور آنا کی ذمہ داریوں سے بھی اور اس کے ساتھ ہی وہ آنا کو متنبہ کرتے ہیں کہ اس کا بوائے فرینڈ (ساندرو) اس سے شادی نہیں کرے گا۔ وہ اپنے والد کے اس تبصرے کو پسند نہیں کرتی لیکن یہ بات صرف ایک تاثر کے ذریعے ظاہر کی گئی ہے۔

یہ مکالمہ ساندرو سے آنا کی سرد مہری کا اشارہ ہے۔ اس کے باوجود وہ ساندرو سے جسمانی قرب حاصل کرتی ہے لیکن ایسے جیسے وہ کوئی بلا خواہش کام کر رہی ہو۔

فلم کی سنیما ٹو گرافی مسلسل احساس دلاتی ہے کہ فلم کو اس اوّل سطح سے ہٹ کر بھی دیکھا جائے

فلم میں اس طرح تجسس کو زندہ رکھنے کے لیئے خاصا اہتمام ہے۔ اس کے بعد جب جزیرے تک پہنچنے سے پہلے آنا سمندر میں تیرنے کے لیئے اور اس کی وجہ دوسرے لوگ بھی اترتے ہیں تو کلاڈیا ان میں شامل نہیں ہوتی، اس وقت تک کلاڈیا نے ساندرو کو اپنی سہیلی کا بوائے فرینڈ ہی سمجھا ہے لیکن جب آنا لاپتا ہو جاتی ہے تو اس کی تلاش کے چند دن بعد ہی ساندرو کلاڈیا کی طرف جسمانی پیش رفت شروع کر دیتا اور جب قدرے مزاحمت کے بعد کلاڈیا اس کی پیش رفت کو قبول کرنے لگتی ہے تو ساندرو ایک ہوٹل میں قیام کے دوران ایک طوائف کی طرف مروجہ ہو جاتا ہے اور کلاڈیا اسے جسمانی قربت کی حالت دیکھ لیتی ہے۔ اس کے بعد ساندرو پشیمان ہوتا ہے۔ کیوں؟ اور آخر کلاڈیا ایک بار پھر اس کے قریب آ جاتی ہے۔ کیوں؟ فلم اس پر ختم ہوتی ہے۔

عورتوں اور مردوں کے درمیان عدم وابستگی یا نان کمٹمنٹ کے ساتھ یہ جسمانی قربت آنا کی تلاش کے دوران ایک بڑا موضوع ہے کیونکہ اصل موضوع تو شاید وہ غیرانسانیت ہے جو آنا کی گمشدگی کے بعد تمام کرداروں کے رویّوں سے ظاہر ہوتی ہے۔

اس فلم کی سنیما ٹو گرافی ایک الگ اور تفصیل طلب موضوع ہے جو مسلسل احساس دلاتا ہے کہ فلم کو اس اوّل سطح سے ہٹ کر بھی دیکھا جائے۔ یہ فلم کم از کم دوبار دیکھے جانے کا تقاضا کرتی ہے اور ختم ہونے کے بعد بھی ذہن میں گھومتی رہتی ہے۔

گاڈ فادر II
گاڈ فادر II اہم ترین فلم کیوں ہے؟
بہتر کیلیئے بہترین
’سٹی لائٹس‘ بہتر کے لیئے بہترین کیوں؟
سنگنگ ان دی رین بہت ہی مختلف فلم
رقص، موسیقی اور مزاح کے ذریعے تاریخ
ایٹ اینڈ ہالف فلینی ڈر کیوں رہا تھا
فیڈرو فلینی بہت کامیاب تھا اور بہت خوفزدہ
آخر سیٹیزن کین
چھ دہائیوں پر کیسے چھائی ہوئی ہے؟
اسی بارے میں
ایک سو سال میں سو بہترین فلمیں
25 April, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد