بہتر کیلیئے بہترین ’سٹی لائٹس‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا کا کہنا ہے کہ ’سٹیزن کین‘ اب تک عظیم ترین ہے اور سٹیزن کین کے ڈائریکٹر اورسن ویلس کا کہنا ہے کہ ان کے لیئے اب تک کی عظیم ترین فلم ’سٹی لائٹس‘ ہے۔ اس فلم کی فلمبندی 31 دسمبر 1927 میں شروع ہوئی اور 22 جنوری 1931 میں مکمل ہوئی۔ اورسن ویلس سٹی لائٹس کے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں اس سے اتفاق کیا جائے یا نہ کیا جائے لیکن یہ طے ہے کہ چارلی چپلن دنیا کے وہ ایکٹر، ڈائریکٹر اور فلم ساز ہیں جن کی دو فلمیں دنیا میں اب تک بنائی جانے والی دس بہترین فلموں میں شمار کی جاتی ہیں اور ان میں پہلی گولڈ رش ہے اور دوسری ’سٹی لائٹس‘۔ ’سٹی لائٹس‘ کے مداحوں کی تعداد اور اہمیت سے قطع نظر میری ذاتی رائے میں بھی بلا شبہ ’سٹی لائٹس‘ ایک ایسی فلم ہے جو چارلی چپلن کی تخلیقی شخصیت کے تمام پہلوؤں کی نمائندگی کرتی ہے۔ چپلن اس فلم کے پروڈیوسر ہیں۔ انہوں نے یہ فلم ڈائریکٹ کی ہے۔ وہ اس فلم کے مصنف ہیں۔ وہ اس فلم کے مرکزی اداکار ہیں۔ اس فلم کے رقص بھی انہوں نے ترتیب دیئے ہیں اور اس فلم کی موسیقی بھی دی ہے۔ چپلن فلمی دنیا کے وہ آدمی ہیں جن کی کسی فلم کے بارے میں غیر اہم یا ناپسندیدہ ہونے کی بحث نہیں ہوتی بلکہ بحث یہ ہوتی ہے کہ کون سی فلم زیادہ اہم ہے اور کون سی فلم کسی آدمی کے لیے زیادہ پسندیدہ۔
وہ لوگ جو چارلی چپلن کی فلموں کو محض مزاحیہ ہونے کی بنا پر دیکھتے ہیں ’فارگوٹن جم‘ اور ’دی سرکس‘ کو چپلن کی نمائندہ ترین فلمیں تصور کرتے ہیں۔ خود فلمی دنیا کے ماہرین اور نقاد ’دی گولڈ رش‘ اور ’دی گریٹ ڈکٹیٹر‘ کو سنیما کی تاریخ کی اہم ترین فلمیں تصور کرتے ہیں لیکن شاید ’سٹی لائٹس‘ میں پلاٹ سے موسیقی تک مزاح اور دکھ کا ایسا بے مثل امتزاج ہے جس نے فلم کو ناقابلِ فراموش بنا دیا ہے۔ فلم کی کہانی بہت ہی سادہ سی ہے۔ پہلے منظر میں بولتی فلموں اور سیاستدانوں یا شہری رہنماؤں کا مذاق اڑایا گیا ہے جب ہم امن اور خوشحالی کا سب ٹائیٹل دیکھتے ہیں تو اس کا انجام ایک خستہ حال اور بظاہر آوارہ منش کے جاگنے پر ہوتا ہے۔ دوسرے منظر میں یہی آورہ منش سڑک پر جا رہا ہے اور اخبار فروش اس کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ تیسرے منظر میں وہ ایک دکان کے سامنے کھڑا ہے اور اس کے اندر رکھے بے لباس عورت کے مجسمے کو مختلف زاویوں سے اس طرح دیکھنے کی کوشش کر رہا جیسے مجسمے کی فنی حیثیت کا جائزہ لینے کی کوشش کر رہا ہو۔ اس میں وہ اتنا محو ہوتا ہے کہ سب کچھ بھول جاتا ہے لیکن پھر یہ سارا منظر پھول بیچنے والی ایک لڑکی کی آمد میں دب جاتا ہے۔ لڑکی خستہ حال کے قریب پہنچتی ہے اور وہ اس سے عشق بگھارنے کو کوشش کرنے لگتا ہے اسی دوران لڑکی کے ہاتھ سے پھول گر جاتا ہے اور جب وہ پھول کو تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے تو اس خستہ حال کو احساس ہوتا ہے کہ پھول بیچنے والی اندھی ہے۔
