چارلی چپلن کی ’دی گولڈ رش‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ فلم اس زمانے کے حوالے سے ہے جب اکثر امریکیوں کو راتوں رات امیر کبیر ہوجانے کا بخار چڑھ گیا تھا اور امریکی صدر جیمز پولک نے کانگریس کو سامنے سونے کے ملنے کی تصدیق بھی کر دی تھی۔ یہ 1848 کی بات ہے۔ اس وقت جو بھگدڑ مچی تھی اسے ’گولڈ رش‘ کے نام یا اصطلاح سے یاد کیا جاتا ہے۔ اور بہت سے لوگوں کی طرح ایک غریب اور بے روزگار نوجوان (چارلی چپلن) جس پر جوانی ہی میں بڑھاپے کے آثار ہیں اور جو ایک خاص طرح کی بے ڈھب وضع رکھتا ہے سونے کی تلاش میں پہاڑ پر چکرا رہا ہے اور برفباری کے طوفان سے بچنے کے لیے کوئی جگہ ڈھونڈ رہا ہے۔ پہاڑ کی چوٹی پر اسے ایک کیبن دکھائی دیتا ہے جس میں پہلے سے بگ جیم موجود ہے۔ بگ جیم نوجوان کے برخلاف ایک بڑے قد کاٹھ کا ایسا آدمی ہے جو دیکھنے ہی سے خطرناک آدمی لگتا ہے۔ تھوڑی سے کشاکش کے بعد دونوں کو احساس ہو جاتا ہے کہ ان کے پاس ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے لیکن جلد ہی ان کے پاس کھانے کی ہر چیز ختم ہو جاتی ہے۔ فلم کے اس حصے کا سب سے عمدہ اور شاید فلم اور فن کی دنیا کا سب سے عمدہ حصہ وہ منظر ہے جس میں بھوک سے نمٹنے کے لیے چارلی چپلن اپنا جوتا ابالتا ہے اور دونوں اسے کھاتے ہیں۔
بگ جیم اس جوتے کو دیکھ کر یہ سمجھتا ہے کہ وہ کوئی جوتا نہیں ایک بہت بڑی مرغی ہے جس کا سوپ بنایا گیا ہے جو وہ پی رہے ہیں اور گوشت ہے جو وہ کھا رہے ہیں۔ اس منظر کی تلخی کے ذریعے انسان کے اندر موجود حالات سے مفاہمت کے جس پہلو کو دکھایا گیا ہے وہ شاید فنونِ لطیفہ میں نہ تو اس سے پہلے اتنے طاقتور انداز سےدکھایا گیا تھا اور نہ ہی اس کے بعد اب تک دکھایا جا سکا ہے۔ اس کا ہم پلہ منظر ہومر کا اوڈیسی کا وہ حصہ ہے جب اوڈیسیوس کے ساتھیوں نے بھوک سے تنگ آ کر اپنے ہی مرنے والے ساتھیوں کو کھانا شروع کر دیا تھا اور ہومر نے یہ بے مثال جملہ لکھا کہ ’وہ روتے جاتے تھے اور اپنے ہی ساتھیوں کا گوشت کھاتے جاتے تھے۔‘ میرے خیال میں انسانی المیہ اس سے آگے نہیں جا سکتا لیکن چپلن کا المیہ ایسا ہے کہ روتے ہوئے ہنسی اور ہنستے ہوئے رونا آتا ہے۔ ہومر اور چپلن میں شاید یہی فرق ہے۔ فلم کا دوسرا حصہ جو ایک دوسری نوع کے المیے کا اظہار ہے محبت کے بارے میں ہے۔ اس حصے میں چارلی چپلن جورجیا سے محبت میں مبتلا ہو جاتا ہے اور نئے سال کی دعوت پر اسے اور اس کے دوستوں کو بلاتا ہے۔ اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے اور اس نے دعوت کا سامان خریدنے کے لیے دکانوں کے سامنے جمی برف ہٹا کر اتنی رقم جمع کر لی ہے کہ لڑکی کے لیے روسٹ چکن اور کچھ دوسری اشیاء خرید سکے۔ مہمانوں کی آمد سے پہلے اس نے کیبن کو اور ایک چھوٹی سے میز کو سجایا ہے۔ شوق کا عالم یہ ہے کہ تیاری کا سارا کام وقت سے بہت پہلے ختم ہو چکا ہے۔ اب اس کی حالت بالکل ویسی ہی تھی جیسی دوستوفسکی کے کردار پرنس میشکن کی اس وقت تھی جب اس نے نستاسیا فلی پونا سے صبح کی سیرکے وقت باغ میں ملنے کا طے کیا تھا اور رات ہی سے باغ میں جا کر بیٹھ گیا تھا کہ کہیں دیر نہ ہو جائے۔ لیکن جب دن طلوع ہونے کو تھا تو انتظار کی تاب دم توڑ گئی اور جب نستاسیا آئی تو اس نے پرنس کو سوتا ہوا پایا۔ اسی طرح چپلن بھی مہمانوں کے انتظار میں میز کے پاس بیٹھا بیٹھا سو جاتا ہے۔
سوتا ہے اور خواب میں چلا جاتا۔ خواب میں اس کی دعوت شروع ہوتی ہے۔ اس کی مہمان اپنے دوستوں کے ساتھ آ چکی ہے اور وہ انہیں خوش کرنے کے لیے تحفے دے رہا ہے اور لطیفے سنا رہا ہے۔ اس کے بعد وہ ڈبل روٹی کے ایک رول میں دو کانٹے اس طرح پھنساتا ہے کے وہ اس کے جوتوں کی سی شکل اختیار کر لیتے ہیں جس کے بعد وہ ایک انوکھا سا رقص شروع کرتا ہے اور میز پر بیلے کے مختلف سٹپ یا انداز پیش کرتا ہے۔ اس موقعے کی لائیٹنگ اور فریمنگ انتہائی تخلیقی ہے۔ جورجیا اور اس کے دوست اس کے رقص سے جب بہت لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں تو اس کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ آنکھ کھلتی ہے تو وہ خود کو میز کے قریب اکیلا پاتا ہے۔ رات آدھی کے قریب بیت چکی ہے لیکن نہ تو جورجیا آئی ہے اور نہ ہی اس کے دوست، شاید انہیں تو یہ بھی یاد نہیں رہا کہ انہیں کسی کی دعوت میں جانا تھا۔ وہ کیبن کی کھڑکی میں جاتا ہے اور باہر قصبے کے کانکنوں اور جورجیا اور دوسرے لوگوں کو ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے گانا گاتے دیکھتا ہے۔ گانا ختم ہوتا ہے تو خوشی کے اظہار کے لیے ہوائی فائرنگ کی جاتی ہے جو اس کے اداسی اور اکیلے پن کا تضاد ہے۔ انیس سو پچیس میں بنائی جانے والی 80 منٹ کی یہ فلم چپلن کے اُن الفاظ کی عکاسی کرتی ہے جو انہوں نے ایک بار اپنی خود نوشت سوانح کے بارے میں کہے تھے ’غیر ارادی مزاح‘ ۔ مجھے نہیں پتہ کے مغربی فلسفی اور مفکرین چپلن اور ان کی فلموں کو اپنی سنجیدہ فکر کے دھارے سے کس طرح جوڑتے ہیں۔ میری کم علمی ہے کہ میں نے اب تک کوئی ایسی تحریر نہیں دیکھی جو ان کے اس پہلو کو اجاگر کرتی ہو لیکن مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ وجودی تنہائی اور ’ناراض نوجوان‘ کے تصور کا روپ دھارنے والی فکر اگر تمام کی تمام چپلن کی فلموں کے اثر سے پیدا نہیں ہوئی تو اس نے اسے شکل دینے میں اہم کردار ضرور ادا کیا ہو گا۔ چارلی چپلن ضرور بہت جلد ایک خوشحال و مشہور آدمی ہو گئے اور محترم بھی تسلیم کیے گئے لیکن وہ اپنے بچن کی غربت اور ہزیمت کو کبھی فراموش نہیں کر سکے اور شاید وہ ایسا کرنا بھی نہیں چاہتے تھے۔
شاید ’گولڈ رش‘ کے لیے ’المناک طربیہ‘ یا ٹریجک کامیڈی کی اصطلاح زیادہ مناسب ہو اگرچہ اس میں ایک تضاد ہے لیکن المیے اور طربیے کا یہی جدل شاید اس چارلی چپلن کا وہ جوہر ہے جو تاریخ کا اثاثہ ہے۔ اس فلم کی جو شکل اب عام دستیاب ہے وہ 1942 میں جاری کی گئی تھی۔اس کے لیے چپلن نے نہ صرف یہ کہ فلم کے تمام ٹائٹل کارڈ اور موسیقی تبدیل کی بلکہ ساؤنڈ ایفکٹ یا صوتر تاثرات اور نیریشن و کمنٹری بھی تبدیل کر دی۔ کہا جاتا ہے کہ بظاہر چپلن نے یہ تبدیلیاں کاپی رائٹ ایکٹ کے لیے کیں لیکن فنی طور پر بھی 1925 کی فلم اور 1942 کی فلم میں بہت فرق ہے اور نقاد اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ چپلن نے 1942 میں دستیاب سہولتوں سے بھر پور فائدہ اٹھایا ہے حالانکہ یہ دوسری عالمی جنگ کا زمانہ تھا۔ لیکن دونوں فلموں میں ایک فرق بہت نمایاں ہے۔ پہلی فلم کا اختتام اس طرح ہوتا ہے کہ فلم کے آخری منظر میں فوٹوگرافر چپلن اور جورجیا کی تصویریں بنارہے ہیں اور اور دونوں ایک دوسرے کا پُر جوش اور طویل بوسہ لے رہے ہیں جب کہ 1942 کی فلم سے یہ منظر غائب ہے اور اس کی بجائے فلم اس پر ختم ہوتی ہے کہ دونوں سیڑھی نما مقام پر ایک دوسرے سے جدا ہو رہے ہیں اور چپلن اپنی پُر مزاح آواز میں یہ جملہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ دونوں آگے کہیں مستقبل میں ایک ہو جائیں گے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چپلن نے شاید یہ محسوس کیا تھا کہ مجموعی طور پر ان کی فلم کے لیے طویل بوسے پر اختتام کا منظر ضرورت سے زیادہ پرمسرت انجام ہے۔
اس کے علاوہ یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ چپلن کے ذہن پر 1925 سے 1942 کے زمانوں کا فرق شاید بری طرح سوار تھا اور انہوں نے ان زمانوں کے درمیان آنے والی تبدیلیوں ہی کو نہیں ان کی رفتار کو بھی ذہن میں رکھا اور کچھ آگے کے بارے میں سوچنے کی کوشش بھی کی۔ لیکن چارلی چپلن کی پہچان شاید فلمی تکنیک پر ان کی دسترس نہیں ہے ان کی اداکاری اور وہ سوچ ہے جس نے فلم کے بے آواز زمانے کو ہمیشہ کے لیے ناقابلِ فراموش اور یادگار بنا دیا۔ |
اسی بارے میں ’رف جسٹس‘ نہ گائیں: چینی حکام08 April, 2006 | فن فنکار 376 بدقسمت ہندوستانیوں پر فلم27 February, 2006 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||