وہ اپنی جیب سے آخری سکہ نکالتا ہے اور لڑکی کو دے دیتا ہے۔ اسی دوران ایل لیموزین کے دروازے کے بند ہونے کی آواز سنائی دیتی ہے اور لڑکی سمجھتی ہے کہ جس آدمی نے اسے سکہ دیا ہے وہ کوئی بہت دولت مند ہے۔ اگلے چند منظر میں اس خستہ حال کی ایک انتہائی دولت مند سے اس وقت دوستی ہوتی ہے جب وہ خود کشی کرنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے اور وہ اسے مشورہ دیتا ہے ’کل پرندے گائیں گے، بہادر بنو اور زندگی کا سامنا کرو‘ دولت مند اس خستہ حال کو زندگی بھر کا دوست بنا لیتا ہے اور پھول بیچنے والی لڑکی کا سن کر اسے اپنی لیموزین اور پیسے دیتا ہے اور پھول خریدنے کے لیے بھیجتا ہے۔ وہ پھولوں کی پوری ٹوکری خرید لیتا ہے اور لڑکی کو گھر پہنچانے کی پیشکش کرتا ہے اس سے لڑکی کا یہ خیال اور پکا ہو جاتا ہے کہ اس سے محبت جتانے والا کوئی دولت مند ہی ہے۔ لیکن خستہ حال کا دولت مند دوست دوہری شخصیت کا مالک ہے جب وہ نشے میں ہوتا ہے تو اسے پہچانتا ہے اور جب نشہ اترتا ہے تو اسے پہچانے سے بھی انکار کردیتا ہے۔ اسی حال میں وہ اسے نکال دیتا ہے اور وہ ایک دکان پر کام کرنے لگتا ہے لیکن جب وہ لڑکی سے ملنے جاتا ہے اور لڑکی کے کہنے پر اس کے بستر کے قریب پڑی میز پر پڑا خط پڑھ کر سناتا ہے تو انکشاف ہوتا ہے کہ اگر لڑکی بڑی ماں نے بیس ڈالر ادا نہیں کیئے تو مالکِ مکان انہیں گھر سے نکال دے گا۔ لڑکی کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں وہ اسے تسلی دیتا ہے کل صبح وہ یہ رقم ادا کر دے گا لیکن اسی روز اسے دیر سے جانے پر دکان سے فارغ کر دیا جاتا ہے۔ ایک بار پھر اس بھلکڑ دولت مند دوست سے ملاقات ہوتی ہے اور وہ پھر اسے گھر لے جاتا ہے اور اس سے نابینا لڑکی کا مسئلہ سن کر فوراً ایک ہزار ڈالر نکال کر دیتا ہے لیکن ابھی وہ ڈالر جیب میں رکھتا ہی ہے کو دو چور آ جاتے ہیں اور لیکن جب خستہ حال پولیس کو بلانے جاتا ہے تو وہ بھاگ جاتے ہیں اس تگ و دو میں بھلکڑ کا نشہ اتر جاتا ہے، اور وہ چوری کا الزام اپنے غریب دوست پر لگا دیتا ہے۔ غریب کو احساس ہوتا ہے کہ رقم اس کے جیب میں ہے اس صورت میں دنیا کی کوئی دلیل اس کے کام نہیں آسکے گی۔ اس لیے وہ بھاگتا ہے اور رقم لڑکی کو دے آتا ہے تاکہ وہ گھر کا معاملہ بھی نمٹا لے اور آنکھوں کا آپریشن بھی کرا لے۔
چوری کے الزام میں اسے نو ماہ کی جیل ہو جاتی ہے اور جب وہ جیل سے رہا ہوتا ہے تو لڑکی اور اس کی دادی ماں پھولوں کی باقاعدہ دکان کھول چکی ہیں۔ لڑکی کی بینائی واپس آچکی ہے۔ خستہ حال جیل نکل کر اسی سڑک کی طرف جاتا ہے جہاں اس کی لڑکی سے ملاقات ہوئی تھی۔ ایک بار اسے اخبار فروش لڑکے ملتے ہیں ایک بار پھر وہ اسے پہلے کی طرح تنگ کرتے ہیں اور اس وقت جب وہ گٹر میں گرا ہوا ایک پھول اٹھا رہا ہوتا ہے تو وہ اس کے قمیض پھاڑ دیتے ہیں۔یہ سارا منظر لڑکی بھی دکان سے دیکھتی ہے اور ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو جاتی ہے۔ غریب نوجوان لڑکی کی دکان کی طرف جاتا ہے اور باہر سے لڑکی کو دیکھتا ہے لڑکی دادی کو بتاتی ہے کہ باہر اس کے حسن کا ایک مداح آیا ہے۔ وہ اس مدد کرنے کا سوچتی ہے اور دکان کے باہر آکر غریب کو سفید گلاب کا ایک پھول دیتی ہے اور ایک سکہ، لیکن جب وہ سکہ اس کے ہاتھ پر رکھتی ہے تو اسے ہاتھ کے لمس سے شناسائی کا احساس ہوتا ہے وہ اپنے ہاتھ کو اس کے ہاتھ سے اس کے کوٹ پر لے جاتی ہے اور پہچان لیتی ہے کہ یہ آدمی وہی ہے جس نے ان کی مدد کی تھی۔ یہیں وہ منظر ہے جسے فلمی دنیا میں کسی بھی فلم کے عمدہ ترین اختتام کے طور پر جانا جاتا ہے۔ لڑکی کہتی ہے: تم؟ اسی پُر جذبات منظر پر فلم ختم ہوتی ہے۔ لیکن اس کہانی کو لفظوں میں بیان کرنے سے وہ بات نہیں پیدا ہوتی جو سکرین پر ہے۔ یہی چالی چپلن کی فلم سازی کا حسن ہے کہ انہوں نے اس زمانے میں کیمرے اور دوسری دستیاب فنی سہولتیوں کو اس طرح استعمال کیا کہ اس سے بہتر کیا ہی نہیں جا سکتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے انہیں فلم کی دنیا کا عظیم ترین آدمی شمار کیا جاتا ہے۔ سٹی لائٹس کے آخری منظر کو فلم کی دنیا میں سب سے بہترین اختتام قرار دیا جاتا ہے اس منطر میں ایک ساتھ یاس، امید، خوشی، دکھ، یقین اور بے یقینی کے تاثرات کو بھر پور انداز میں لانے کے لیئے چارلی چپلن نے اس منظر کی 342 مرتبہ فلم بندی کی۔ اس سےس یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جب چپلن اس منظر کی فلمبندی کر رہے تھے تو ان کےذہن میں اس منظر کو بصری تصور موجود تھا اور انہوں نے ساور انہوں نے بار بار کی فلمبندی اسی تصور تک رسائی کے لیے کی۔ اور واقعی چارلی چپلن عظیم تھا اور ہے کیونکہ دنیا اب تک دوسرا چپلن پیدا نہیں کر سکی۔ ہم نے بہت سے مزاحیہ فنکار پیدا کیے، بہت سے فلمساز اور عظیم ترین ہدایت کار پیدا کیے لیکن جو مجموعی احساس اور شعور چپلن میں تھا وہ دنیا بھر کی فلمی صنعت میں آنے والے کسی اور فلمساز اور ہدایتکار میں نہیں دیکھا گیا۔ اور ’سٹی لائٹس‘ چپلن کی مکمل تصویر ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اورسن ویلس ’سٹی لائٹ‘ کو دنیا میں اب تک بننے والی عظیم ترین فلم قرار دیتے ہیں اور وہی یہ بات کہہ سکتے ہیں کیونکہ انہیں ہی اس دور میں یہ کہنے کا مقام حاصل ہے۔ |
اسی بارے میں چھ دہائیوں پر چھائی ہوئی فلم 19 January, 2006 | قلم اور کالم وہ فلم جسے تاریخ نے بڑا بنایا27 May, 2006 | فن فنکار ایک صدی کی سو بہترین فلمیں19 January, 2006 | قلم اور کالم ’رف جسٹس‘ نہ گائیں: چینی حکام08 April, 2006 | فن فنکار 376 بدقسمت ہندوستانیوں پر فلم27 February, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||